افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ، سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے امریکہ کی سنگین غلطی کی نشاندہی کردی

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ، سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے امریکہ کی ...
افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ، سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے امریکہ کی سنگین غلطی کی نشاندہی کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کےمرکزی رہنمارحمان ملک نےکہاہےکہ امریکہ بغیر کسی باقاعدہ لائحہ عمل کے بغیر افغانستان چھوڑ رہا ہے،افغانستان سے بغیر لائحہ عمل کے افواج نکالنا امریکہ کی تاریخی غلطی ثابت ہوگی،بہتر ہوتا کہ امریکہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے سب کو قابل قبول عبوری حکومت تشکیل دیتے۔

سابق وزیرِداخلہ رحمان ملک کا اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں دنیا کے ہر ملک سے زائد ہیں،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے ستر ہزار جانوں کا نذرانہ دیا ہے،دہشتگردی کیخلاف جنگ کیوجہ سے پاکستان کی معشیت کو بہت نقصان پہنچا ہے،امید ہے کہ پاکستان میں رہنے والے سفراء امن کے لئے ہماری قربانیاں کو جانتے ہیں۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ روس کو شکست کے بعد طالبان، داعش اور القاعدہ  پیدا ہوئے، طالبان ہمیشہ امریکہ کے ڈارلنگ رہ چکے ہیں، آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکہ اشرف غنی یا طالبان کا ساتھ دیگا؟۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے چھ مہینوں کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت نظر آرہی ہے،طالبان اگر بھارتی اثررسوخ میں آئے تو انکو چین اور پاکستان  کیخلاف استعمال کیا جائیگا۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے،پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینے و قربانیوں کا کوئی صلہ نہیں ملا ہے،آج بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں ہے،ایف اے ٹی ایف پاکستان سے ہر قسم کی قانون سازی کروا رہا ہے،پوائنٹس پورے ہونے پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو نئے ڈیمانڈ دئیے۔

رحمان ملک کاکہناتھاکہ اب پاکستان پرنیاالزام عائد کیاگیاہےکہ افواج میں نوعمربچوں کوبھرتی کیاجارہاہے،فوج میں نوعمربچوں کی بھرتی کاالزام سراسر غلط ہے،پاکستان میں افواج میں بھرتی کی عمراٹھارہ سال ہے،کیڈٹ کالجز دنیا کے ہر ملک میں ہیں جسکا بھرتی سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید :

قومی -