ڈاکٹر عائشہ عظیم کی تحقیق پر مبنی کتاب ”مشاہیرکے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی“کی تقریب رونمائی,صدار ت سینئر صحافی و کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے کی

ڈاکٹر عائشہ عظیم کی تحقیق پر مبنی کتاب ”مشاہیرکے خطوط بنام عطاء الحق ...
ڈاکٹر عائشہ عظیم کی تحقیق پر مبنی کتاب ”مشاہیرکے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی“کی تقریب رونمائی,صدار ت سینئر صحافی و کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے کی

  

 لاہور(نیوزرپورٹر)ڈاکٹر عائشہ عظیم کی تحقیق پر مبنی کتاب ”مشاہیرکے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی“کی تقریب رونمائی گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ہوئی جسکی صدار ت سینئر صحافی و کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے کی۔ تحقیق و تدوین ڈاکٹرعائشہ عظیم نے کی میزبانی کے فرائض فائزہ بخاری نے انجام دئیے جبکہ اظہار خیال کرنیوالو ں میں پرویزرشید،ِحامدمیر، پروفیسرڈاکٹر نجیب اللہ، گل نوخیزاختر، ابرارندیم، رؤف کلاسرا، حسن نثار و دیگر شامل تھے۔ڈاکٹر عائشہ عظیم کی تحقیق پر مبنی کتاب ”مشاہیر کے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی“  750 صفحات پر مشتمل کتاب میں 240 سے زائد علمی، ادبی، سیاسی و سماجی شخصیات کے سینکڑوں خطوط شامل ہیں جو انہوں نے عطاء الحق قاسمی کے 6 دہائیوں پر محیط ادبی سفر کے دوران لکھے۔ خطوط لکھنے والوں میں ادیب، شاعر، دانشور، صحافی، وکیل، جج، بیوروکریٹس، سفارتکارغرض کہ ہر شعبہ  ہائےزندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی نامور سینئر صحافی و کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ معاصرکے نام سے پاکستان کا بہترین ادبی جریدہ شائع کرنے والے عطاء الحق قاسمی کے نا م لکھے گئے خطوط ان کی علمی و ادبی شخصیت کا بہترین احاطہ کرتے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی سے بہت کچھ سیکھا ہے ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں وہ ایک بہت اچھے افسانہ نگار اور شاعر ہیں خطوط کا مجموعہ منظر عام پر آنا ایک تاریخی کارنامہ ہے اس دور میں خطوط ہی رابطہ کا واحد ذریعہ تھا اب تو جدید دور ہے،واٹس اپ اور ای میل سے کام چلایا جارہا ہے اس دور کے تو صرف قائد اعظم اور علامہ اقبال کے ہی خطوط محفوظ ہوں گے اب یہ خطوط قاسمی صاحب نے جس حفاظت سے رکھے اور ان کو منظر عام پر لائے یہ بہت بڑا کا م ہے جسے ضرور پذیرائی حاصل ہوگی بہت تحقیقی کام ہے اور یہ آسا ن نہیں ہے ان خطوط میں سیاست کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت اور تنقید بھی شامل ہے ان خطوط میں میرا نام بھی شامل ہے جو میرے لئے باعث فخر ہے ۔مجیب الرحمن شامی نے مزید کہا کہ خطوط میں شکایات چلغیاں اور جو معاشرے میں ہوتا ہے سب نظر آتا ہے میں عطاء الحق قاسمی کو مبارکباد دیتا ہوں، عطاء الحق قاسمی کو بہت عرصہ سے جانتا ہوں انہوں نے ہر مشکل کا م ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے لیکن ادب کیلئے بہت خدمات سر انجام دیں سابق چیف جسٹس نے جب ان پر پی ٹی وی کا چیئرمین بننے پر اعتراض کیا تو مجھے بہت تعجب ہوا اور ان پر غبن کا غلط الزام عائد کیا گیا اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور انہوں نے مشکلات کا مقابلہ کیا اور اس عہدہ کوخود ہی چھوڑ دیا میں ان کے لئے دعا گو ہوں کہ اسی طرح سے وہ مستقبل میں بھی مزید کامیابیاں حاصل کریں وہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ اس عظیم کتاب میں میرا بھی چھوٹا سا ذکر ہے میرا کوئی خط اس میں شامل نہیں قاسمی صاحب کا حکم ملا تو کچھ گزارشات لکھ کر لایا ہوں اس کتاب میں بڑے بڑے لوگوں کے خطوط ہیں ،پرویز رشید کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ، عطاء الحق  قاسمی کو اردو کا سب سے بڑا کالم نگار قرار دیا جارہا ہے یہ اعزاز انہیں اشفاق احمد نے دیا تھا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ان کے نام مختلف مشاہیر کے لکھے گئے خطوط سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے میں عطاء الحق قاسمی کو بہت قریب سے جانتا ہوں اور ان کا بہت اچھا دوست بھی ہوں ان کے کام نے ہمیشہ مجھے بہت متاثر کیا ۔ ان خطوط میں شکوہ جواب شکوہ بھی شامل ہے اس کو جو بھی پڑھے گا ضرور پسند کرے گا اس میں بہت تاریخی خطوط شامل ہیں ہمیں ان پر فخر ہے۔اس موقع عطاء الحق قاسمی نے کہاکہ میں سب شریک افراد کاشکریہ اداکرتاہوں یہ خطوط شائع ہونا باعث فخر ہیں۔

عطاء الحق قاسمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لائبریری ٹھیک کرتے ہوئے یہ خطوط ملے تھے جو میرے نام مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے لکھے۔سچ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عائشہ نے اس کام کو آگے بڑھایا اور ان خطوط کو شائع کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہے اور ان کی محنت و لگن کی وجہ سے ہی آج یہ خطوط پر مبنی کتاب منظر عام پر آئی۔ ڈاکٹر عائشہ بہت محنتی ہیں خطوط کو کتابی شکل دینے کا ان کا مشورہ تھا ۔میں نے ان کو اجازت دی اور میری سوچ سے بڑھ کر انہوں نے اس پر کام کیا دن رات جس طرح سے اس پر محنت کی گئی یہ تاریخی خطوط پر مبنی کتاب ہے امید ہے کہ پڑھنے والے اس کو ضرو ر پسند کریں گے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے  نامور صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی ہمارے لئے ایک استاد کی حثیت رکھتے ہیں او ر ان کے خطوط کا منظر عام پر آنا بہت بڑا کارنامہ ہے اس میں  ڈاکٹرعائشہ عظیم  کے کردار کی تعریف ہونی چاہئے اس کو جو بھی پڑھے گا ضرور پسند کرے گا ۔عطاء الحق قاسمی نے اپنے کا م سے ملک کا نام روشن کیا ہے ان کا ثقافتی دنیا میں قد بہت بڑا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر صحافی و کالم نگار حسن نثار نے کہا کہ یہ تاریخی کام ہے جسے بہت پذیرائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے گل نوخیز اختر نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ جو لکھتے ہیں ہم سب کی اس پر نظر ہوتی ہے وہ ہمارے لئے  اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کتاب کی محقق اور تدوین ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ، یہ میری زندگی کا سب سے بڑا کام ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتی میں نے بہترین انداز سے اس کو پیش کرنے کی کوشش کی۔امید ہے اس کو پڑھنے والے ضرور پسند کریں گے میں اس حوالے سے بہت پرجوش ہوں یہ غیر معمولی کام ہے اس کے لئے میں نے بہت زیادہ محنت کی ہے جس کا مجھے صلہ ضرور ملے گا یہ خطوط عام خطوط نہیں ہیں یہ تاریخی کام ہے جس طرح سے آج اس تقریب میں میرے کام کی سب نے پذیرائی کی میں اس کو ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ میری کوشش ہوگی کہ اسی طرح سے مستقبل میں بھی اپنے فرائض احسن انداز سے انجام دے سکوں۔

مزید :

ادب وثقافت -