پولیس، کرپشن اور ہمارا معاشرہ

پولیس، کرپشن اور ہمارا معاشرہ
پولیس، کرپشن اور ہمارا معاشرہ

  

ہمارے ملک کی پولیس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ پولیس، تھانہ اور کچہری میں شریف لوگ نہ صرف جانے سے گھبراتے ہیں بلکہ کسی چوراہے پر بھی کوئی کانسٹیبل نظر آجائے تو عوام مجبوراً اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت سرائیت کرچکی ہے۔ ممبران اسمبلی کا کیسز اور ٹرانسفر پوسٹنگ پر اثر انداز ہونا پولیس اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اپنا ہر جائز و ناجائز کام کروانے کے لیے پولیس کو استعمال کرتی ہے۔ پولیس کی جانب سے بھتہ نہ ملنے پر بے گناہ شہریوں کے قتل اور جھوٹے مقدمات کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ چوروں اور لٹیروں کو ان کی پشت پناہی حاصل   ہوتے ہے۔ رشوت کی تو بات ہی مت کیجیے، چائے پانی کے نام پر عوام سے موٹی رقم بٹوری جاتی ہے۔ پولیس کو بنانے کا مقصد ایسی ٹیم کا قیام تھا جو نہ صرف قوانین پر عمل درآمد کرواسکے بلکہ شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے، مگر ہمارے معاشرے میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ عوام اپنے حقوق لئے بھی پولیس کا پاس جانے سے  گھبراتے ہیں، کیونکہ انہیں چور، ڈاکوؤں اور مافیا سے زیادہ پولیس اہلکاروں سے خوف آتا ہے۔ چندروز قبل ایس ایس پی سی آئی اے لاہور شعیب خرم جانباز اور ان کے ایک ماتحت انسپکٹر حسین حید ر کا تبادلہ کیا گیا ہے تبادلے کے روز شہر کے ذمہداران افسران سے اچانک تبادلے کی بات کی گئی تو سبھی نے اس پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہی موقف اختیار کیا کہ سی آئی اے سیل نے بڑے عرصے بعد کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں اگر یہ کہا جائے کہ اس کمانڈر نے سی آئی اے کا زنگ اتار کر ٹیم کو صحیح سمت پر ڈال دیا تھا،لاہور پولیس کے سربراہ نے کہا کہ تبادلے کے لیے مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور میں اس بارے میں آئی جی صاحب سے بات کرونگا،لیکن اگلے ہی روز شہر میں کچھ مخصوص لوگوں نے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا کہ ان دونوں کی فراغت کا مقصد کرپشن ہے،بھائی اگر یہ واقعی کرپٹ تھے تو ان کا احتساب ہو نا چاہیے پھر معافی کس چیز کی؟افسران بالا کے خاموش رہنے کا مقصد کہ بھائی کیا آپ بھی ان کے حصے دار تھے،ماتحتوں میں تو کسی نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی،ذرائع کے مطابق وہ کرپٹ ہیں یا نہیں البتہ سیٹ پر براجمان رہنے کے لیے وہ کمزور ضرور تھے،کسی کو بلاوجہ بدنام یاالزام تراشی اچھی بات نہیں اگر حقائق پر مبنی شکایات ہیں تو یہ عوام کے سامنے آنی چاہیں پولیس کے نظام میں کافی اصلاحات ہونا باقی ہیں، لیکن اداروں پر بلاجواز تنقید کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ مسائل کے پیچھے چھپی اصل وجوہات کو جاننا نہایت ضروری ہے۔ہمارے معاشرے میں بچوں کی تعلیم وتربیت کیلیے نرم اور شائستہ رویے سے کام لیا جاتا ہے، کیونکہ سختی سے بچے ضدی اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی مثال پولیس کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرف سے کرپٹ، بے ایمان اور رشوت خور کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ جس سے پولیس اہلکاروں کے رویے میں سختی اور چڑچڑا پن عام فہم بات ہے۔ پولیس اہلکاروں کے رویوں میں کڑواہٹ کی اصل وجہ معاشرے میں ہر طرف سے ملنے والی نفرت ہے۔ دونوں جانب سے بڑھتی ہوئی نفرت معاملات کو سلجھانے کے بجائے حالات کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہی ہے۔ ایک عظیم چینی مفکر کا کہنا ہے کہ آنکھ والا وہ ہے جو اپنے آپ کو دیکھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تقریباً ہر شخص اندھا ہے۔ ہم لوگ صرف دوسروں کو ہی برا بھلا کہنا جانتے ہیں، کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ غیر قانونی کام میں رشوت لینا اور دینا تو بعد کی بات ہے، ہر روز ہزاروں افراد اپنے قانونی کام کروانے کیلیے بھی پیسوں کی پیشکش کرتے ہیں۔ ہر شخص نجانے کس جلدی میں ہے۔ پورا معاشرہ دوڑ میں ہے کہ جلد سے جلد ان کا کام ہوجائے۔ اس قوم میں انتظار کرنے کی عادت بالکل ختم ہوچکی ہے۔ پولیس کو رشوت کی لت لگانے میں معاشرے کے شرفا کا اہم کردار رہا ہے۔ پولیس کرپٹ نہیں، دراصل پورا معاشرہ کرپٹ ہے، جو اپنے کام نکلوانے کیلیے ہر جائز اور ناجائز راستہ اپناتا ہے۔ پولیس کے کرپٹ کردار کے اصل ذمے دار ہم خود ہیں۔چ دھوپ میں چوراہے پر کھڑا وارڈن جب کسی شہری کو روک کر لائسنس یا ضروری کاغذات طلب کرتا ہے تو حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا ہے۔ اکثریت کی کوشش ہوتی ہے کہ منت سماجت سے ہی کام بن جائے، لیکن اگر پھر بھی بات بنتی مشکل دکھائی دے تو بند مٹھی کے سلام کا آخری حربہ اپنایا جاتا ہے۔ کرپشن اور بے ایمانی کا راگ الاپنے والی قوم کی اس حالت پر صرف ترس ہی کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -