بالا کوٹ، دریائے کنہار کا افسوس ناک حادثہ!

بالا کوٹ، دریائے کنہار کا افسوس ناک حادثہ!

آخری اطلاع تک جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نصراللہ شجیع کی نعش برآمد نہیں ہو سکی۔ ریسکیو ٹیمیں اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ نصر اللہ شجیع بالا کوٹ کے مقام پر اپنے ایک طالب علم علی سفیان عاصم کوبچانے کے لئے دریائے کنہار میں کود گئے اور دریا کے تیز بہاﺅ کی نذر ہو گئے۔ یہ واقعہ بالا کوٹ میں پیش آیا، جہاں لوگ تفریح کے لئے رکتے اور یہاں بہت سے ریسٹورنٹ بھی ہیں۔ نصر اللہ شجیع عثمان پبلک سکول کراچی کے طلباءپر مشتمل ایک گروپ لے کر تفریحی پروگرام کے تحت شمال کے کوہستانی علاقے کی طرف گئے تھے اور بالا کوٹ کے اس مقام پر رُکے تھے۔ دریائے کنہار وادی ¿ کاغان کا تیز رفتار دریا ہے۔ بالا کوٹ (پرانے شہر) سے کچھ باہر دریا کا منظر خوبصورت ہے یہاں کئی ریسٹورنٹ اور ہوٹل ہیں، جو سیاحوں کے لئے چائے، کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، یہاں سیاح ہی نہیں، بالا کوٹ اور مانسہرہ کے لوگ بھی تفریح کے لئے رکتے ہیں، اس سیاحتی مقام پر جگہ جگہ نوٹس لگے ہوئے ہیں کہ دریا کا بہاﺅ تیز ہے، دریا کے اندر اُترنا منع ہے، اس کے باوجود سیاح کنارے کے ساتھ پڑے پتھروں کے سہارے پانی سے پاﺅں ٹھنڈے کرتے ہیں۔ خبر میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ یہ حادثہ خصوصی طور پرکس مقام پر پیش آیا۔ تاہم امکان ہے طالب علم نے وضو کے لئے گہرے پانی والی جگہ کا انتخاب کر لیا ہو گا، جس کی وجہ سے اس کا پاﺅں پھسلا تو توازن قائم نہ رکھ سکا اور دریا میں گر گیا۔ نصر اللہ نے اُسے بچانے کے لئے چھلانگ لگائی، تو خود بھی تیز پانی کے سامنے جم نہ سکے اور بہہ گئے اور یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا۔

یہ درست کہ شمالی علاقوں میں تفریح کے لئے بہت مقام ہیں اور اچھے موسم کے علاوہ خوبصورت منظر بھی ہوتے ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ سے پھسلنے تک کے امکانات بھی ساتھ ہی ہوتے ہیں، جبکہ ندی نالوں اور دریاﺅں کا بہاﺅ تو قدرتی طور پر تیز ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہوتا ہے کہ تفریح پر جانے سے قبل مکمل معلومات حاصل ہوں اور احتیاط کی جائے۔سیاحوں کے لئے احتیاط اپنی جگہ، مگر مقامی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کے فرائض میں بھی تو یہ شامل ہے کہ وہ نہ صرف پورے حفاظتی انتظام کریں، بلکہ سیاحوں کو خبردار کرنے کے لئے تشہیر سے بھی کام لیں اور جہاں جہاں ممکن ہو محافظ ٹیمیں تعینات کریں، جو حادثات سے تحفظ کے ضروری انتظامات اور نگرانی کریں۔ حادثات توان مقامات پر تفریح کے لئے جانے والوں کی تعداد کو بھی متاثرکریں گے۔

اس حادثے کی تحقیقات بھی ضروری ہے کہ یہ کیوں، کہاں اور کیسے پیش آیا اور کیا وہاں حفاظتی انتظامات تھے۔ دُعا ہے کہ اِن سطور کی اشاعت سے پہلے استاد اور شاگرد دونوں کی نعشیں مل چکی ہوں۔اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مزید : اداریہ