پولیو قطرے سرٹیفکیٹ: تارکین وطن کی مشکلات!

پولیو قطرے سرٹیفکیٹ: تارکین وطن کی مشکلات!
پولیو قطرے سرٹیفکیٹ: تارکین وطن کی مشکلات!

  


حکومتِ پاکستان نے شاید ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی اداروں کے دباﺅ کے تحت فیصلہ کیاہے کہ بیرونِ ملک جانے والے ہر پاکستانی کو پولیو کے قطرے پینے ہوں گے اور ایئرپورٹ پر سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا!یہ حکم نافذ العمل ہو گیا ہے۔اس فوری فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں پولیو کے قطرے پلانے اور M.S کے سرٹیفکیٹ کا اہتمام کیا گیا ہے! یہ الگ موضوع ہے کہ یہ فوری اور عاجلانہ حکم کن بیرونی ”حاکموں“ یا کن دوا ساز اداروں کی کمائی کے لئے کیا گیا ہے؟ کیونکہ کچھ عرصہ قبل ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کے لئے ضروری قرار دیا گیا تو اخبارات میں یہ سکینڈل بھی سامنے آیا کہ چند وزراءنے بیرون ملک سے ”ہیلمنٹ“ منگوائے تھے اور فروخت نہیں ہو رہے تھے۔ قانون کے کوڑے نے لاکھوں ہیلمٹ ایک روز میں فروخت کروا دیئے! ہیلمٹ منگوانے والوں کی چاندی ہو گئی۔ اسی طرح کسی وائرس کی اطلاع ملی تو معلوم ہوا کہ امریکی اینٹی وائرس کمپنی کی ادویات کو فروخت کرانا مطلوب تھا! ہم نیت پر شک نہیں کرتے، لیکن ماضی کے واقعات تائید کرتے ہیں کہ پولیو ویکسین تیار کرنے والی کمپنی نے پولیو وائرس کا ”ہوا“ کھڑا کر کے اس غریب قوم کی گردن پر پاﺅں رکھ کر یہ عاجلانہ حکم جاری کروا دیا ہے۔

اس بین الاقوامی ڈکیتی سے قطع نظر قوم کے بچے بوڑھے، خواتین و مرد حضرات ،خصوصاً بیرون ملک جانے والے مسافروں کو پولیو سے بچانے کے لئے مفت قطروں کا اہتمام کیا ہے، اگر حکومت چاہے تو ان دو قطروں کی قیمت جو چاہے مقرر کر دے، لوگ ادا کرنے کے پابند ہوں گے ،قوم اور مسافروں کو حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ہم احسان فراموش نہیں!ان قطروں کو پلانے اور سرٹیفکیٹ کے حصول کا طریقہ کار انتہائی طویل، صبر آزما اور تکلیف دہ ہے۔ شاید اس کا ادراک نہ ہوتا ،لیکن دو روز پہلے اتفاقاً ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جانے کا موقع ملا۔ عزیز بھٹی ہسپتال کے ہیڈ کلرک کے دفتر کی طرف سائلوں کو گروہ در گروہ جاتے دیکھا ،سینکڑوں مرد و خواتین ایک کمرے میں بری طرح دھکم پیل سے کررہے تھے اس دھکم پھیل میں خواتین کی بے حرمتی اور تقدس کو مجروح ہوتے دیکھا ۔کہنے کو ایک پولیس کا اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھا ،مگر وہ کرسی پر براجمان اس دھکم پیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا اور کبھی کبھی چھڑی لہرا کر قطار بنانے کا آرڈر جاری کر کے اپنے وجود کا احساس دلا رہا تھا۔

شریف الطبع ہیڈ کلرک جب اپنی بساط کے مطابق کمپیوٹر پر لوگوں کے کوائف درج کر کے پرنٹ نکال رہے تھے۔ بہت سے ” سائلین“ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس اہم تاریخی ” دستاویز“کی تیاری کے لئے کیا بنیادی کوائف درکار ہیں؟ پاسپورٹ کی فوٹو سٹیٹ، شناختی کارڈ کی فوٹو سٹیٹ اور دو عدد فوٹو! کوئی قطار سے نکل کر فوٹو سٹیٹ کے لئے سرگرداں تھا، کوئی فوٹو کے لئے جا رہا تھا۔ ہیڈ کلرک فوری پرنٹ نکالتے، فوری کاغذات کو Arrange کرتے اور سائل کو دستخط کرنے کی ہدایت کرتے! ستم یہ کہ ہر آدمی کو جلدی کہ اس کا کام پہلے ہو! ایک اہلکار کتنے افراد کے غصے اور جذبات کا مقابلہ کرے، ان کے حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے، تاہم بڑی تگ و دو کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد کاغذات مکمل ہوتے تو کمرہ نمبر 3 میں قطرے پلانے کے لئے بھیجا جاتا! اب ہوا یہ کہ جونہی گیارہ بجے کے قریب تقریباً ڈیڑھ دوسو کے قریب لوگوں نے قطرے حلق میں اتار لئے تو معلوم ہوا کہ ایم ایس صاحب کسی میٹنگ میں تشریف لے گئے ہیں، اب ان کے دستخط اور مہر کل لگے گی۔ کل گیارہ بجے پھر حاضری دیں اور سرٹیفکیٹ وصول کریں۔

