’ اپوزیشن میں حکومت کو للکارنے کا دم خم نہیں‘فردوس عاشق اعوان کا حکومت مخالف جماعتوں کو چیلنج 

’ اپوزیشن میں حکومت کو للکارنے کا دم خم نہیں‘فردوس عاشق اعوان کا حکومت ...
’ اپوزیشن میں حکومت کو للکارنے کا دم خم نہیں‘فردوس عاشق اعوان کا حکومت مخالف جماعتوں کو چیلنج 

  

سیالکوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن )معاون خصوصی  پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بجٹ پاس نہ ہونے دینے کا الاگ الاپنے والی اپوزیشن، بجٹ کی منظوری کے بعد دم دبا کر بھاگ نکلی،اس اپوزیشن میں حکومت کو للکارنے کا دم خم نہیں، کوئی بھی حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں کی تکمیل کو نہیں روک سکتا،سابقہ حکمرانوں نےعوام کو گدھ بن کرنوچااورسرکاری وسائل پر ہاتھ صاف کیا، زبان دراز کنزیں اپنی ڈھاری پکی کرنے کیلئے حقائق کے برعکس وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف بے بنیاد منفی پراپیگنڈہ کررہی ہیں، عمران خان پوری طاقت، عزم اور ہمت کے ساتھ کرپٹ مافیا کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔

میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ عثمان بزدار نے سرکاری زمینوں کو واگذار کروایااور مافیا کو ہاتھ ڈالا،پنجاب حکومت ترقیاتی فنڈز  کی پائی پائی عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرکے عمران خان کے ویژن پر کارفرما ہے،تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے جو وعدے کئے تھے، یہ ان کی تکمیل کا وقت ہے، اس سال عوام کی فلاح بہبود کے تمام منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خوشحال پنجاب, پنجاب کے بسنے والوں کی منزل ہے، وزیر اعلی کے اثاثوں اور گاڑیوں کے متعلق منفی پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے،وزیر اعلی کو ان کے والد نے گاڑی دی،وزیر اعلی کے تمام اثاثے ایف بی آر میں ڈیکلیئر ہیں،ن لیگ کے تمام حواری اور جواریوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، تمام سرٹیفائیڈ چور وں کو اپنے کرتوں پر عدالتوں کو جواب دینا ہے، یہ جواب دینے کے بجائے بمعہ اہل و عیال ملک سے باہر ہیں اور میں نہ مانوں اور چور مچائے شیر کی مصداق ہیں،ملک کی خدمت کرنے والوں کو بلیک میل کرنا اپوزیشن کا وطیرہ ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدار کرپٹ عناصر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ احتساب کا عمل جاری و ساری رہے گا، عمران خان ملک سے کرپشن کے بتوں کو پاش پاش کرنے کے در پے ہے جبکہ عثمان بزدار پنجاب کے اندر کرپشن کے بتوں کو ملیا میٹ کریں گے،عثمان بزدار کی قیادت میں عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے رہیں گے، ماضی کے حکمران شاہی خاندان نے انسانی وسائل پر خرچ کرنے بجائے اپنی تمام ترتوجہ پاکستان کو کنکریٹ کا جنگل بنانا تھا جبکہ  صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

معاون خصوصی نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت تمام وسائل انسانی ترقی و خوشحالی پر خرچ کر رہی ہے،صحت اور تعلیم کا فروغ پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں صحت اورتعلیم کےشعبہ میں انقلاب برپاکررہے ہیں،صحت کے میدان میں دی جانے والی سہولیات ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہیں،پی ٹی آئی حکومت صحت کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لیکر آئی ہے،صحت کے شعبہ کیلئے 370ارب روپے کے فنڈزمختص کرناوزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار کی جانب سےقوم کیلئےتحفہ ہے،حکومت کی جانب سے106ارب روپےکا کوویڈ ریلیف پیکج دیاگیاہے،شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 182فیصداضافہ کرکے96ارب روپے کردیاگیاہے،یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کیلئے 80ارب روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں،یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت رواں مالی سال کےدوران پنجاب کی100فیصدآبادی کو علاج کی مفت اور معیاری سہولت فراہم کی جائیگی، 31 دسمبر 2021ءتک پنجاب کی 12کروڑآبادی کی ہیلتھ انشورنس کی جائیگی،محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیلئے اگلے مالی سال میں 78ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے،تکنیکی معاملات کے لیے ماہرین پر مشتمل کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کا قیام کیاگیاہے، پنجاب میں بائیس بائیو سیفٹی لیبارٹریز کا قیام،روزانہ ٹیسٹنگ کیپسیسٹی کو دو ہزار سے بڑھا کر بیس ہزار تک کا اضافہ کیا گیا ہے،حکومتی اور نجی سطح پر پر مجموعی طور پر51 لیبارٹریز میں کرونا ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھرتیوں پر مسابقتی عمل اور میرٹ پر عملدر آمد کویقینی بناتے ہوئے بھرتیوں کے عمل کو تیز کیا گیا ہے اور ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر بھرتیوں کو یقینی بنایا گیا، تین سال پہلے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اور دیگر سٹاف کی پچاس فی صد سے زائد اسامیاں خالی پڑی تھیں، حکومت نے محکمانہ سطح پرمختلف وجوہات پر رکی ہوئی بھرتیوں میں رکاوٹوں کو دور کیا،پنجاب پبلک سروس کمیشن سے ملکر اب تک مجموعی طور پر تقریبا پینتیس ہزار سے زائدبھرتیاں کی گئی ہیں، جن میں میڈیکل آفیسرز سینئر رجسٹرار اور پروفیسرز کے علاوہ نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف شامل ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پہلی بار پنجاب کے2503 بنیادی مراکز صحت میں سے94فی صد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے،ڈینٹل سرجن اور فارماسسٹس کی اسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئی ہیں،پہلی بار عملہ کی کمی اب 20 فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے، پنجاب میں صحت کارڈز کا دائرہ کار پنجاب کے تمام 36 اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے، اس مرحلے میں باون لاکھ خاندانوں کو صحت سہولت کارڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ اب صوبہ بھر میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لیے پنجاب بھر کے تمام دو کروڑ ترانوے لاکھ خاندانوں کو کارڈز کی فراہمی کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے، پنجاب میں اس وقت تین سوسے زائد سرکاری اور نجی ہسپتال مفت علاج اور تشخیص کی سہولیات کے لیے امپینل کیے گئے ہیں، اس کارڈ کے تحت 7 لاکھ 20 ہزار تک کی رقم تک مفت سہولیت فراہم کی جاتی ہیں جن کو ضرورت کے مطابق بڑھایا جا سکتا ہے، 35 دیہی مراکز صحت میں بچوں کی نرسریز کا قیام، اور ایمر جنسی بلاکس کا قیام بھی عمل لایا گیا ہے،اسی طرح 1293 بنیادی مراکز صحت کا 24/7 پلس مراکز میں اپ گریڈہو چکے ہیں، مزید براں 8 نئے وئیر ہاوسز کی تکمیل اور 16اربن ہیلتھ سنٹرز کو بھی اَپ گریڈ کیا جانا بھی شامل ہے،صوبہ بھر میں40ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ مکمل کر دی گئی ہے جن میں 25 ڈی ایچ کیو اور 15ٹی ایچ کیو شامل ہیں، دوسرے مرحلے میں پچاسی ٹی ایچ کیو اورڈی ایچ کیو کی ری ویمپنگ پر کام شروع کر دیا گیا ہے، گزشتہ حکومت نے ہسپتالوں کو ادھیڑ دینے کے بعد کام روک دیا تھا،اب تمام رکاوٹوں کو دور کر کے کام شروع کیا جا چکا ہے،فنڈز کی فراہمی کے بعد کام تیزی سے جاری ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے سوال کے جواب پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایل این جی وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے بجلی کا شاٹ فال بڑھاجبکہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ڈیمز میں پانی کی کمی سے ہائیڈرو کپیسٹی میں کمی ہوئی ہے،آج سے گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس فل کپیسٹی پر چلنا شروع ہوجائیں گے،کوشش ہے کہ شیڈول لوڈشیڈنگ نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کو نوٹس سے یہ بات واضح ہوگی ہے کہ نیب اور حکومتی گٹھ جوڑکا بیانیہ دم توڑ چکا ہے،نیب کے نوٹس کا جواب دینا ہر شخص کا حق ہے، حکومتی عہدیداروں میں جس پر انگلی اٹھی اس نے جاکر نیب کو جواب دیا،سب کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہے،حاکم وقت سب سے پہلے قانون کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے،سی ایم کے سیکرٹری نیب کے سوالوں کے خود جواب دیں گے،کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسسز کا خاتمہ اولین ترجیح ہے،رنگ روڈ راولپنڈی کی انکوائری انٹی کرپشن اور نیب کررہی ہے،انکوائری رپورٹ پبلک کریں گے حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔ معاون خصوصی نے کہاکہ رنگ روڈ راولپنڈی کی عوام کا حق ہے،وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں راولپنڈی پراجیکٹ کیلئے بجٹ میں فنڈ رکھنے جارہے ہیں،سیالکوٹ کی انڈسٹریز کو چلانے میں مزدور کا خون اور پسینہ شامل ہے،مزدور کے صحت کے مسائل کو حل کرنا ہمارے لئے چیلنج ہے،سوشل سیکیورٹی ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور لیبر کالونی ہماری ترجیحات میں شامل ہے، مزدور کے بچوں کی تعلیم، صحت اور رہائش کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت اور صنعتکاروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -سیالکوٹ -