قومی ہم آہنگی۔۔۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ! 

قومی ہم آہنگی۔۔۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ! 
قومی ہم آہنگی۔۔۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ! 

  

تحریک انصاف کی قیادت کو ملکی معاملات بہتر طریقے سے چلانے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ اپنے تمام معاملات کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے ،آئندہ چند ماہ ملکی سیاست کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان  میں برسر پیکار امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے کو ہے۔ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد  افغانستان میں خانہ جنگی میں اضافہ ہو گا جس کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے۔اسی لیے ملک میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔

ملکی سلامتی، خود مختاری، معیشت، انتخابی اصلاحات، علاقائی اور عالمی تعلقات سمیت قومی اہمیت کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جو حکومت اور اپوزیشن میں ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔  تحریک انصاف کی طرف سے حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ خوش آئند امر ہے۔ جمہوری نظام میں پارلیمان کے دونوں فریق اصولی اختلاف کے باوجود رابطہ کاری میں رہتے ہیں مگر ہمارے ہاں تعلق کی اس نوعیت میں توازن قائم نہ رہنے کی پرانی روایت ہے اور جمہوری عمل پر اس کے منفی اثرات بھی ڈھکے چھپے نہیں، چنانچہ پارلیمانی دھڑوں میں ورکنگ ریلیشن کی جانب پیش رفت کی معمولی جھلک کو بھی ایک روشن امکان کی طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

انتخابی اورجمہوری اصلاحات کے لئے حکومت نے اپوزیشن کوساتھ لے کر چلنے کا اشارہ دے کر حکومت اور اپوزیشن کے مابین جمہوری اور پارلیمانی ہم آہنگی کی توقع پیدا کی ہے۔ پارلیمان کے  تمام فریقوں میں رابطہ کاری جمہوری عمل کے ثمرات اور قومی مفادات کے لئے بہت ضروری ہیں۔اصولوں کی بنیاد پر اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہوتا ہے لہٰذا اس کی نوعیت ایک دوسرے کا راستہ روکنے اور ٹانگیں کھینچنے سے مختلف ہونی چاہیے۔ جمہوری، سیاسی اور پارلیمانی اختلاف کو اگر حکومت اورحزبِ اختلاف میں تقسیم کر کے دیکھا جائے تو اس کی صحت مندانہ صورت یہ ہو گی کہ یہ اختلاف اختیارات کا توازن قائم رکھنے کا مقصد پورا کرتا نظر آئے اور ایسا ماحول تشکیل دے جس میں حکومت اپنے اختیارات کے ساتھ مطلق العنانیت کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ اصولی طور پر یہی سبب حکومت کے ساتھ حزبِ اختلاف کے وجود کی ناگزیریت کو ثابت کرتا ہے مگر ہمارے ہاں اس توازن کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں، اس حوالے سے حکومت کو اپنی من مرضی کرنے کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنانا چائیے تاکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں اگر اس کے برعکس کام کیا گیا تو یہ صورتحال باعثِ تشویش ہو گی۔ ہمارے ہاں حکومت اور حزبِ اختلاف میں بہتر رابطہ کاری اور قومی اہمیت کے مسائل میں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے کا فقدان ہے۔اگرچہ حکومت اور حزبِ اختلاف پارلیمان کی گاڑی کے دو پہیے ہیں تو دونوں میں ایک توازن قائم کیے بغیر اس سسٹم کوچلانا ممکن نہیں ہو گا،  اگر پارلیمان ہی اپنے آپ میں متوازن نہ ہو تو قومی سطح پراس کے اثرات سے کیسے بچا سکتاہے؟ ابھی ہفتہ عشرہ پہلے قومی اسمبلی کے ایوان میں جو ناخوشگوار حالات برپا ہوئے، یہ اسی عدم توازن کے نتائج ہیں۔ بجٹ اجلاس قومی مقاصد اور مستقبل کی پالیسی، سمت اور رفتار پر غور و فکر کا مرحلہ اور ملک و قوم کا معاشی رخ متعین کرنے کا موقع ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس قیمتی وقت کو جس طرح استعمال میں لایا گیا، یہ پوری قوم کے لیے باعثِ تشویش تھا۔ بہرکیف غلطیوں میں اصلاح کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں قومی اور سیاسی سطح پر یگانگت کی جتنی ضرورت اس وقت ہے، شاید ماضی قریب میں اتنی کبھی نہیں رہی۔ افغانستان کا منظر  اور اس حوالے سے پاکستان کا بر محل موقف،عالمی سطح پر پاکستانی تشخص کو اجاگر کرنے کا عزم، معاشی صورتحال کی بہتری کی تمنا، انتخابی اصلاح کی جانب پہل، علاقائی اور عالمی سیاست میں پاکستان کا موقف، ان سبھی اہم معاملات سے نمٹنے اور قومی ترقی کے مقاصد اور غیرتِ قومی کے تقاضے مضبوط اور مؤثر پارلیمان کا تقاضا کرتے ہیں۔منتشر آوازوں اور سوچوں کے ساتھ اس صورتحال کو کسی صورت کامیابی سے عبور کرنے کا امکان نہیں،  لہٰذا ان عظیم مقاصد اور وسیع تر قومی مفادات کے لیے قوم کی نظریں پارلیمان کی جانب ہیں۔ ایک ایسی پارلیمان جس میں حکومت اور حزبِ اختلاف اپنے مخصوص دائرہ کار میں بہترین انداز میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔

یہ آئیڈیل صورتحال اگرچہ سردست ممکن دکھائی نہیں دیتی مگر اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔قومی بجٹ پیش ہونے کے بعد ابتدائی دنوں میں قومی اسمبلی میں جو بدمزگی دیکھنے میں آئی بجٹ کی منظوری کے حتمی مراحل میں اس ماحول میں بہتری کو اس پیش رفت کی دلیل سمجھا جاسکتا ہے۔پارلیمانی ماحول کی اصلاح کے لیے مصالحت اور ہم آہنگی کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ ملک میں امن و امان، داخلی سلامتی، قومی ترقی اور مثبت قومی تشخص کی ضرورت ہے؛ چنانچہ قانون سازوں کی نظریں اس پر مرکوز ہونی چاہیں تاکہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں نمایاں ہو سکے۔ 

 ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے گزشتہ ایک،ڈیڑھ دہائی کے دوران جو قیمت ادا کی گئی  پوری دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دارالحکومت اسلام آباد کو غیر ملکی سفیروں کیلئے محفوظ شہر کا درجہ حاصل کرنے میں دس بارہ برس لگے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے اگرچہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے لیکن اسے بحال رکھنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر  اپنا مستقل کردار ادا کرنا ہو گا۔اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں قومی ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -