دین اور سیاست 

 دین اور سیاست 
 دین اور سیاست 

  

دین اور رائج سیاست ایک سو اسی ڈگری پر ہیں۔موجود سیاست فریب کاری ہے اور دین خیر خواہی۔۔۔ سیاست خود غرضی اور خود نمائی جبکہ دین بے غرضی اورخود احتسابی ہے۔سیاست میں دوسروں کے عیب اچھالے جاتے ہیں مگر دین دوسروں کے عیب چھپانے کی تلقین کرتا ہے۔سیاست اپنی ذات اوراپنی پارٹی کو بلند کرنا جبکہ دین خود کونیچا کرکے اللہ کے کلمے کوسر بلند کرنا ہے۔ سیاسی جماعت کسی سماجی تبدیلی کی خواہشمند نہیں ہوتی،اسے لوگوں کے اخلاق اور مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن دین انسان کو بااخلاق اور صاحب کردار بنانا چاہتا ہے، اس کے اندرآخرت کا تصوربٹھا کر دوسروں کے لئے خیرخواہی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

سیاسی جماعت سے وابستہ افراد حق کے بجائے سیاسی مفاد کو مد نظر رکھتے ہیں۔ یہ اپنی پارٹی کے سواباقی ساری جماعتوں کے کارکنوں کو حریف سمجھتے ہیں۔ سیاسی لوگوں کا ذہن سیاسی دھڑے بندی میں اٹکا رہتا ہے۔دھڑے کا تعصب اس قدر غالب آجاتا ہے کہ اپنی پارٹی کی غلط بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری پارٹیوں کی اچھی بات کو بھی نہیں مانتے۔سیاسی کارکن اپنے لیڈر کو فرشتوں کاہم نشین اوردوسرے لیڈروں کو شیطان کا  چیلہ سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے دین کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹیاں بھی اس بیماری کاشکار ہوگئی ہیں۔ وہ اپنے سوا کسی کو صالح ماننے کو تیار نہیں۔   

گزشتہ صدی میں کچھ دینی علماء اور رہنماؤں نے سیاسی میدان میں اتر کر دین کوقائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے اخلاص پر سوال نہیں اٹھا یا جا سکتا مگر ان کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ان کے پیروکار حکومت میں آنے کے لئے سر توڑ ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے، کبھی سیاسی اتحاد،کبھی تنہا پروازاورکبھی انتخابی بائیکاٹ۔دین کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے اور سیاسی جد وجہد کو اقامت دین کی جدوجہد قرار دینے کے باوجود”صالح قیادت“ مسلم معاشرے کا مینڈیٹ حاصل نہیں کرپائی۔انہیں پے در پے انتخابی ہزیمت اٹھانا پڑی مگر وہ اپنے اکابرین کیحکمت عملی کو دین کا راستہ سمجھ کر سرجھکائے چلتے رہے۔کسی نے اس پر سوال اٹھایا تو اسے ’منحرف، قرار دے کر کونے سے لگادیا گیا۔سوچنے والے کونے میں لگتے گئے، سیاسی داؤ پیچ کھیلنے والے اور چرب زبان صالح قیادت بن کر ابھرتے گئے۔ 

دینی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں خود کو احیائے اسلام کی تحریک کہتی ہیں جو جمہوری جدوجہد اور انتخابات کے ذریعے حکومت سازی کرکے اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہیں۔ان کے نزدیک ریاستی طاقت حاصل ہونے کے بعد سوسائٹی میں خود بخود خیر کے چشمے رواں ہوجائیں گے، دین سے بے خبر لوگ دین کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنا شروع ہوجائیں گے۔ ان مذہبی سیاسی جماعتوں نے فرد کو اندر سے زندہ اور بیدار کرنے کی بجائے مسلمانوں کو بیرونی سازشوں اورخطروں سے ڈراکر ’مسلمان، بنانے کی کوشش کی۔ یہ سوچ اور بیانیہ اب عام ہے کہ مسلمانوں سے ناانصافی ہورہی ہے،انہیں دشمن طاقتیں نقصان پہنچا رہی ہیں،ان کے وسائل انہی کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔پوری مسلم دنیا دشمنوں کے مفادات کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے۔ہم پوری امت ایک جسم کی مانند ہیں،ہم پوری امت کا دردمحسوس کرتے ہیں،دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اس پر آواز اٹھاتے ہیں،بالخصوص جہاں ظلم کرنے والے غیر مسلم ہوں، وغیرہ وغیرہ ۔دیکھئے،ان حقائق سے کس کو انکار ہوسکتا ہے مگر یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ دوسروں کے گلے شکوے اور لعن طعن سے کوئی قوم کیسے ذہنی اور اخلاقی طور پر زندہ اور متحرک ہوسکتی ہے؟  

گزشتہ صدی میں جن بڑے سکالرز نے دین کو سیاسی تحریک کی صورت میں بیان کیا، ان میں سب سے نمایاں نام مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ کا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جس نے نصف صدی تک ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔اس وقت بھی یہ ملک کی سب سے منظم جماعت ہے،اس سے وابستہ افراد اپنے اجلے کردار اور جرات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جماعت کے ہزاروں مخلص ارکان اور لاکھوں پرجوش کارکن ایک  لاحاصل جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں، ان کی دوڑ دھوپ آج تک مطلوبہ انتخابی نتائج پیدا نہیں کر سکی۔ انتخابات کے دنوں میں ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکن نظم کی اطاعت میں گلیوں کی خاک چھانتے ہیں اوردربدر ووٹ مانگتے ہیں، اپنے حق حلال کی کمائی الیکشن فنڈز میں جمع کراتے ہیں مگر جب اس حلقہ کا نتیجہ آتا ہے تو چند سو ووٹ نکلتے ہیں، مہینوں کی بھاگ دوڑاورکروڑوں روپے لگا کرہر دفعہ سبکی سمیٹ لیتے ہیں۔ ملکی تاریخ کے پہلے آٹھ انتخابات میں اتحادی سیاست کی بدولت جماعت کوکچھ سیٹیں ملتی رہیں مگر گزشتہ دو عام انتخابات میں حوصلہ شکن نتائج ملے۔پے در پے انتخابی شکست کے باوجود عالی ہمت لوگ سیاسی جدوجہد سے دین کو قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔دین کے لئے اس سیاسی جدوجہد کا مقصدجماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی ؒ کے الفاظ میں ”ہماری جدوجہد کا آخری مقصودانقلاب امامت ہے۔ یعنی دنیا میں ہم جس انتہائی منزل کو پہنچنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فساق و فجار کی امامت و قیادت ختم ہوکر امامت صالحہ کا نظام قائم ہو“۔”جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کامقصود دنیا میں حکومت الٰہیہ کا قیام اور آخرت میں رضائے الٰہی کا حصول ہے“۔ مولانا مرحوم کے مطابق ”دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے مشن کا منتہائے مقصودیہ رہا ہے کہ حکومت الٰہیہ قائم کرکے اس پورے نظام زندگی کو نافذ کریں جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے“۔

جماعت اسلامی گزشتہ ساٹھ سال سے اپنے پیرو مرشد کی رائے اور فکرپر بڑی مستقل مزاجی سے چل رہی ہے۔کیا لاکھوں مخلص کارکنوں کی صالح قیادت تازہ سوچ کی نشو ونما کاماحول پیدا کر پائے گی جو نئی حکمت عملی اپناکر آج کی دنیا کے چیلنجوں کا جواب دے؟

مزید :

رائے -کالم -