تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ،بجلی ،گیس ،موبائل فون ،جنریٹر ،فضائی سفر مہنگا،ٹریکٹرسستے

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ،بجلی ،گیس ،موبائل فون ،جنریٹر ،فضائی سفر ...

                       اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، اے این این، آئی این پی) اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بہت سی اشیا مہنگی کر دی گئی ہیں۔ کاسمیٹکس، سگریٹ، پینٹس ،سٹیل، درآمدی گاڑیاں اور جنریٹروں کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ غیر ملکی فضائی سفر بھی مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں، وکلاءاور انجینئروں سمیت پروفیشنلز کی خدمات پر انکم ٹیکس کی شرح 10 فیصد کر دی گئی۔ نئے بجٹ میں گیس اور بجلی کے کمرشل اور صنعتی کنکشن کے حصول کیلئے قومی ٹیکس نمبر لازمی قرار دے دیا گیاہے۔ موبائل فونز پر مخصوص سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ لیدر اور ٹیکسٹائلز کی درآمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد، سن فلاور اور کینولہ کے بیجوں پر جی ایس ٹی کی شرح 14 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی گئی۔ غیر رجسٹرڈ افراد کو دی جانیوالی سپلائی پر ایک فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ چارٹرڈ فلائٹ پر سولہ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔ سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی درآمد پر دس فیصد کسٹم ڈیوٹی عائدکی گئی ہے۔ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ۔ نیٹ ورکنگ کے آلات پر کسٹم ڈیوٹی پانچ سے بڑھا کر دس فیصد کر دی گئی۔ ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے والوں کے منافع اور حصص کی آمدن پر پانچ فیصد اضافی ٹیکس عائد ایک لاکھ روپے سے زائد ماہانہ بل دینے والے امراءکے بجلی کے بلوں پر سات فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ پچاس ہزار سے زائد ماہانہ کے بجلی بل ادا کرنے والے پرچون فروشوں کیلئے کیش رجسٹر رکھنا لازمی قرار دے دیا گیا۔ پچاس ہزار ماہانہ بجلی کا بل ادا کرنیوالے پرچون فروشوں پر ساڑھے سات فیصد جی ایس ٹی عائد کر دیا گیا۔ بیس ہزار روپے ماہانہ بجلی کا بل ادا کرنیوالے پرچون فروشوں پر پانچ فیصد جی ایس ٹی عائد کر دی گئی۔سٹیل ملز کے بجلی کے بلوں پر 4 سے بڑھا 7 روپے فی یونٹ کر دی گئی۔ کسٹم ڈیوٹی سے مستثنٰی چالیس اشیاءپر ایک فیصد کی شرح سے کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ بزنس اور فرسٹ کلاس کے فضائی سفر پر سے تین سے چھ فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد، بیس لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی خریدوفروخت پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کیا گیا۔ کیپٹل گینز سیکورٹیز پر ٹیکس کی شرح دس سے بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ سریے اور سٹیل کی مصنوعات پر بھی ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا اور غیر منقولہ جائیداد کی خریدوفروخت پر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی منظوری دیدی گئی۔ کاسمیٹکس ، پینٹس ، وارنش اور آٹھ قسم کے لبریکنٹ آئلز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بحال کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ ایک لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کرنیوالے گھریلو صارفین پر ساڑھے سات فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانیوالوں پر بینکوں سے پیسے نکلوانے پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز سال 2014-15ءکا 39کرب 60 ارب وپے کا ٹیکس قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد ایڈہاک ریلیف اور پینشن میں دس فیصد اضافے، کم از کم پینشن پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کرنے اور مزدور کی کم سے کم اجرت دس ہزار سے بڑھ کر بارہ ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا جبکہ گریڈ ایک سے پندرہ تک کے ماہانہ ایک ہزار روپے فکسڈ میڈیکل الاﺅنس حاصل کرنے والے ملازمین کے الاﺅنس میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ بج میں دفاع کے لئے سات کھرب روپے رکھے گئے ہیں، صوبوں کو 1720 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے، وفاق کے پاس 2 کھرب پچیس ارب روپے کے فنڈ ہوں گے۔ کارپوریٹ ٹیکس چونتیس فیصد سے کم کرکے تینتیس فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ سال بجلی اور گیس کے تجارتی و صنعتی کنشن کے لئے بجٹ میں لوہے پر عائد ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا، ریٹیلرز پر ٹیکس عائد کرنے، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ود ہولڈنگ ٹیکس کے نظام کے تحت لانے اور غیکس لوپ ہولز کا خاتمہ کردیا گیا ہے، انکم سپورٹ لیوی کے خاتمے، شادیوں اور تقریبات پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، غریب اور متوسط طبقہ کی بجائے امراءپر ٹیکس بڑھانے اور ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے امیر لوگوں سے مختلف مدوں میں ٹیکس وصول کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ خسارے کا تخمینہ 1422 ارب روپے رکھا گیا ہے ¾صوبوں کو 1720 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے جس کے بعد وفاق کے پاس 2کھرب 25 ارب روپے کے فنڈز ہوں گے ¾کارپوریٹ ٹیکس 34 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کم کرنے کی تجویز ہے، ٹیلی فون سروسز پر ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 14 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سٹیٹ بینک کے