امریکہ کا متحدہ فلسطینی حکومت کی مالی معاونت کر نے کا با ضا بطہ اعلا ن

امریکہ کا متحدہ فلسطینی حکومت کی مالی معاونت کر نے کا با ضا بطہ اعلا ن

 وا شنگٹن (آن لائن)امریکہ نے نئی متحدہ فلسطینی حکومت کے ساتھ کام اور اس کی مالی معاونت کر نے کا با ضا بطہ اعلا ن کر دیا ۔ واشنگٹن کے اس فیصلے پر اسرائیلی انتظامیہ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق متحدہ فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد اس بارے میں امریکا کی جانب سے جاری کردہ پہلے بیان میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت نئی فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جینیفر ساکی نے اپنی یومیہ بریفنگ کے دوران کہا کہ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک عبوری ٹیکنوکریٹ حکومت تشکیل دی ہے، جس میں حماس سے تعلق رکھنے والے افراد کابینہ کا حصہ نہیں ہیں۔اسرائیل کے ساتھ جاری امن عمل اور ماضی کے طے شدہ امن معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے صدر عباس کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے ساکی نے مزید کہا، ”جو کچھ ہمیں معلوم ہے-

اس کی بنیاد پر ہم نئی متحدہ حکومت کے ساتھ کام کریں گے اور اس بات کا باریکی سے جائزہ لیں گے کہ صدر عباس نے جن اصولوں کا ذکر کیا ہے، وہ ان پر پورا اتریں۔امریکی کانگریس نے متحدہ حکومت کے قیام کی صورت میں فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی پانچ سو ملین ڈالر سالانہ کی مالی امداد پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔

 اب چونکہ متحدہ فلسطینی حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے، محکمہ خارجہ کی ترجمان جینیفر سے گزشتہ روز پوچھا گیا کہ آیا فلسطین کو امریکی امداد جاری رہے گی۔ اس سوال کے جواب میں ساکی نے بتایا کہ امداد جاری رہے گی لیکن نئی حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جاتا رہے گا اور اسی حوالے سے امریکی حکمت عملی بھی ترتیب دی جائے گی۔دریں اثناءسینئر امریکی قانون سازوں نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ جب تک اسلامی تنظیم حماس کے درست ارادوں کا تعین نہیں ہو جاتا، متحدہ فلسطینی حکومت کو مالی امداد معطل کر دی جانی چاہیے۔دوسری جانب متحدہ فلسطینی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے امریکی فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ’گہری مایوسی‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا، ”ہم امریکی محکمہ خارجہ کے متحدہ فلسطینی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے اعلان سے گہری مایوسی کا شکار ہیں۔“ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن محمود عباس پر یہ روز دیتے ہوئے کہ وہ حماس کے ساتھ معاہدہ ترک کر کے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات بحال کریں، امن عمل میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر