آگیا جولائی، مار گئی مہنگائی

 آگیا جولائی، مار گئی مہنگائی
 آگیا جولائی، مار گئی مہنگائی

  

جی ہاں پیارے عوام یہ وہی بجٹ ہے جس کے بارے میں حکومتی وزراء کہتے تھے اس سے اچھا اور عوام دوست بجٹ آج تک پیش نہیں ہوا۔ یہ بجٹ یکم جولائی سے نافذ ہوا ہے تو مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر نکل آیا ہے اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھائی گئیں اور اب بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، اس سے پہلے گیس کی قیمتیں ایسے بڑھائی گئیں جیسے عوام کے ہاتھ قارون کا خزانہ لگ گیا ہو اور وہ مہنگی گیس خریدنے کے قابل ہو گئے ہوں۔ کپتان کے بارے میں تو اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عوام کو بس اپنی خوشنما تقریروں پر رکھا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں ان خوشنما تقریروں سے عوام کا پیٹ بھر جاتا ہے، چلیں جی مان لیتے ہیں پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر یہ بجلی اور گیس کے بل وہ کیسے ادا کریں، خالی جیب بل دینے کے لئے پیسے کہاں سے لائیں، پیسے نہ ہوں تو بجلی و گیس کٹ جاتی ہے، اور بدنامی الگ ہوتی ہے۔ مگر کپتان کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں وہ تو کہتے ہیں دیکھو خودداری سے جینا ہے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا، انہیں اب کون بتائے خودداری کی سب سے بڑی دشمن بھوک اور غربت ہے، یہ دونوں لاحق ہو جائیں تو ساری خودداری نکل جاتی ہے۔ قومیں بھی غربت و بھوک سے خودداری کھو دیتی ہیں اور فرد بھی، ایک ایسے معاشرے میں جہاں ایک طرف متمول طبقہ ہے، جسے مہنگائی کی فکر ہے اور نہ بھوک کا کوئی احتمال اور دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو اس ملک کا 80 فیصد ہے۔ جس کا سب سے بڑا مسئلہ ہی بھوک ہے۔ جو صبح و شام اسی فکر میں غلطاں رہتا ہے اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالے، اس طبقے کو خوشنما تقریروں سے بہلانے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کے زخموں پر نمک چھڑکنا۔

اب تو عوام کے یہ سُن سُن کر کان پک گئے ہیں نوازشریف نے اس ملک کو لوٹ کر کنگال کر دیا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے قومی خزانے کو بوٹیاں سمجھ کے نوچا ہے، سارا کیا دھرا ماضی کے لٹیروں کا ہے، جس کی وجہ سے آج غربت و مہنگائی ہے، یہ ڈرامہ آخر کب تک چل سکتا ہے۔ تین سال ہونے کو آئے ہیں، وہی گھسا پٹا راگ الاپا جا رہا ہے۔ ماضی میں تو ایسے برے حالات نہیں تھے۔ لوگ ایسے تو بھوکوں نہیں مر رہے تھے۔ مہنگائی اتنا بڑا عذاب تو نہیں ڈھا رہی تھی۔ گیس کی لوڈشیڈنگ موسم گرما میں تو کبھی نہیں ہوتی تھی، بجلی کا ریٹ تو کبھی اتنا زیادہ نہیں تھا، آٹے چینی کی قیمتیں تو کبھی ایسی سطح پر نہیں پہنچی تھیں، اگر سب کچھ آج سے بہتر تھا تو پھر لوٹ مار کس نے کی؟ نا اہلی کی انتہا ہے گیس اور بجلی کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، پچھلی حکومت جب گئی تو ملک میں بجلی وافر تھی پھر یہ کیا ہوا، بجلی کہاں چلی گئی، وزیر توانائی حماد اظہر طفل تسلیاں دے رہے ہیں، دو روز میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ کیسے بہتر ہو جائے گی، کیا جادو کی چھڑی گھمائیں گے۔ شارٹ فال چھ ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہو چکا ہے، اپوزیشن الزام لگا رہی ہے بجلی فرنس آئل کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بہت مہنگی پڑ رہی ہے کیونکہ جب این ایل جی سستی تھی تو اس وقت حکومت نے نہیں خریدی اب مہنگی ہے تو خریدنے کے آرڈر دیئے ہیں۔ جب تک وہ نہیں پہنچتی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فرنس آئل فراہم کیا جائے گا، یہ بڑھی ہوئی لاگت پوری کرنے کے لئے حکومت عوام پر مسلسل بجلی بم گرا رہی ہے۔ نا تجربہ کاری کا تو علاج ہو سکتا ہے نا اہلی کا کوئی علاج نہیں۔ یہ حکومت نا اہلی کے معاملے میں ریکارڈ قائم کر رہی ہے جس حکومت کی اپنا ریونیو بڑھانے کے لئے اس بات پر نظر ہو کہ عوام کے استعمال کی اشیائے خوردو نوش پر ٹیکس لگانا ہے۔ وہ حکومت کبھی عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی۔ آج عوام دہائی دے رہے ہیں حکومت ہر چیز مہنگی کر دے مگر ان کی روٹی دال تو مہنگی نہ کرے۔ سینکڑوں مدات ایسی ہیں، جن سے حکومت اپنا ریونیو بڑھا سکتی ہے، مگر جب وہ آٹے، دال، گوشت، گھی، چینی حتیٰ کہ سبزیوں اور پھلوں پر بھی ٹیکس لگا دیتی ہے تو عام آدمی کا جینا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ ابھی یہ خبریں ہیں آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے اس سال پٹرول کی قیمت میں بتدریج 25 روپے تک اضافہ کرنا ہے۔ اسی طرح بجلی کے نرخ بھی رفتہ رفتہ بڑھائے جائیں گے۔ گیس کی قیمتیں پہلے ہی 2 سو گنا بڑھا دی گئی ہیں اب مزید بڑھانے کے لئے دباؤ ہے۔ کہاں گئی وہ خودداری، جس کا ذکر عمران خان اپنی تقریر میں کر رہے تھے۔ ایک اڈے نہ دینے سے تو خودداری برقرار نہیں رہتی، جب آپ اپنی معیشت کو گروی رکھ دیتے ہیں اصل خودداری تو وہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ کیسا بجٹ عزت مآب شوکت ترین نے پیش کیا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے ہی میں اس بجٹ نے قیمتوں کو پر لگا دیئے ہیں۔ اگر بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا تو پھر حکومت باہر آئے، مہنگائی مافیا کو روکے، مگر کیسے روک سکتی ہے صاحب، جب بارہ کھرب روپے کے نئے ٹیکسز لگیں گے تو ان کا نیچے تک اثر تو ہوگا۔ یہ بارہ کھرب آخر عوام کی جیبوں ہی سے نکلیں گے، ان جیبوں سے جن میں اب مفلسی، غربت اور بھوک کے سوا کچھ بچا ہی نہیں۔

