اگر دس کروڑ غریب پاکستانی جاگ گئے!

اگر دس کروڑ غریب پاکستانی جاگ گئے!
 اگر دس کروڑ غریب پاکستانی جاگ گئے!

  



اب تو حکومت خود مان گئی ہے کہ ملک میں 50فیصد آبادی خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں کہ جہاں نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہو، کیا اس ملک کی معاشی ترجیحات وہی ہونی چاہئیں، جو ہماری ہیں۔ کیا میٹرو ٹرینیں، میٹرو بسیں اور اس نوعیت کے عالی شان منصوبے اس نصف آبادی کو کوئی ریلیف یا سہولت دے سکتے ہیں۔ کیا پہلی ترجیح اس نصف ملکی آبادی کو غربت کی لکیر سے اوپر لانا نہیں ہونی چاہئے؟ اگر اس طرف سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو غربت اور امارت کے درمیان حائل خلیج مزید گہری نہیں ہوتی جائے گی؟ کیا شرح غربت بڑھتی رہی تو ہمارے ہاں سیاسی استحکام، معاشی ترقی، معاشرتی سکون اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے گا؟ کوئی بھی ذی ہوش اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا، کیونکہ ساری خرابیاں ہی غربت اور بھوک سے جنم لیتی ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستانی سیاست کا محور یہی نکتہ رہا ہے۔ ہر بار اور ہر سیاسی جماعت کی طرف سے اسی غربت کو ختم کرنے کا نعرہ دیا گیا، مگر یہ حشرات الارض کی طرح بڑھتی ہی چلی گئی، حتیٰ کہ شاعروں نے اسے اپنی شاعری کا استعارہ بنا لیا:

سمیٹتا ہوں تو کچھ اور پھیل جاتا ہے

تمہارا ہجر بھی غربت کے جال جیسا ہے

غربت کے اس جال نے معاشرے کو اس بُری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ اس سے نکلنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آ رہی۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ ہمیں کسی اور بم سے اتنا خطرہ نہیں جتنا آبادی کے بم سے ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ اُن کی بات میں کس قدر گہرائی ہے۔ ہم ہر بم کا توڑ ڈھونڈ سکتے ہیں، مگر آبادی کے بم کا توڑ ہمیں دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا۔ آج جو پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اُن میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سارے منصوبے فیل ہو جاتے ہیں اور ساری سہولتیں کم پڑ جاتی ہیں۔ اس طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی، اسے اللہ کی دین سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ اب ایسی صورت حال میں غربت کا یہ چکر کیسے ختم ہو گا، شاید کسی کے پاس اس سوال کا جواب موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے66سال گزر جانے کے بعد بھی ہم ابھی تک نصف آبادی کو ہی غربت کی لکیر سے اوپر لا سکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے یہ ’’خوشخبری‘‘ بھی سنائی ہے کہ پاکستان میں فی کس آمدنی 1306ڈالر ہو گئی ہے۔ کاش ایسا ہوتا۔ فی کس آمدنی نکالنے کا فارمولا بھی کس قدرظالمانہ ہے، جو سالانہ اربوں ڈالرز کماتا ہے، اسے بھی ایک گنا جاتا ہے اور جس کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہوتے، اسے بھی ایک فرد سمجھ کر ملک کی کل آمدنی آبادی پر تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہاں آٹھ افراد پر مشتمل گھرانے کا صرف ایک فرد کماتا ہے اور300روپے بمشکل روزانہ اپنے گھر لاتا ہے۔ اگر فی کس آمدنی کا حساب لگایا جائے تو اُس گھرانے کی روزانہ آمدنی 2400روپے ہونی چاہئے، مگر ایسا تو غریب افراد خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ گویا جو فی کس آمدنی اقتصادی جائزے میں بتائی گئی ہے وہ اگرچہ شرمناک حد تک کم ہے تاہم اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ وہ بھی میسر نہیں۔

