ہائیکورٹ نے ضلعی عدلیہ ملتان میں کی گئی تمام بھرتیاں کالعدم قراردیدیں 

ہائیکورٹ نے ضلعی عدلیہ ملتان میں کی گئی تمام بھرتیاں کالعدم قراردیدیں 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد جمیل خان نے ضلعی عدلیہ ملتان میں کی گئی تمام بھرتیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے بھرتیوں کی بے ضابطگیوں میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے رجسٹرار کوحکم دیا ہے کہ پنجاب بھر کی ماتحت عدلیہ میں ہونے والی تمام بھرتیوں کا ریکارڈ اورغیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کامعاملہ لاہورہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے روبرو رکھا جائے، عدالت نے اپنے فیصلے میں جونیئر کلرک، تعمیل کنندہ، نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیوروں کی بھرتیاں خلاف قانون اور کالعدم قرار دی ہیں،عدالتی فیصلہ میں مزیدکہاگیاہے کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کی دھجیاں بکھیری گئیں، مشتہر اسامیوں سے زیادہ بھرتیاں کرنا میرٹ کی خلاف ورزی ہے، ایسے افراد کو بھرتی کیا گیا جن کی درخواستیں مسترد ہو گئی تھیں، عدالت نے ضلعی عدلیہ ملتان کے ذمہ داران کے بیانات کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے، عدالت عالیہ میں علی شیر خان سمیت دو امیدواروں نے ضلعی عدلیہ ملتان میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کو چیلنج کیاتھاان کا موقف تھا کہ اشتہار کے مطابق بھرتیاں مکمل کرنے کے بعد ایک ویٹنگ لسٹ بنائی گئی اور بعد میں مزید اسامیاں پیدا کرکے اس ویٹنگ لسٹ میں سے لوگوں کا تقررکردیاگیا۔

کالعدم قرار

مزید :

صفحہ آخر -