جس حکومت کے وزراء کی سوچ یہ ہو کہ ملک میں غریب نام کی کوئی مخلوق موجود ہی نہیں، اس حکومت میں غریبوں کے بارے میں سوچنے کی توفیق کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم کہتے ہیں ہم احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو ریلیف دیں گے اور دوسری طرف انہی پر مہنگائی کا بم گرا دیتے ہیں مہنگائی ہر مہینے عام آدمی پر چار ہزار روپے کا بوجھ ڈالے اور آپ فی خاندان ایک ہزار روپے امداد دیں اور یہ بھی کہیں کہ ہمیں غریبوں کا بہت احساس ہے تو اسے ظالمانہ سوچ کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ ٹاٹ میں مخمل کے پیوند لگانے سے ٹاٹ کی بدصورتی دور نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح کے بھکاری نما پیکج دے کر عوام کو گداگر تو بنایا جا سکتا ہے، خوددار نہیں۔ احساس پروگرام کے یہی کھربوں روپے اگر عام استعمال کی اشیاء پر ٹیکس ختم کر کے ریلیف دینے پر استعمال کئے جاتے تو غربت اور مہنگائی میں کمی لائی جا سکتی تھی۔ مگر حکومتوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے وہ اپنے کام سیاسی مقاصد کے تحت کرتی ہیں۔ جن ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت رجسٹر کیا گیا ہے، ان کے بارے میں ارباب حکومت یہ سمجھتے ہیں یہ ان کے پکے ووٹرز بھی بن گئے ہیں، حالانکہ یہ خام خیال ہوتی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار نہ دلا سکا۔ ایسے شعبدہ باز پروگراموں سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے اس حوالے سے کرپشن کی کہانیاں الگ گردش کرتی ہیں کیونکہ ایسے پروگراموں کا صحیح معنوں میں آڈٹ ہی نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت معاشی شعبے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ اعداد و شمار دیکھیں تو لگتا ہے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں مگر عوام کی حالت دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے اس حکومت نے ان کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا ہے۔ عام آدمی کے لئے پونے دو روپے یونٹ بجلی مہنگی کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والے غریب پر بھی چار سو روپے کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ یونٹ مہنگا کرنے سے  مہنگائی کی جو لہر آئے گی وہ اس پر مستزاد ہے۔ ابھی تو جولائی کا آغاز ہے، آگے چل کر یہ بجٹ کیا رنگ دکھائے گا، اس کا اندازہ شاید بجٹ بنانے والوں کو بھی نہیں خیر انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں کہ ان کے لئے ہر بجٹ خوشحالی ہی لاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -