جیکسن سٹریٹ کے گھر میں ہر وقت موسیقی کی دُھنیں بجتی رہتیں لیکن آسائش کا تصور کرنا محال تھا

جیکسن سٹریٹ کے گھر میں ہر وقت موسیقی کی دُھنیں بجتی رہتیں لیکن آسائش کا تصور ...
جیکسن سٹریٹ کے گھر میں ہر وقت موسیقی کی دُھنیں بجتی رہتیں لیکن آسائش کا تصور کرنا محال تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 7

اس دوران میرا باپ گھر میں ہونے والی سرگرمیوں کو سنجیدہ خیال کرنے لگا تھا۔ آنے والے دنوں کے دوران اُس نے’’فالکنز‘ ‘سے متعلق اپنی سرگرمیاں محدود کردیں اور زیادہ وقت گھر پہ گزارنے لگا۔ ہمارا یکجا ہونا انتہائی اہم ثابت ہوا اور وہ ہمیں گٹار بجانے کےلئے تربیت اور مشوروں سے نوازتا۔ مارلن اور میں کم سِن تھے لہٰذا ہم گٹار نہیں بجا سکتے تھے لیکن اپنے باپ کو دیکھا کرتے جو بڑے بھائیوں کو ریہرسل کروا رہا ہوتا اور یوں ہماری تربیت ہوتی رہی۔ باپ کی عدم موجودگی میں اُس کے گٹار کو استعمال کرنے کی پابندی تاحال موجود تھی لیکن میرے بھائی ہر وقت اُسے استعمال کرنے کے خواہاں رہتے۔ جیکسن سٹریٹ کے گھر میں ہر وقت موسیقی کی دُھنیں بجتی رہتی۔ باپ اور ماں نے ریبی اور جیکی کو کم سِنی میں موسیقی کی باقاعدہ تربیت دلائی تھی لہٰذا اُن کا ایک پسِ منظر تھا۔ گیری کے وہ تمام سکول جہاں ہم زیرِ تعلیم رہے تھے، وہاں موسیقی کی تعلیم دی جاتی تھی اور اُن سب کا اپنا بینڈ تھا لیکن وہاں اس قدر تربیت نہیں دی جاتی تھی جو تھکن کا باعث بنتی۔

”فالکنز“ تاحال ذریعہ آمدن بن رہا تھا لیکن اِسے پرفارمنس کے مواقع کم ملتے تھے اور اضافی آمدن کا حصول ہمارے لئے اہم تھا۔ یہ رقم خاندان کی ضروریات پورا کرنے کےلئے معقول تھی لیکن آسائش کا تصور کرنا محال تھا۔ ماں جُزو وقتی ملازمت کر رہی تھی اور باپ تاحال سٹیل مل سے وابستہ تھا،کسی کو معاشی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا۔ لیکن جب میں ماضی کے اوراق کو پلٹتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ زندگی ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے ایک فیصلہ کُن اختتامی موڑ پر پہنچ چکی ہو۔

ایک روز باپ رات دیر گئے گھر واپس لوٹا اور ماں تقریباً پریشان ہو چکی تھی۔ وہ جب گھر پہنچا تو ماں اُس سے لڑنے کےلئے تیار تھی۔ یہ کچھ ایسا تھا جس کا ہم لڑکے ایک بار مشاہدہ کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا باپ کس طرح اپنا بچاﺅ کرتا ہے لیکن جب اُس نے دروازے سے اندر جھانکا، اُس کے چہرے کے تاثرات پُراسرار محسوس ہوئے اور وہ کوئی چیز پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم اُس وقت چونک گئے جب اُس نے چمکتا ہوا سرخ گٹار سامنے کیا۔ یہ الماری میں رکھے ہوئے گٹار سے تھوڑا چھوٹا تھا۔ ہم پُر امید تھے کہ پرانا گٹار ہمیں مل جائے گا لیکن باپ نے کہا کہ نیا گٹار ٹیٹو کےلئے ہے۔ ہم گٹار کی تعریف کرنے کےلئے اُس کے اردگرد جمع ہوگئے۔ تب باپ نے ٹیٹو کو کہا کہ وہ ہم سب کو گٹار استعمال کرنے دے گا۔ ہم اسے شیخی بگھارنے کےلئے سکول نہیں لے جا سکتے تھے۔ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا تحفہ تھا اور یوں یہ دن جیکسن خاندان کےلئے یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔

ماں ہماری کامرانی پر خوش تھی لیکن وہ اپنے خاوند کی امنگوں سے ہماری نسبت زیادہ واقف تھی جو اُس نے ہمارے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں۔ اُس نے ہمارے سونے کے بعد رات دیر گئے تک ماں سے تبادلہ خیال کیا۔ اُس کے کچھ خواب تھے جنہیں محض ایک گٹار کی وجہ سے تعبیر نہیں مل سکتی تھی۔ جلد ہی ہمیں تحفہ میں رقص و موسیقی کا سامان دیا گیا۔ جرمین کو ڈرم اور ایمپلی فائر ملا۔ جیکی کو رقص کرنے کا سامان ملا۔ ہمارا رہائشی کمرہ موسیقی کی دکان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اکثر اوقات میں ماں اور باپ کے لڑنے کی آواز سنتا، خاص طور پر جب پیسوں کی بات ہوتی کیونکہ یہ سب آلات بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرکے خریدے گئے تھے۔ باپ پُر یقین تھا اور وہ اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا۔

حتیٰ کہ ہمارے پاس گھر میں مائیکرو فونز تھے۔ یہ اُس وقت ایک بڑی اور حقیقی آسائش تھی۔ خاص طور پر ایک ایسی عورت جو انتہائی محدود مالی وسائل میں امورِ خانہ داری چلانے کی کوشش کر رہی ہو لیکن میں سمجھ گیا تھا کہ یہ مائیکروفونز محض دکھاوے اور نمود ونمائش کی کوشش نہیں ہیں۔ یہ یہاں اس لئے ہیں تاکہ ہماری تیاری میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ میں نے ٹیلنٹ شوز میں لوگوں کو دیکھا تھا، گھر سے تربیت لے کرآنے والے نو آموز فنکارمائیکرو فون کا سامنا اطمینان سے کیا کرتے تھے۔ دوسرے اپنے گیتوں کو چیخوں کی صورت میں پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ انہیں مائک کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اُس سہولت سے فائدہ اُٹھا سکتے تھے جو انہیں حاصل نہیں تھی۔۔۔ ایک ایسا فائدہ جو محض تجربہ ہی آپ کو فراہم کر سکتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہو سکتا ہے ہماری اس کامیابی نے کچھ لوگوں کو حسد میں مبتلا کر دیا ہو کیونکہ وہ کہتے تھے کہ مائیک کے ساتھ شناسائی سے ہمیں فائدہ پہنچا ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو اس کےلئے ہم نے فراغت کے لمحات، دوستوں کی قربت اور تعلیمی معمولات کی قربانیاں دی ہیں۔۔۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حسد کرے۔ ہم نے اپنے فن میں مہارت حاصل کر لی تھی لیکن ہم اپنے سے دگنی عمر کے لوگوں کی طرح کام کر رہے تھے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -