پی ایس ایل کے بعد اصل امتحان، پاکستانی ٹیم انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر ہرا سکے گی؟

پی ایس ایل کے بعد اصل امتحان، پاکستانی ٹیم انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر ہرا سکے ...

  

افضل افتخار

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی پاکستان سپر لیگ6 میں شرکت کے بعد اب انگلینڈ کے خلاف8 جولائی سے ہونے والی ون ڈے سیریز میں قسمت آزمائی کے لئے بھرپو ر تیاریوں میں مصروف ہیں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتا ن بابر اعظم کی قیادت میں میدا ن میں اترے گی  دورہ انگلینڈ ہمیشہ ہی پاکستان کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے اور میزبان ٹیم کے خلاف اس کی سر زمین پر کامیابی آسان ٹارگٹ نہیں کھلاڑی تین میچوں پر مشتمل سیریز میں کامیابی کے لئے دن رات بھرپو ر محنت میں مصروف ہیں اور ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے سرانجام دینے کے لئے پرعزم ہے اگر دونوں ٹیموں کے درمیا ن اب تک ون ڈے سیریز ریکارڈ پر نظر دوڑائی جائے تو انگلش ٹیم کا پلڑا بھاری ہے  انگلش سر زمین پر کھیلی جانے والی اس اہم سیریز میں کامیابی پاکستان کے لئے ورلڈ کپ میں مدد گار ثابت ہوگی جبکہدوسرے ون ڈے میں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ 100فیصد کراؤڈ کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان اور انگلینڈ کا دوسرا ون ڈے برطانوی حکومت کے ایونٹ ریسرچ پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ ستمبر 2019 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب برطانیہ میں کھیلوں کے ایک مقابلے میں 100فیصد شائقین شامل ہوں گے۔میچ کے دوران کسی بھی طرح کا سوشل ڈسٹنسنگ پروٹوکول کو لاگو نہیں کیا جائے گا لیکن لوگوں کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا جائے گا۔ 11سال یا اس سے زیادہ عمر کے ٹکٹ ہولڈرز کو حالیہ منفی پس منظر کے پیش نظر کورونا ٹیسٹ کا ثبوت، مکمل ویکسینیشن کا ثبوت یا آخری 180دنوں میں لیا گیا پی سی آر ٹیسٹ کے مثبت نتیجہ کے ذریعے قدرتی استثنی کا ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سے قبل انگلینڈ اور پاکستان کے مابین ایجبسٹن کے میدان میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے میں 80فیصد کراؤڈ کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی جبکہ قومی ٹیم کے  فاسٹ باؤلرحسن علی  نے کہا ہے کہ کمرکی انجری کے بعد کسی بھی فاسٹ باؤلرکیلئے کم بیک کرنا آسان نہیں ہوتا مگر اس مشکل وقت میں  بیگم اور اہلخانہ نے  بہت ساتھ دیا،اس دوران شعیب ملک اور سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔اگر ہم نیت اور محنت کرلیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا اور میں اس کی تازہ ترین مثال ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ شروع سے ہی بے خوف کرکٹ کھیلتے تھے مگر فرسٹ کلاس کرکٹ میں متاثرکن کارکردگی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا۔انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتا ہوں تو یقینا میں کم بیک بھی کرسکتا ہوں۔انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پران پر دباؤ تھا۔اس دوران9 فرسٹ کلاس میچز میں شرکت اور پھر عمدہ کارکردگی نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔حسن علی نے کہاکہ وہ ہمیشہ ایک بہترین آلرانڈر بننا چاہتے تھے اور انہیں خوشی ہے کہ ان کی حالیہ فارم ان کی اس خواہش کو تقویت دے رہی ہے۔انہیں بیٹنگ شروع سے ہی پسند تھی اور انجری کے دوران جب موقع ملا تو انہوں نے اپنی بیٹن پر خاص توجہ دی۔ اس دوران انہوں نے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹرپر اپنی ہارڈ ہٹنگ صلاحیت پر بہت کام کیا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں خود اعتمادی بہت ضروری ہے، اچھی گیند پر بھی کوئی بیٹسمین بانڈری لگا سکتا ہے مگر اس موقع پر دبا کا شکار ہونے کی بجائے اپنی بنیادی بالنگ پر واپس آجانا چاہیے تاکہ بلے باز کو مشکلات کا شکار کیا جائے۔نوجوان کرکٹر نے کہا کہ انگلینڈ سے ان کی بہت سے ہی یادیں وابستہ ہیں۔کیرئیر کا آغاز آئرلینڈ سے ہوا اور پھر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا انہیں کبھی بھولے گا۔یہاں کی کنڈیشنز وائیٹ بال کرکٹ کیلئے موزوں ہے۔میزبان ٹیم اس فارمیٹ کی مضبوط ٹیم ہے، مگر وہ پرامید ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم اس ٹور پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔دوہزار سولہ میں اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے حسن علی دوسال بعد ہی کمر کی انجری کا شکار ہوگئے اور پھر تقریبا دو سال ٹیم میں ان اور آؤٹ ہوتے رہے، بالآخر انہوں نے مکمل ری ہیب کے بعد قائداعظم ٹرافی 21-2020میں شرکت کی اور بیٹ اور بال دونوں سے متاثرکن کارکردگی کی بدولت انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے دوبارہ کم بیک کی راہ ہموار کرلی۔قومی کرکٹ ٹیم میں کم بیک کرنے پرانہوں نے 26جنوری 2021کو جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت کی جبکہ فاسٹ بالر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ انگلینڈ ٹور میں نام نہ آنے پر مایوسی ہے، پرفارمنس کے باوجود ٹیم میں شامل نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، سلیکٹرز ہی بتا سکتے ہیں کیوں سلیکشن نہیں ہورہی۔ دوران گفتگو کرتے ہوئے وہاب ریاض نے کہا کہ اپنی پوری کوشش جاری رکھے ہوئے ہوں ضرور موقع ملے گا،انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرانا کافی مشکل ہوتا ہے، امید ہے قومی ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے گی۔وہاب ریاض نے مزید کہا کہ سلیکشن کا طریقہ کار سلیکٹرز ہی بہتر بتا سکتے ہیں،بطور کھلاڑی میں بہت مایوس ہوں، مین آف دی میچ نہیں بلکہ ٹیم کا ہر کھلاڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مکی آرتھر کو اگر میں میچ ونر نہیں لگتا تھا تو مجھے ورلڈ کپ کیلئے کیوں بلایا تھا،نوجوان کھلاڑی کوچز کی بات آرام سے بات مانتے ہیں لیکن سینئرز کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔وہاب ریاض نے کہا کہ شعیب ملک بہترین مڈل آرڈر بلے باز ہیں، حسن علی اور یونس خان سے بات نہیں ہوئی،اپنی محنت پر یقین رکھتا ہوں،امید ہے محنت کا پھل ملے گا، اگر میری قسمت میں ہے تو کوئی میرا حق نہیں لے سکتا۔ وہاب ریاض نے کہا کہ شاہ نواز دھانی پی ایس ایل 6 کے بہترین بالر رہے ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کو پہلے پالش کرکے پھر ٹیم میں لانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ابھی 3،4 سال مزید کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں تاہم کسی پر بوجھ نہیں بنوں گا، محنت پر یقین رکھتا ہوں اور پر امید ہوں کہ کم بیک کرسکوں گا۔ وہاب ریاض نے کہا کہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں شعیب ملک سمیت سینئر کرکٹرز ہمیشہ ٹیم کی ضرورت ہوتے ہیں، اگر وہ اس پریشر سے بھرپور ایونٹ میں ساتھ ہوں گے تو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے، یہ سلیکشن کمیٹی پر منحصر ہے کہ وہ کیا پلان رکھتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈبورڈ آف گورنرز نے  مالی سال2021-22کے  تقریباً9ارب روپے بجٹ کی منظوری دیدی،گزشتہ سال کی نسبت آئندہ سال پی سی بی کے بجٹ میں 2ارب روپے کا اضافہ ہوا،پی سی بی آئی سی سی کے31-2024 کے سائیکل میں شامل تین وینیوز پر کھیلی جانے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 اور 2029، آٹھ وینیوز پر کھیلے جانے والے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2026 اور 2028 اور 10 مختلف وینیوز پر کھیلے جانے والے آئی سی سی مینز ورلڈکپ 2027 اور 2031 کی میزبانی میں شراکت داری کا خواہشمند ہے، ایونٹ کی میزبانی دینے کے عمل کا آغاز ستمبر میں شروع ہوگا۔