شریف برادران جمہوریت کی پہچان

شریف برادران جمہوریت کی پہچان
شریف برادران جمہوریت کی پہچان

  


کہتے ہیں ارادے نیک ہوں اور نیت صاف ہو تو وہ دن دور نہیں ہوتا جب منزل مل جاتی ہے۔ ملک و قوم کا درد سینے میں ہو اور عوام کی خوشحالی کا خیال ہو تو پھر ترقی کی منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اچھے کام کرنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں اور کٹھن مرحلے آتے ہیں، اس کے ساتھ بے جا مخالفت بھی ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا، دشوار گزار راستوں پر بیٹھ کر تھکاوٹ کا رونا رویا جائے نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا بلکہ صبر اور حوصلے سے سفر جاری رکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مخالفین کی تنقید سے دل برداشتہ ہو کر ملک و قوم کی خدمت سے ہاتھ اُٹھا لئے جائیں نہیں ایسا بھی نہیں ہوتا بلکہ تنقید کرنے والوں کو نظر انداز کر کے آگے ہی آگے بڑھا جاتا ہے اور خوشحالی کی منزل کی طرف سفر جاری رکھا جاتا ہے۔ (ن) لیگ کی حکومت کو آئے ابھی مشکل سے ایک سال ہوا ہے، اس ایک سال میں انہوں نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، مثال کے طور پر رویائی مسعود ٹیکسٹائل پارک کا قیام اس میں 270 میگا واٹ کول پاور پلانٹ بھی لگایا جا رہا ہے۔ بجلی کے کئی منصوبوں کا آغاز ہونا موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ سے ریکارڈ مدت میں 1320میگا واٹ سستی بجلی دستیاب ہو گی،ا س پروجیکٹ کا بھی افتتاح ہو چکا ہے اور کام بھی ساتھ ہی شروع ہو چکا ہے۔ یہ وہ منصوبے ہیں جو ملک و قوم کی تقدیر بدل دیں گے اور وطن عزیز کو ترقی یافتہ ملکوں میں شامل کر دیں گے۔

اس سلسلے میں ہمارا ہمسایہ اور پرانا دوست ملک چین ہر قدم پر ساتھ ساتھ ہے، سچ تو یہ ہے کہ چین نہ صرف ہمیں ترقی کی منزل کی جانب لے جانے میں ہمارا ساتھ دے رہا ہے بلکہ اس ملک کو ہمارا ترقی کرنا اچھا بھی لگتا ہے، ابھی جہاں جہاں بھی توانائی کے منصوبوں کا افتتاح ہوا چین کے اعلیٰ عہدے دار ساتھ رہے، ان کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی ایسا لگتا تھا جیسے یہ دل سے خوش ہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو جائے۔چین کی جانب سے 32 ارب ڈالر کا پیکج چینی قیادت کا وہ اعلیٰ اقدام ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اس طرف بھی بڑا کھلا اشارہ ہے کہ چینی حکومت وزیر اعظم نوازشریف کی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتی ہے اور اسے یقین ہے کہ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف نے اپنے وطن کے لئے جس یقین کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے، ایسا کوئی محب الوطن لیڈر اور بے لوث راہنما ہی کر سکتا ہے۔ چینی حکومت جان گئی ہے کہ (ن) لیگ کی قیادت ملک میں صنعتی، زرعی اور اقتصادی انقلاب کے ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی انقلاب برپا کر دے گی۔ سابقہ حکومت نے نندی پور پاور پراجیکٹ کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا، کروڑوں کی مشینری دھوپ اور بارش میں پڑی پڑی ضائع ہو گئی، نقصان کس کا ہوا قوم کا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔

 اس بے حسی، لاپرواہی اورسنگدلی کا نوٹس میاں نوازشریف اور شہباز شریف نے خاص طور پر لیا، نندی پور پاور پراجیکٹ جہاں سے 425 میگا واٹ بجلی حاصل ہونی تھی اسے سابقہ حکومت نے نظر نداز کر دیا، یہاں تک کہ 3 برس تک نندی پور پاور پراجیکٹ کی مشینری کراچی میں زنگ آلود ہوتی رہی۔ اس طرح سابقہ حکومت نے 165 ارب کا قومی نقصان کیا، خدا خدا کر کے پیپلزپارٹی کی حکومت سے گلو خلاصی ہوئی ہے، اب نندی پور پاور پراجیکٹ نے باقاعدہ طور پر بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے اور اس پروجیکٹ پر بھی موجودہ حکومت نے دن رات کام کروایا ہے، نہ صرف یہ بلکہ اس منصوبے میں اتنی دلچسپی لی کہ یہاں کسی تاخیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح ساہیوال کول پاور پراجیکٹ پر کام شروع ہو چکا ہے جہاں سے 1320ءمیگا واٹ بجلی ریکارڈ مدت میں حاصل ہو گی۔ساہیوال کول پاور پراجیکٹ 2016ءتک مکمل کر لیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف 2 سال کی قلیل مدت میں یہ پروجیکٹ ملک و قوم کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔آئندہ 7 برسوں میں 20 ہزار میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ان تمام منصوبوں میں جہاں میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی جانفشانی شامل ہو گی وہاں چینی حکومت کا تعاون بھی ہوگا۔

بہاولپور میں 1000 میگا واٹ قائد اعظم سولر پاور پارک کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ بائیو گیس منصوبے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ نندی پور، فیصل آباد اور ساہیوال میں لگائے گئے توانائی کے منصوبے خاص اہمیت کے حامل ہیں اور ان منصوبوں سے یقیناً ہمارا پیارا پاکستان اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ جائے گا اور ہم روشن پاکستان کی منزل حاصل کر لیں گے، روشن پاکستان ہماری اُمیدوں کا مرکز ہے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی لوڈشیڈنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے واپڈا کے اعلیٰ افسران کو یہ ذمے داری سونپی کہ وہ توانائی کے بحران پر قابو پائیں اور ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے لوڈشیڈنگ کا عذاب کم ہو جائے۔ لیکن اعلیٰ افسران کے چہرے کچھ اور کہتے رہے اور اندرونی کہانیاں کچھ اور بن رہی تھیں، مگر شریف برادران کی کڑی نظر نے کرپشن کا شکار کرنے والوں کو دیر نہ لگائی اُن کا گھیرا تنگ کر دیا اور اندھیروں میں ملک کو ڈبونے والوں کو گرفت میں لے لیا، شائد شریف برادران کے کسی دشمن نے اُنہیں خریدا ہوا تھا۔ اُن افسران کے ظاہر ہونے کے بعد لاہور شہر میں بھی بجلی کم جانے لگی یہ بھی شریف برادران کا ایک بہترین کارنامہ بن گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے ہی لگائے ہوئے بندوں کو غلطی پہ معافی نہیں دیتے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اعلیٰ منسٹریوں میں تو کوئی اس گھناﺅنے جرم میں شامل تو نہیں، اگر ہے تو شریف برادران اسے بھی معاف نہیں کریں گے، پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا سکینڈل ہے جو ظاہر ہوا، ماضی میں بھی ایسا ہوگا مگر پہلی حکومتوں نے پروا نہیں کی۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ رہے تھے موجودہ حکومت نے پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے آتے ہی طوفانی دورے کئے، ترکی، ایران، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور چین کے دورے کر کے وہاں سے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے منصوبوں پر معاہدے کئے اور ان ممالک کے تعاون کو یقینی بنانے کے لئے دن رات یادداشتیں اور یقین دہانیاں جاری رکھی گئیں جن کا بہت اچھا رزلٹ نکلا اور جن ممالک کے دورے کئے تھے وہ ترقی کے منصوبوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ جمہوری حکومت خاص طور پر جمہوری حکومت ہے جس نے جمہور کی خوشحالی کے لئے شب و روز کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، ترکی کے تعاون سے میٹرو بس سروس کا آغاز بھی خاص اہمیت کا حامل ہے، لاہور میں اس کی کامیابی کے بعد اب کراچی میں میٹرو بس پروجیکٹ پر کام شروع ہو چکا ہے، اس کے بعد دیگر شہروں میں بھی میٹرو بس سروس کا آغاز ہوگا۔

میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے جس تیزی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا ہے اس کی مثال ہمارے ملک میں پہلے نہیں ملتی اور نہ ہی ایسی جمہوریت پہلے نظر آئی ہے۔ ایک جمہوریت روٹی کپڑا اور مکان دینے والی بھی تھی مگر کسی کو روٹی کپڑا اور مکان نہ دے سکی، نعرے بازی الگ بات ہوتی ہے اور عملی اقدامات الگ ہوتے ہیں (ن) لیگ کی حکومت نعرے بازی پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔

مزید : کالم


loading...