پنجاب پولیس کے ہاتھوں چکدرہ کا نوجوان جاں بحق

پنجاب پولیس کے ہاتھوں چکدرہ کا نوجوان جاں بحق

  

 چکدرہ(تحصیل رپورٹر) پنجاب پولیس نے گاڑی پر فائرنگ کرکے چکدرہ کے نوجوان کو قتل کردیا، واقعہ کے فورا بعد ممبران اسمبلی اور علاقہ کے لوگ بڑی تعداد میں اٹک پہنچ گئے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی واقعہکا نوٹس لے لیا ہے، ممبران اسمبلی کا آئی جی پنجاب سے بھی رابطہ، حضرو پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج، تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی، اٹک پولیس کاواقعے پر موقف دینے سے انکار، تفصیلات کے مطابق چکدرہ سے تعلق رکھنے والے بائس سالہ نوجوان ساجد خان اپنے دوست آصف خان کے ساتھ اسلام آباد سے چکدرہ آرہا تھا کہ ضلع اٹک میں حضرو کے مقام پر پولیس نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور رکنے پر ان سے رقم کا مطالبہ کیا، پولیس کو رشوت دینے سے انکار پر اٹک پولیس نے گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چکدرہ کے سابق ناظم عبد الرحمن کا جواں سال بیٹا ساجد خان موقع پر جابحق ہوا  جبکہ ان کے ساتھ آصف زخمی ہوگیا،واقعے کی اطلاع ملتے ہی دیر پائین کے ایم این اے محبوب شاہ اور ایم پی اے ھمایون خان سمیت علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں اٹک پہنچ گئے، آئی جی پنجاب اور وزیر ر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے رابطہ کیا گیا جہاں رات گئے حضرو پولیس اہلکاروں کے خلاف چکدرہ کے ساجد کے قتل اور آصف کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا، دوسری جانب چکدرہ کے بے گناہ نوجوان کے قتل کے خلاف علاقے میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور آج احتجاج کا اعلان کردیا ہے جبکہ متعلقہ پولیس اہل کاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -