پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں 

پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں 
پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں 

  

یکم جولائی کوآئی جی آفس میں ہونیوالے اجلاس میں پنجاب کے 14اضلاع کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کی سکیورٹی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق پر من و عن پابندی کے حوالے سے راوسردار علی خان نے اپنے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے غیر سیاسی کردار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے،افسران و اہلکار اپنے انفرادی عمل کے خود ذمہ دار ہو نگے،کوتاہی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا،یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ پولیس کو غیر سیاسی رہنا ہو گا مگر افسوس ناک امریہ ہے کہ اس ادارے میں پائی جانیوالی خرابیوں میں سب سے بڑی خرابی جو بیان کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اس ادارے میں سیاسی مداخلت کا رونا رویا جاتا، آئی جی صاحب اگر ہماری پولیس غیر سیاسی ہے تو پھر اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا،پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے اگر اسی طرح اس کی بے توقیری کی جاتی رہی تو آنے والے وقت میں کچھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کیلئے 1861 کا پولیس ایکٹ منظور کیا۔ اس کا مرکزی تصور یہ تھا کہ ہندوستان پر جو برطانوی سیاسی نظام رائج ہے اس کو جاری و ساری رکھا جائے۔ پولیس کا یہ ایکٹ عوام کی جان ومال کے تحفظ سے زیادہ سیاسی مصلحتوں پر مبنی تھا۔ہندوستان کے عوام پولیس ایکٹ کی وجہ سے جبر اور خوف کے سائے میں اپنی زندگی بسر کرتے رہے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد پولیس ایکٹ کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔انگریزوں کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا اس کو پاکستان کے جاگیرداروں سرمایہ داروں اور سول ملٹری بیوروکریسی نے پر کیا۔ان طبقات کے مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ پولیس ایکٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہ کی جائے تاکہ وہ پولیس کو اپنے ذاتی گروہی اور سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرتے رہیں۔ پاکستان میں مغربی جمہوری پارلیمانی نظام چلانے اور قائم رکھنے کیلئے بھی ضروری تھا کہ پولیس ایکٹ میں کسی قسم کا رد و بدل نہ کیا جائے تاکہ ”سٹیٹس کو“ قائم رہے اور استحصالی طبقات اپنے مفادات حاصل کرتے رہیں اور حسب ضرورت پولیس کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کر سکیں۔ تاریخ کا ریکارڈ شاہد ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہر انتخاب سے پہلے اپنے پارٹی منشوروں میں پولیس اصلاحات کے دعوے کرتی رہیں مگر جب ان کو عوام نے منتخب کیا وہ اقتدار میں آگئے تو انہوں نے اقتدار کی مصلحتوں کے تحت پولیس کے ایکٹ میں تبدیلی نہ کی۔سیاسی جماعتوں کا یہ تضاد کھل کر عوام کے سامنے آ چکا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام اس صورتحال کو جانتے ہوئے بھی کسی قسم کی مزاحمت کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے۔ عوام کی اس بے حسی کی وجہ سے پولیس آج بھی سیاستدانوں اور دوسرے طاقتور طبقات کی آلہء کار بنی ہوئی ہے۔ پولیس میں بھرتی میرٹ اور شفافیت کے اصول کی بجائے سفارش کی بنیاد پر کی جاتی رہی ہے۔پولیس میں سیاسی مداخلت آج بھی جاری ہے جس کی وجہ سے پولیس سروس ایک پروفیشنل فورس نہ بن سکی۔ اگر پولیس کو آزاد اور خودمختار بنا دیا جاتا اور اس میں سیاسی مداخلت نہ کی جاتی تو آج پاکستان کی فوج کی طرح پولیس کا شمار بھی دنیا کی کامیاب پولیس فورسز میں ہوتا۔پاکستان میں پولیس کی تاریخ افسوس ناک ہی رہی ہے۔ آج بھی ایف آئی آر رشوت کے بغیر درج نہیں کی جاتی۔ شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں پولیس کے زیر حراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگوں کو پولیس مقابلہ کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کے اندر احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ پاکستان میں قانون کی طاقت کے بجائے طاقت کا قانون رائج ہے جو جتنا بااثر ہے اتنا ہی وہ پولیس پر اپنا اثر ڈال کر لوگوں کو انتقام کا نشانہ بناتا ہے اور اپنے مفادات کیلئے پولیس کو استعمال کرتا ہے۔ آج بھی اگر پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں تحریک انصاف مسلم لیگ نون اور پی پی پی کے منشوروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں پولیس اصلاحات کے بارے میں بلند بانگ دعوے نظر آتے ہیں۔- سابق وزیر اعظم عمران خان کا بھی یہ دعوی تھا کہ پولیس کو غیر سیاسی اور آزاد بنائینگے مگروہ بھی پنجاب کے با اثر اراکین اسمبلی کا دباؤ برداشت نہ کرسکے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنے انتخابی حلقوں میں پولیس کی مدد سے ہی اپنا سیاسی تسلط قائم رکھتے ہیں۔ ہر ریاست میں پولیس کا ادارہ بنیادی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ریاست کا کاروبار پرامن طور پر چلایا جا سکتا ہے اور جرائم پر کنٹرول کیا جاتا ہے مگر افسوس پاکستان میں پولیس کی اہمیت کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا اور تاریخ میں ہم نے اکثر دیکھا کہ جب بھی کوئی بحران پیدا ہوا تو پولیس اس میں ناکام نظر آئی اور ہر حکومت کو امن و امان کے قیام کیلئے فوج کو ہی طلب کرنا پڑتا رہا-موجودہ سیاسی اور جمہوری نظام عوام دوست پولیس نہیں دے سکتا لہذا اسے تبدیل کرنا قومی اور عوامی مفاد میں ہے۔ عوام بیدار باشعور اور منظم ہو کر عوام دشمن پولیس قوانین سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور ایک ایسی پولیس فورس تشکیل دی جا سکتی ہے جو بااثر افراد کی بجائے عوام کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہو-

مزید :

رائے -کالم -