صوبائی دارالحکومت، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ نہ تھم سکا،از خود نرخ بڑھانے کا رجحان جاری

صوبائی دارالحکومت، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ نہ تھم سکا،از خود نرخ ...

  

 لاہور(انور کھرل)بجٹ کے بعد بھی صوبائی دارالحکومت میں قائم مختلف مارکیٹوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ تھم نہ سکا ہے۔ ادرک اور آٹے کی اڑان کا سلسلہ جاری، عام مارکیٹوں میں دکانداروں نے نرخ کم کرنے کے بجائے مزید از خود نرخ بڑھا لئے ہیں۔ دودھ، دہی، چینی، گھی، آٹا سمیت دیگر اشیاء خورونوش شہریوں کی پہنچ سے دور ہو کر رہ گئے۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے گئے سروئے کے دوران وفاقی و صوبائی بجٹ میں حکومت کی جانب سے عوام ریلیف دینے کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے شہریوں محمد شفیق، حاجی اصغر، علی رضا، شہروز، شہباز بھٹی، منا ماسٹر،علی حسین، محمد فیضان، علی رضا، محمد یوسف، محمد شہباز، عبداالخاق اور اویس و دیگر کا کہنا ہے کہ بجٹ سے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔کارونا کرنا اور جینا صرف امیروں کیلئے ہوتا ہے۔ غریب پہلے بھی مہنگائی کی دلدل میں پس رہا تھا اور اب بھی وہی صورتحال ہے۔حکومت کے مہنگائی کم کرنے کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے وہ اس مہنگائی کے دور میں مہنگی سبزیاں، گھی، چینی، دالیں کیسے خرید سکتا ہے۔ دوسری جانب  دکانداروں احمد علی، خان محمد، اسد نواز، ولی محمد بن بلال الدین، ضمیر اعوان، رشید رحمانی، محمد اقبال خان و دیگر کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ہر چیز کے بھاؤ دگنا ہو گئے ہیں۔ ہمیں مارکیٹ سے چیزیں مہنگی ملتی ہیں اس لئے مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ سروے میں عام مارکیٹ اور سہولت بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز پر20 روز پہلے والی قیمتیں تاحال برقرار ہیں۔ عام مارکیٹوں میں اشیائے صرف سہولت بازاروں اوریوٹیلیٹی سٹورز کی نسبت  25سے 150 روپے تک اضافہ کے ساتھ فروخت ہو رہی ہیں۔

اشیائے خورو

مزید :

صفحہ اول -