جہانیاں میں لے پالک بیٹے نے باپ کو قتل کر ڈالا ، تفتیش کے دوران والد کی گاڑی سے پولیس کو ملنے والی نتھنی نے سارا کیس حل کر دیا 

جہانیاں میں لے پالک بیٹے نے باپ کو قتل کر ڈالا ، تفتیش کے دوران والد کی گاڑی ...
جہانیاں میں لے پالک بیٹے نے باپ کو قتل کر ڈالا ، تفتیش کے دوران والد کی گاڑی سے پولیس کو ملنے والی نتھنی نے سارا کیس حل کر دیا 

  

خانیوال (ڈیلی پاکستان آن لائن )جہانیاں میں جائیداد اور پیسے کی خاطر لے پالک بیٹے نے اپنے والد کے تمام احسانات کو پیروں تلے روندتے ہوئے لالچی ہو کر اسے قتل کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جون کی 23 تاریخ کو پیش آیا جس کی اطلاع پولیس کو ون فائیو پر کال کے ذریعے ملی ، ایس ایچ او جہانیاں سعد بن سعید نے کیس کی تفتیش کی اور ملزمان کو پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے گرفتار کیا ، 26 سالہ بیٹے زوہیب نے 60 سالہ باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیاہے ، لے پالک بیٹا جبکہ اس کا سگا بھتیجا بھی تھا ۔ 

ایس ایچ او نے بتایا کہ ہمیں 23 جون کو زمیندار جمال کو فائرنگ کر کے قتل کیئے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ، جب موقع پر پہنچے تو گھر والے یہی بات کر رہے تھے کہ ڈکیتی کے دوران اسے قتل کیا گیا ، لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجنے کے بعد جب گاڑی کی تلاشی لی تو اس میں سے خاتون کی ناک میں پہننے والی نتھنی اور چند نئے زنانہ سوٹ برآمد ہوئے جو کہ ڈگی میں موجود تھے جبکہ نتھنی 60 سالہ جمال کے پرس میں تھی ، تفتیش کے دوران مقتول جمال کے موبائل کا ڈیٹا دیا گیا ، ورثاءکچھ بھی بتانے کو تیار نہیں تھے اور حقائق کو چھپا رہے تھے ۔

ایس ایچ او کا کہناتھا کہ میں نے سوچا کہ مرنے والی کی عمر 67 برس ہے اور یہ نتھنی کس کیلئے لے کر جارہا تھا ، یہ تو شادی شدہ بھی نہیں ، اس کے پرس میں نتھنی کی موجودگی مشکوک دکھائی دی ، جب اس کا موبائل ڈیٹا دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کا رابطہ کسی 45 سالہ خاتون کے ساتھ تھا اور پھر تفتیش کا اینگل یہ سامنے رکھا کہ شائد خاتون نے قتل کروایا ہو لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، جس کے بعد تفتیش کا رخ اہل خانہ کی جانب موڑا گیا ، لے پالک بیٹے زوہیب کا بیان ریکارڈ کیا گیا جب اس سے پوچھا کہ اس دن تم کہاں تھے تو اس نے تین چار متضاد بیانات دیئے جو کہ بہت عجیب اور حقیقت سے دور تھے کیونکہ اس نوجوان کے بیان اس کے موبائل لوکیشن کے ساتھ میل نہیں کھا رہے تھے ، لے پالک بیٹے کو شامل تفتیش کر لیا گیا ، اس کا بھی موبائل کی تفصیلات حاصل کی گئیں تو معلوم ہواکہ وہ اپنے خالو کے ساتھ قتل کے پہلے اور بعد میں بہت رابطے میں تھا ، خالو کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ،ان سے بھی پوچھا گیا کہ وہ اس دن کہاں تھے ، انہوں نے بھی جو کچھ بتایا وہ ان کی موبائل لوکیشن سے میل نہیں کھاتا تھا یعنی وہ غلط بیانی کر رہے تھے ، تھوڑی زیادہ تحقیق اور تفتیش کرنے کے بعد اس کے خالو نے اعتراف کرتے ہوئے سب کچھ بتانا شروع کر دیا ۔خالو نے بتایا کہ میرے والد دو بھائی تھے ، میں دوسرے کی اولاد ہوں ، پانچ بیٹیاں تھیں اور میں ایک بھائی تھا، مقتول کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ 

60 سالہ جمال کا تعلق ایک عورت سے تھا اور ڈر تھا کہ ان کی عمر زیادہ ہے یہ مر گئے تو عورت تب بھی حصہ لے لی گی یا اگر کوئی بچہ ہو گیا تو تب بھی حصہ چلا جائے گا، میں نے انہیں سمجھایا کہ آپ شادی نہ کریں لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی، میں نے پلاننگ شروع کر دی ، ان کے بینک اکاﺅنٹس میں پیسے کافی زیادہ پڑے ہیں اور زمین کافی مہنگی ہے ، ہم نے ریکی کی اور دو بار مانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے ، جس دن قتل کیا ہمیں شک تھا کہ یہ خاتون سے نکاح کرنے جارہے ہیں کیونکہ انہوں نے ملتان سے شاپنگ بھی کی تھی ۔

مزید :

جرم و انصاف -