پی سی بی پرامید ہے کہ وہ کم از کم ایک ایونٹ کی میزبانی حاصل کرلے گا۔ترجمان پی سی بی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا۔ بی او جی کی یہ رواں سال میں تیسری اور مجموعی طور پر 63ویں میٹنگ تھی۔پی سی بی بی او جی نے مالی سال 22-2021 کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے پی سی بی کا منظور شدہ کل بجٹ 8.997  ارب  روپے ہے۔یہ بجٹ ہوم اور انٹرنیشنل کرکٹ، ڈومیسٹک کرکٹ، ایچ بی ایل پی ایس ایل 6اور انتظامی امور پر خرچ کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال کے لیے منظور شدہ بجٹ  میں گزشتہ سال کی نسبت 2 ارب  روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس کی بڑی وجہ پاکستان کی انٹرنیشنل سیریز کی تعداد میں 9 سے 16تک اضافہ ہونا،ڈومیسٹک ایونٹس کی تعداد میں 11 سے 19 فیصد تک اضافہ ہونا،مینز اور ویمنز کرکٹرز کے ماہوار وظیفوں  میں 10 سے 25 فیصد اضافہ ہونا،ہوم سیریز کی پراڈکشن اور کوویڈ 19 پروٹوکولز کے تحت ہوم کرکٹ سیریز کے لیے رقم مختص کرنا ہے۔بی او جی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کو کامیاب انداز میں مکمل کرنے پر پی سی بی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔بی او جی نے اس موقع پرچھ فرنچائزمالکان اور تمام کھلاڑیوں کی تعریف کی ہے کہ جس طرح انہوں نے مشکل وقت بائیو سیکیور ببل میں گزار کر لیگ کو کامیاب بنایا۔بی او جی کو بتایاگیا ہے کہ لیگ کے ساتویں ایڈیشن کا انعقاد پاکستان میں ہوگا۔اس سلسلے میں تمام چھ فرنچائزز کی مشاورت سے سیزن 22-2021 کے لیے موزوں ونڈو کا انتخاب کیا جائے گا۔بی او جی کو بتایا گیا ہے کہ پی سی بی نے31-2024 کے سائیکل میں شامل آئی سی سی کے6 ایونٹس کی میزبانی کے لیے ایکسپریشن آف انٹریسٹ جمع کروادیا ہے۔ان چھ ایونٹس میں سے پی سی بی تین وینیوز پر کھیلی جانے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 اور 2029 کی میزبانی کا خواہاں ہیں۔پی سی بی آٹھ وینیوز پر کھیلے جانے والے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2026 اور 2028 اور 10 مختلف وینیوز پر کھیلے جانے والے آئی سی سی مینز ورلڈکپ 2027 اور 2031 کی میزبانی میں شراکت داری کا خواہشمند ہے۔آئی سی سی کی ایوولیشن کمیٹی اب پی سی بی کے ایکسرپیشن آف انٹریسٹ کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنافیصلہ کرے گی۔ان ایونٹ کی میزبانی دینے کے عمل کا آغاز ستمبر میں شروع ہوگا۔پی سی بی پرامید ہے کہ وہ کم از کم ایک ایونٹ کی میزبانی حاصل کرلے گا۔بی او جی کوبتایاگیا ہے کہ سیزن 22-2021 میں بائیو سیکیور پروٹوکولز اور سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے ریسٹراڈا اور ای ایس آئی پی سی بی کی معاونت کریں گے۔ستمبر 2021 سے مارچ 2022 تک پاکستان کو نیوزی لینڈ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی میزبانی کرنی ہے۔پی ایس ایل 7 کے لیے بھی انہی دونوں کمپنیز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔بی او جی کو آگاہ کیا ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں کْل 93000سے زائد کھلاڑیوں اور 3800 سے زائد کلبز نے شرکت کی،بی او جی کو بتایا گیا ہے کہ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کے فرسٹ بورڈز کے سربراہان کے ساتھ  سہ ماہی بنیادوں پر اجلاس کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے تاکہ ان کے چیلنجز کو سمجھ کر ان کی معاونت کی جائے گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -