پاک امریکہ کشیدگی کم کرا سکتاہوں:بلاول بھٹو

پاک امریکہ کشیدگی کم کرا سکتاہوں:بلاول بھٹو
پاک امریکہ کشیدگی کم کرا سکتاہوں:بلاول بھٹو

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔امریکی جریدے نیوز ویک کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا رویہ درست نہیں۔ پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں سے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہمارے لیے دکھ کا باعث ہیں۔ انہوں نے ایبٹ آباد آپریشن میں سی آئی اے کی مدد کے حوالے سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کیخلاف قانونی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد کرنا غیر قانونی عمل تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں طویل جدوجہد کے بعد آزاد عدلیہ کو بحال کیا اور جمہوری حکومت آئین و قانون کی مکمل طور پر پاسداری کرتی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ 27 دسمبر 2007ء کے سیاہ دن کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا تاہم انہوں نے ایک بار پھر اس موقف کو دوہرایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پ±رامن جماعت ہے اور جمہوریت کو بھی سب سے بڑا انتقام سمجھتی ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ماڈرن بنائے اور اپنا سیاسی کیریئر بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے پاکستانی عوام پرامن اور روشن خیال ہیں ہم نے ملک سے اس نظریے کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے جس نے میری والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو شہید کو ہم سے چھینا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ماں نے جس ویژن کا انتخاب کیا تھا وہ میرے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج میں لندن اور دبئی میں مقیم ہوں تو اس کی وجہ پاکستان میں میرے لیے وہی خطرات ہیں جو میری والدہ کو تھے۔ میں اپنی والدہ کے مشن کی تکمیل کے لیے پ±رعزم ہوں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ وہ مغرب اور پاکستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھی مدد کرسکتے ہیں۔

مزید : قومی