ایک طرف غربت کی یہ انتہا ہے تو دوسری طرف ظلم بھی اپنی پوری سفاکی کے ساتھ معاشرے میں پنجے گاڑھے ہوئے ہے۔ لوگوں کو اگر انصاف ملتا ہو، حکومت علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرتی ہو، امن اور تحفظ حاصل ہو، تو انہیں غربت اتنی زیادہ تکلیف نہیں دیتی، مگر یہاں تو غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ قانون بھی صرف غریب کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ کسی امیر کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھتا، غریبوں کی آہیں و فریادیں اونچے ایوانوں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جب ملک کی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی اوپر آئے گی تب ہمارے ہاں فلاحی نظام قائم ہو گا؟ یعنی نو من تیل ہو گا تو رادھا ناچے گی۔ کیا مملکت کے اداروں کو اس بنیاد پر تمیز بندہ و آقا کرنی چاہئے کہ کون غریب ہے اور کون امیر۔ اصولاً تو ہر گز نہیں، مگر زمینی حقیقتوں کے مطابق ایسا ہوتا ہے اور ہر جگہ ہو رہا ہے، اس لئے غُربت ہمارے معاشرے میں ایک عذاب بن گئی ہے۔ غریبوں کی جان محفوظ ہے اور نہ عزت، اُن کی بہن بیٹی اغوا ہو جائے تو پولیس مقدمہ تک درج نہیں کرتی، کسی معجزے کے تحت مقدمہ درج ہو جائے ، تو پولیس ٹس سے مس نہیں ہوتی، اُلٹا مدعیوں پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ بااثر افراد کے مقابلے میں انصاف کی امید رکھنے کی بجائے اُن سے صلح کر لیں۔ یوں ہمارے ہاں غربت کے زخم بہت گہرے ہیں۔ معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کے لئے غربت کا رونا نہیں رویا جا سکتا، کیونکہ عدل و انصاف کی فراہمی ریاستی اداروں کا کام ہے اور ان پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اُن کے لئے فنڈز مختص کرتے وقت اس بات کو دھیان میں نہیں رکھا جاتا کہ ملک کی نصف آبادی چونکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اس لئے عدل وانصاف صرف نصف آبادی کے لئے درکار ہے، بلکہ ملک کی کل آبادی کے لئے زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم سوشل سیکٹر میں غربت کے اثرات کو کم نہیں کر سکے۔اگر غریب کو سیوریج، گیس، علاج معالجے، تعلیم، پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولتیں ملنے لگیں تو وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی خوشی محسوس کریں گے۔

اقتصادی سروے کے مطابق ہماری برآمدات میں پچھلے سال کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف روزگار کے مواقع بھی نہیں بڑھے۔ روزگار کے مواقع تب بڑھیں گے جب ملک میں انڈسٹری لگے گی، چھوٹی چھوٹی صنعتوں کا رواج پڑے گا، ہنر مند مین پاور کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ اس ضمن میں حکومتی اقتصادی ماہرین کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ میٹرو بس یا میٹرو ٹرین جیسے منصوبے ترقی یافتہ معاشرے میں زیادہ مناسب لگتے ہیں۔ اس قسم کے منصوبوں سے اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود روزگار کے چند مواقع پیدا ہوتے ہیں، جبکہ یہی رقم اگر کاٹیج انڈسٹری کے فروغ پر خرچ کی جائے، تو ہزاروں افراد کو براہ راست روزگار بھی ملے اور برآمدات سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی حاصل ہو۔66سال ایک بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ اس عرصے میں ہم اپنی اقتصادی سمت متعین نہیں کر سکے۔ یہ درست ہے کہ معیشت شروع دن سے قرضوں میں جکڑی گئی تھی، مگر ترجیحات تو بدلنے کی کوششیں کی جانی چاہئے تھیں۔ کیا یہ ہمارے ماضی و حال کے اقتصادی ماہرین کی ناکامی نہیں کہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ ملک کی نصف آبادی کو خط ِ غربت سے نہیں نکال سکے۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک اقتصادی لحاظ سے ترقی کی اعلیٰ منازل کو طے کر چکے ہیں، جبکہ ہم آج بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ہر بار بجٹ پیش کرتے ہوئے ہمارے وزراء خزانہ اسی پہلو کو نمایاں کر کے بجٹ کے غیر عوامی ہونے کی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

مَیں سوچتا ہوں کہ ہم جس خونی انقلاب کے بارے میں سنتے ہیں اور جس کا تذکرہ بعض اوقات خود میاں محمد شہباز شریف بھی کر جاتے ہیں، وہ توکسی وقت بھی آ سکتا ہے، کیونکہ ہم نے50فیصد آبادی کو ایک ایسی حالت میں رکھا ہوا ہے، جہاں زندگی سے پیار نہیں نفرت ہو جاتی ہے، جہاں انسان سوچتا ہے کہ وہ کسی کو مارے یا خود مر جائے۔ ایک بار پھر غریبوں کے نام پر انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری غریبوں کا انقلاب لانے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں، یعنی وہ اُن 10کروڑ پاکستانیوں کی بات کر رہے ہیں، جو خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ 10کروڑ لوگ جاگ گئے، اپنے حقوق چھیننے کے لئے میدان میں آ گئے، تو کہیں وہ شعر سچ ثابت نہ ہو جائے:

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو

مزید : کالم


loading...