جوڈیشل الاؤنس کا معاملہ، رجسٹرارہائیکورٹ سے 6جولائی کو ریکارڈ طلب

جوڈیشل الاؤنس کا معاملہ، رجسٹرارہائیکورٹ سے 6جولائی کو ریکارڈ طلب

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس عمر عطا ء بندیال اورمسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ محمد قاسم خان کو جوڈیشل افسروں کے جوڈیشل الاؤنس کوپنشن میں شامل نہ کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت سے روکتے ہوئے رجسٹرارلاہورہائی کورٹ سے 6جولائی کو متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا فاضل بنچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر لاہورہائی کورٹ کی اس درخواست پر کارروائی معطل کردی چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے اس کیس میں پنجاب حکومت کو 3جولائی کی شام 5بجے تک عدالتی حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کی تھی،بصورت دیگر ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کرکے توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لانے کی بات کی تھی،سپریم کورٹ نے جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کا حصہ نہ بنانے پر لاہورہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی روکنے سے متعلق اپنے تحریری فیصلے میں چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ کوحکم دیاہے کہ جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کا حصہ بنانے کی درخواست پر کوئی عدالتی یا انتظامی حکم جاری نہ کریں، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ 6 جولائی کو کیس کا تمام ریکارڈ اسلام آباد میں پیش کریں، عدالت نے لاہورہائی کورٹ میں درخواست گزارشفیق الرحمان کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں،سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ پنجاب حکومت نے حفاظتی احکامات کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیاہے،پنجاب حکومت کے تین افسروں نے درخواست دائر کی ہے،ان کا موقف ہے کہ توہین عدالت کی درخواست ایک ہی روز میں دائری کے بعد سماعت کیلئے مقرر کی گئی، چیف جسٹس نے ایک ہی روز میں دوپہر 2 بجے درخواست گزارافسروں کو طلب کیا، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر افسران نے 2012ء کے لاہورہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن پر فوری عمل درآمد کرنے سے مجبوری ظاہر کی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری افسروں کی مجبوری کو تسلیم نہیں کیا، درخواست گزارافسروں نے موقف اختیارکیا کہ لاہورہائی کورٹ نے خلاف قانون اور حقائق کے برعکس جلد بازی میں جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کا حصہ بنانے کی ہدایت کی، جوڈیشل الاؤنس کی پنشن میں شمولیت کا معاملہ ہائیکورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت ہے، لاہور ہائیکورٹ کو توہین کی کارروائی سے روکا جائے۔

جوڈیشل الاؤنس

مزید :

پشاورصفحہ آخر -