اقتصادی سروے کے آئینے میں معیشت کی تصویر

اقتصادی سروے کے آئینے میں معیشت کی تصویر

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال (2013-14ئ) کا جو اقتصادی سروے جاری کیا ہے اس کے مطابق ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوا، صنعتی شعبے نے ترقی کی، جبکہ بیشتر اہداف حاصل نہ ہو سکے، اقتصادی سروے کے مطابق مہنگائی میں 8.5فیصد، بیروزگاری میں6.2 فیصد اور ٹیکس وصولیوں میں16فیصد اضافہ ہوا، اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) میں4.1فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بجٹ میں اضافے کا ہدف4.4فیصد رکھا گیا تھا، سروسز سیکٹر کا ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2ارب 6کروڑ ڈالر رہا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا آدھی آبادی خط ِ غربت سے نیچے زندگی بسرکر رہی ہے۔ صنعتی ترقی5.8فیصد اور زرعی 2.12فیصد رہی، فی کس آمدنی بڑھ کر1306ڈالر ہو گئی۔ برآمدات بھی چار فیصد بڑھ گئی ہیں۔

اقتصادی سروے میں ملکی معیشت کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ اتنی روشن نہیں، بہت سے اعداد و شمار غربت کا جو نقشہ کھینچتے ہیں وہ حکومت کے لئے فکر کے کئی گوشے وا کرتا ہے۔ خاص طور پر ملک کی آدھی آبادی کا خط ِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا ہماری معیشت کا افسوسناک پہلو ہے۔ تاہم کچھ باتیں حوصلہ افزا بھی ہیں۔ اگرچہ جی ڈی پی کی شرح نمو4.1فیصد ہے اور آئی ایم ایف کے ذرائع کے مطابق یہ چار فیصد سے بھی نیچے ہے۔ تاہم اگر گزشتہ برسوں سے موازنہ کیا جائے تو یہ پہلو حوصلہ افزا نظر آتا ہے کہ6سال کے عرصے میں پہلی بار شرح نمو نے چار کا ہندسہ عبور کیا ہے، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مایوسی والی بھی کوئی بات نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگلے تین سال میں یہ شرح7فیصد تک لے جانے کا عزم ہے۔ اگرچہ فی الحال یہ محض نیک خواہش ہی ہے تاہم اگر ہم یہ ہدف تین سال میں حاصل کر لیں یا اس کے قریب قریب پہنچ جائیں تو بھی اسے کامیابی سمجھا جانا چاہئے۔ ویسے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر شرح ترقی8فیصد یا اس سے زیادہ ہو تو بیروزگاری میں کمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ ہدف حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔

اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی ترقی میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس حقیقت کے باوجود ریکارڈ کیا گیا کہ ملک میں انرجی کا شدید ترین بحران ہے، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جس سے عام صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے، گیس کا بھی بحران ہے، سی این جی سیکٹر سال رواں کے اوائل میں کئی مہینے بند رہا، اب بھی ہفتے میں صرف ایک دو بار سی این جی ملتی ہے۔ پاکستان کو یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کا درجہ دے دیا ہے، جس پر پاکستان نے بجا طور پر اظہار مسرت کیا ہے، لیکن برآمدات میں اسی صورت اضافہ ہو سکتا ہے جب صنعتی شعبے کو بجلی اور گیس ملتی رہے، لیکن عالم یہ ہے کہ ایک سیکٹر کو گیس ملتی ہے تو دوسرے کو بند کرنی پڑتی ہے۔ توانائی کے اس بحران کے باوجود اگر صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی ہے تو یہ شعبہ مبارک باد کا مستحق ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطب یہ ہے کہ اگر اس شعبے کی بجلی اور گیس کی ضروریات پوری کی جاتی رہیں، تو اس سے زیادہ تیز رفتار ترقی کی امید کی جا سکتی ہے۔ یہ شعبہ ایسا ہے جس میں ذرا نم ہو تو زیادہ زرخیزی کی توقع کی جا سکتی ہے۔غربت، مہنگائی اور قرضوں میں بے تحاشا اضافے سے معیشت کی اچھی تصویر سامنے نہیں آتی، اندرونی اور بیرونی قرضے جس تیز رفتاری سے بڑھے ہیں اس کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے اور سالانہ قومی بجٹ کا50فیصد سے بھی زیادہ ہر سال قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات قرضوں کے سود کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں، معیشت کا یہ پہلو بھی افسوس ناک ہے۔ قرضوں پر انحصار کم کرنے اور خود انحصاری کی زیادہ ضرورت ہے۔