بیرونِ ملک جانے والے ان مسافروں میں کچھ لوگ تو عمرے پر جانے والے یا پہلی مرتبہ بیرون ملک جانے والے مسافر تھے ،لیکن اکثریت اُن تارکین وطن کی تھی جو کہ بیرون ملک مقیم ہیں۔ یورپ اور برطانیہ کی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ،وہ اپنے والدین، عزیز و اقارب اور بیوی بچوں کو ملنے آئے تھے، لیکن اب بیرون ملک جانے سے پہلے یہ سرٹیفکیٹ ضروری قرار دے دیا گیا کیونکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو پولیو کے وائرس کا شکار علاقہ قرار دیا جا چکا ہے ،بین الاقوامی ضابطوں کا احترام واجب ہے۔

ایک صاحب جو اٹلی سے تشریف لائے تھے سخت جھلائے ہوئے تھے کہنے لگے ،اس دفعہ ایئرپورٹ پر جو ذلالت ہوئی اور آج جس طرح ذلیل ہوا ہوں، آئندہ اس ” جہنم.... نعوذ باللہ کا رخ نہیں کروں گا“ ایک صاحب یوں گویا ہوئے کہ ہم سپین میں جب کسی کام کے لئے کسی بھی دفتر جاتے ہیں، آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر متعلقہ حکام کو اپنی ضرورت سے آگاہ کرتے ہیں، پندرہ بیس منٹ میں سکون سے ہمارا کام ہو جاتا ہے، ہم پاکستان کو کیا کریں؟ ملک سے محبت ہے ،لیکن ہمارے ساتھ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہوتا ہے، برطانیہ سے آئے ہوئے ایک ستم رسیدہ نے کہا کہ ہم مہذب قوموں سے تین سو سال پیچھے ہیں اور ہمارا سفر رجعت قہقری ہے۔ یہ تندو تیز جملے سنتا گیا کہ صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں شنید ہے کہ جو لوگ جلدی میں سرٹیفکیٹ نہیں بنا سکیں گے۔ ایئرپورٹ پر ان کو سہولت دی جائے گی! مگر کس قیمت پر؟ اس کا اندازہ مشکل نہیں، کیونکہ وہ تارکین وطن جو ملک کو اربوں روپے سالانہ بھیج کر قومی خدمت کرتے ہیں اور ملکی معیشت کو سہارا دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے اکثر ملازم اور اہلکار اس میزبان کی طرح ہیں جو آنے والے سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا لے کر آئے ہو اور جاتے ہوئے یہ رویہ ہوتا ہے کہ کیا دے کر جاﺅ گے! تارکین وطن ہمیشہ شاکی رہے ہیں۔بیرون ملک مقیم، پاکستانیوں سے ایئرپورٹ پر انتہائی شفیق اور خلیق عملہ تالیف قلب کے لئے ضروری ہے۔اس شرمناک صورت حال سے بچنے کے لئے چند اقدامات حکومت کی توجہ کے لئے ہیں۔ سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لئے صرف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز کی بجائے تحصیل ہیڈ کوارٹرز کو بھی اختیارات تفویض کئے جائیں اور اگر پھر بھی رش ہو تو پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی اختیارات دیئے جائیں، اگر اس کام کے لئے عارضی عملہ رکھنا پڑے تو سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے علیحدہ کاﺅنٹر بنائے جائیں، عملے کو تنخواہ دی جائے۔ لوگ پیسے اور معاوضہ تو دے سکتے ہیں لیکن عزتِ نفس کو مجروح کرنا برداشت نہیں کرتے!

ہمارے ہاں یہ بد قسمتی ہے کہ اگر کچہری میں جائیداد کی رجسٹری مقصود ہو اور تحصیلدار یا رجسٹرار کو صاحب بلا لیں تو کام رک جاتا ہے ،ایم ایس کو مجبوری ہو تو سرٹیفکیٹ کے لئے اگلی تاریخ مل جاتی ہے، کیا یہ ممکن نہیں کہ لوگوں کے دلوں میں قیمتی وقت کے ضیاع کی وجہ سے جو نفرت پیدا ہوتی ہے، اس کی بجائے کام کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لئے سیکنڈ ان کمان کو اختیار دیاجائے تاکہ لوگوںکی پریشانی کا ازالہ ہو!تارکین وطن کے لئے ہمارا قومی رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وطن کی محبت پیدا ہو نہ کہ نفرت! پہلے ہی ملک سے قیمتی Brain بیرون ملک منتقل ہونے کو ترجیح دے رہا ہے کہ اب پولیو کے قطرے تریاق ثابت ہوں نہ کہ ایک تھکا دینے والے عمل کی وجہ سے زہر کے قطرے محسوس ہوں! کیا حکمران کمزور آواز پر توجہ دیں گے ،ہم حب الوطنی کے جذبے کے تحت یہ فریاد حکام تک پہنچا کر اپنا قومی فریضہ ادا کر سکتے ہیں، اللہ کرے کہ ہماری آواز صحرا کی اذان ثابت نہ ہو!

مزید : کالم