مفت تدفین کا حکم،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کیلئے 12اور توہین آمیز مواد ہٹانے سے متعلق 7اصول وضع کر دیئے،متعلقہ قوانین میں ترامیم  کی ہدایت

مفت تدفین کا حکم،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کیلئے 12اور ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے زرعی اراضی پررہائشی کالونیاں بنانے کیخلاف دائر درخواست پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام کے لئے 12 رہنما اصول وضع کرتے ہوئے متعلقہ قوانین میں ترامیم کی ہدایت کردی،عدالت نے اپنی ہدایات وزیر اعلیٰ، کابینہ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیاہے کہ رہنماء اصولوں کی روشنی میں عمل درآمدرپورٹ لاہورہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کوپیش کی جائے،چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے اس سلسلے میں مبشراحمد الماس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قبرستانوں میں مفت تدفین سے متعلق اپنے عبوری حکم کو بھی تحفظ فراہم کردیاہے،فاضل جج نے اس سال مارچ میں اپنے عبوری فیصلے میں حکم جاری کیاتھا کہ مرنے والوں کی قبرستان میں تدفین کے لئے رقم وصول نہیں کی جاسکتی، فاضل جج نے اپنے 17صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے پیراگراف نمبر2میں قراردیاہے کہ عدالت اس کیس میں وقتاً فوقتاً قبرستانوں اور سوسائٹیوں میں گرین ایریاز کی بابت احکامات جاری کرتی رہی ہے،عدالت نے مارچ میں عبوری حکم جاری کیاتھا کہ حکومت وفات پانے والے افراد کی تدفین مفت کرنے سے متعلق قانون میں ترامیم کرے،فاضل جج نے احادیث اور بین الاقوامی قوانین کاحوالہ دیتے ہوئے قراردیاتھا کہ شہری ساری زندگی حکومت کو مختلف اشیاء خریدنے پر ٹیکس ادا کرتا ہے،مرتے وقت بھی اس سے قبر اور دیگر اشیاء کے نام پر پیسے لئے جاتے ہیں،یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ شہری کی تدفین کا خرچہ اٹھائے اورانتظامیہ قبرستان تک تدفین کے لئے فری ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی بابت بھی قانون سازی کرے،فاضل عدالت نے اپنے ایک دوسرے عبوری حکم میں کم آمدنی والے افراد کی با وقار تدفین کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور سماجی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی بابت بھی آبزرویشن دی تھی اورلاہورکے ماڈل قبرستان کی طرز پر فیصل آباد،گوجرانوالہ،ملتان اور راولپنڈی میں بھی قبرستان بنانے کی ہدایت جاری کررکھی ہے،عدالت نے اب اپنے تفصیلی فیصلے میں مزیدہدایت کی ہے کہ مافیاز سے نمٹنے کے لئے ڈی جی ایل ڈی اے کے عہدے پر تبادلہ نہ کیا جائے، ماسٹر پلان میں اگر کوئی رکاوٹ پیش آئے تو متعلقہ کمیٹی عدالت سے رجوع کر سکتی ہے، ڈی جی ایل ڈی اے ماسٹر پلان سے متعلق ماہانہ رپورٹ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو پیش کریں گے، شہر میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے، متعلقہ محکمے تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تمام سہولیات کو یقینی بنائیں، لینڈ ڈویلپرز اگر سوسائٹیز میں سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بناتے تو حکومتی محکمے خود سہولیات فراہم کریں اور سوسائٹی مالکان سے ریکوری کریں، تحریری فیصلے میں چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاہے کہ کوئی بھی قانون کے تحت طے شدہ اراضی قبرستان اورگرین ایریاز کے لئے مختص نہیں کررہا، فاضل جج نے قراردیاکہ قانون کے تحت ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کل رقبہ کا 2فیصد قبرستان اور 7فیصد اراضی  گرین ایریاز کیلئے مختص کرے،عدالت نے رہنما اصول فراہم کرتے ہوئے مزیدکہاہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں 5فیصد کمرشل ایریاکے لئے مختص کیاجائے جبکہ سرکاری عمارات کے لئے 5سے10فیصد تک کا حصہ رکھا جائے،ایک رہائشی پلاٹ کا زیادہ سے زیادہ سائز ایک ہزار مربعہ گزہونا چاہیے،سٹی اضلاع میں رسائی والی روڈ 60فٹ جبکہ دیگر اضلاع میں 40فٹ سے کم نہیں ہونی چاہیے،اندرونی سٹرکیں بھی 40فٹ چوڑی ہونی چاہئیں اور اس کا ماسٹر پلان میں تعین ہونا چاہیے، 1000پلاٹوں والی کالونی میں 10مرلے کا ایک پلاٹ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لئے مختص کیا جائے،ہرکالونی میں 20فیصد پلاٹ 5مرلہ کے ہونے چاہئیں تاکہ کم آمدنی والے لوگ بھی پلاٹ خرید سکیں،واسا کے پمپوں اور ٹیوب ویلز کے علاوہ گرڈ سٹیشنز کے لئے بھی جگہ مقررہونی چاہیے،فاضل جج نے زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے قیام پر جرمانے کی حد کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے رقبہ کو محدود کرنے کیلئے بھی قانون سازی کی جائے، فیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ لینڈ ڈویلپرز کو شہری آبادی کی نسبت زرعی اراضی انتہائی سستے ریٹ پر دستیاب ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ زرعی زمین کو شہری آبادی میں تبدیل کرنا قوانین اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے،اس لئے زرعی اراضی کو بچانے کے لئے ماسٹر پلان انتہائی احتیاط سے مرتب کیا جائے،زرعی اراضی کو بچانے کے لئے بلند و بالا عمارتوں کے رجحان کے لئے آگاہی مہم بھی چلائی جائے،عدالتی فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ عمارتوں کی تعمیر میں سبزے کو نظر انداز کیا گیا ہے اس لئے شہر کی سڑکوں کے کنارے شجر کاری کی جائے،ایل ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن شہر میں سرکاری زمین تلاش کر کے چھوٹے جنگلات قائم کریں،اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی واقع ہو گی،جنگلات قائم کرنے کے لئے قوم کے وسیع تر مفاد میں شہر کے بڑے مخیر افراد سے عطیات لئے جائیں، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ شہر میں کم پانی سے زیادہ بڑھنے والے درخت لگائے جائیں جن کی قامت اونچی ہو تا کہ پرندے بھی ان پر بیٹھ سکیں،مستقبل میں ہر ہاؤسنگ سوسائٹی میں 30 فیصد حصہ بلند رہائشی عمارتوں کے لئے مختص کیاجائے۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمدقاسم خان نے انٹرنیٹ سے توہین آمیز مواد ہٹانے سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ جاری کر دیا ہے،12صفحات پر مشتمل تفصیلی جاری کردیاگیاہے جس میں چیف جسٹس نے عدالت عالیہ میں دائر ایک ہی نوعیت کی پانچ درخواستیں نمٹا دیں،عدالت کی جانب سے حکومت کو 7اہم ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہیں،پرائمری سے ماسٹرز تک اس بارے مضمون شامل کیا جائے،حکومت پی ٹی اے کے زیر نگرانی آئی ٹی ماہرین پر مشتمل سپیشل سیل تشکیل دے،سوشل میڈیا کے دفاتر پاکستان میں بنوانے پر زور دیا جائے تاکہ ان سے کاروائی کے لیے بات چیت ہو سکے،غیر مناسب مواد کی روک تھام کے لیے فوری کاروائی کی جائے،حکومت آفیشل ویب سائٹ ڈیزائن کرے جہاں قران،حدیث سے متعلق مستند آرٹیکل رکھے جائیں،آفیشل ویب سائٹ پر پورٹل بنایا جائے جہاں مستند اسلامی ویب سائیٹس اور پیجز کے لنک موجود ہوں،توہین آمیز مواد بارے ہونے والی کاروائی کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ لوگوں کو آگاہی ملتی رہے،آفیشل ویب سائٹ کی سوشل میڈیا اور میڈیا میں تشہیری مہم چلائی جائے،غیر مناسب مواد پر اگر کوئی شکایت نہ آئے تو اتھارٹی خود مواد چیک کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

توہین آمیز مواد

مزید :

صفحہ اول -