قرض کی رقم سے اگر صنعتیں لگ رہی ہوں اور روزگار کے وسائل پیدا ہو رہے ہوں تو یہ قرضے مفید ہو سکتے ہیں، لیکن اگر قرضے لے کر محض حکومتی اخراجات پورے کر لئے جائیں اور نئے قرضے حکومتی فضول خرچیوں میں چلے جائیں ،تو ان قرضوں کا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں اور یہ محض معیشت پر بوجھ ہی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک کی جو نصف آبادی خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اسے اس خط سے اوپر لانے کے لئے بظاہر کوئی بڑے اقدامات نہیں کئے جا رہے، غربت کی شرح تو اسی صورت کم ہو سکتی ہے جب لوگوں کی آمدنیاں بڑھیں اور ان کے لئے روزگار کے وافر وسائل پیدا ہوں۔ ہمارے ہاں ایسے کچھ ادارے سرگرم عمل ہیں، جو غریب لوگوں کو ان کے پاﺅں پر کھڑا کرنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن یہ کام بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہا ہے۔ حکومت اسے وسیع پیمانے پر کر سکتی ہے۔ ملک کی آدھی آبادی کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اس کے لئے وسیع پیمانے پر وسائل درکار ہوتے ہیں، جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے، انکم سپورٹ کے نام پر ماضی میں جو پروگرام شروع کئے گئے اور جو اب تک جاری ہیں اُن سے غربت کم کرنے میں بظاہر کوئی مدد نہیں ملی۔ اس پروگرام میںخورد بُرد کی شکایات بھی ہیں اور نوسر باز قسم کے لوگ بھی اُن سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور اُلٹا سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وسیع پیمانے پر ایسے پروگرام شروع کرے، جن سے غربت حقیقی معنوں میں کم ہو سکے۔ یہ سال دو سال کا مسئلہ نہیں ہے، اس کام میں عشرے لگ سکتے ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں سے یہ کام شروع تو کرنا پڑے گا۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس میں شُبہ نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ملک میں بہت سی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ گندم میں خود کفالت حاصل ہوئی ہے۔ دوسری اشیائے خوراک بھی وافر پیدا ہوتی ہیں، پھلوں کی بھی فراوانی ہے پاکستان پھلوں کی برآمدات سے زرمبادلہ بھی کماتا ہے تاہم اس سیکٹر میں ابھی ترقی کی خاصی گنجائش ہے، ترقی دادہ بیج کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ دنیا بھر میں ہائی برڈ بیج استعمال ہو رہے ہیں جن سے زرعی پیداوار کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح کرم کش ادویات اور کھادیں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ہمارے کسان کو یہاں جو مسائل درپیش ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو جعلی کھادوں اور ادویات سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرف ہماری حکومتوں کی توجہ بہت ہی کم ہے۔ دوسرے کھادیں بروقت دستیاب نہیں ہوتیں اور ان کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں، جو کھادیں درآمد ہوتی ہیں ان پر ایک لگے بندھے ریٹ سے ایسے لوگ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں، جو حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوتے ہیں، کھاد وغیرہ کے کاروبار سے ایسے لوگ بھی وابستہ ہو جاتے ہیں، جن کا زراعت سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا، کسانوں کو بیج اور کھاد بروقت اور مناسب نرخوں پر ملے اور حکومت اس میں سبسڈی اس انداز سے خرچ کرے کہ کاشتکار اس سے براہ راست مستفید ہو تو زرعی شعبہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، چند سال کی محنت سے اس شعبے کو ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

مزید : اداریہ