ذریعے برآمدی قرضے پر مارک اپ کی شرح کو 9.4 فیصد سے کم کرکے 7.5 پانچ کیاجائےگا ¾بجٹ میں کراچی لاہورموٹروے کےلئے رواں مالی سال 25ارب رکھے گئے ¾دیامر بھاشا ڈیم کےلئے 15 ارب روپے مختص کئے گئے ¾ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانےوالوں کے منافع اورحصص کی آمدن پر5فیصداضافی ٹیکس عائدکیا جائےگا،تاہم ٹیکس ریٹرن نہ جمع کروانے والوں پر گاڑی کی رجسٹریشن اور بنک سے رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگابجٹ دستاویز میں دفاع کے لیے 700 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ے لئے تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ درحقیقت ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام اور ٹیکس پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے اور اس کی گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اسے ضرورت وقت کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ چنانچہ ہم نے ملک میں ٹیکس ریفارمز کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو اس قسم کا تجزیہ اور تحقیق کرے گا۔ یہ کمیشن حکومتی مالیات کے ماہرین، عملی شعبے سے وابستہ لوگوں، کاروباری افراد، ٹیکس سے وابستہ وکلاءاور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہوگا۔ اس کمیشن کی تشکیل اور اس کے مقاصد کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم ابھی بھی معیشت کو مستحکم کرنے کے دور سے گذر رہے ہیں لہذا ہمیں کفایت شعاری اور سرکاری اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ملازمین خصوصاً چھوٹے درجے کے ملازمین کو ہرممکن حد تک ریلف فراہم کرنا چاہتے۔ تمام وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2014ءسے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جا رہا ہے۔ گریڈ 1 سے15 تک 1000 روپے فکسڈ میڈیکل الاﺅنس حاصل کرنے والے ملازمین کے الاﺅنس میں 20 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گریڈ1 سے 15 تک کے ملازمین کے کنوینس الاﺅنس میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ کو گریڈ 16 سے 17 میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین کو ایک پری میچور انکریمنٹ کی اجازت ہوگی۔ مزدور طبقے کی فلاح اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے پیش نظر کم از کم مزدوری کی شرح 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال کم از کم پنشن 3000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 5000 روپے ماہانہ کی گئی تھی جو 67 فیصد اضافہ تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نچلے درجے کے ملازمین کا خاص خیال رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کم از کم پنشن میں مزید 1000 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 6000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان کرتا ہوں جس کا مطلب ہے کہ کم از کم پنشن کو یکم جولائی 2013ءسے دوگنا کردیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے بقایا تمام ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔یہ کاری کو فروغ دینے کیلئے مناسب ترغیبات دی جائیں گی۔ انہوں نے آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی گذشتہ بجٹ تقریر میں غیر مساویانہ رعایتوں کا ذکر کیا تھا، کئی برس کے پیچیدہ اور طویل عمل کے ذریعہ ٹیکس اور ڈیوٹی کے نظام میں کئی سطحیں بنا دی گئی تھیں جو آج تک ٹیکس ادا کرنے والوں کے درمیان تفریق پیدا کرتی ہیں۔ پچھلے کئی برسوں میں بہت سے ایس آر اوز خصوصی گروہوں اور بااثر افراد کے مفاد کے پیش نظر جاری کئے گئے ان رعایتوں سے چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، بڑے کاروباروں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور ایک طرح سے لائسنسوں کا ایسا نظام بنا دیا گیا جس کے تحت کوٹے اور منظوریوں کو رواج دیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے بنائی جانے والی اعلی سطحی کمیٹی نے وسیع تر مشاورت سے تیار کردہ اصولوں کے مطابق سارے رعایتی نظام کا جائزہ لیا۔ کمیٹی میں صنعت و تجارت کے شعبوں کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے تین سال کے اندر اندر تمام امتیازی رعایتیں ختم کرنے کی سفارش کی جسے وزیراعظم نے منظور کر لیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کے ٹیکس نظام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے کیونکہ آج کئی برس سے چلی آ رہی بااثر طبقوں کی خصوصی مراعات کاخاتمہ کیا جا رہا ہے ہم ایک سادہ، شفاف اور برابری پر مبنی ٹیکس نظام کے ارتقاءکی طرف اہم پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ایسے چھوٹے چھوٹے کاروبار جو رعایتیں حاصل کرنے کے پیچیدہ طریق کار کی صلاحیت نہیں رکھتے اب برابری کی سطح پر کاروبار کر سکیں گے۔ صوابدیدی اختیار اور بدعنوانی کا ایک بڑا ذریعہ ختم کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری حکومت معیشت میں ترقی اور برابری کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے، ہماری ٹیکس تجاویز اسی سمت میں ایک اور قدم کا درجہ رکھتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نجی شعبہ ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے اور چھوٹے کاروباروں سے لے کر بڑے صنعتی اداروں تک سب کو ترقی کے مواقع دینا ہماری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ٹیکس کا منصفانہ نظام ترقی اور نمو کو فروغ دینے میں مددگار ہو گا اس لئے ہماری ٹیکس تجاویز سے معاشی سرگرمی پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ ہم ترقی کو روکنا نہیں چاہتے ہم صرف مالدار طبقوں کی آمدن اور خرچ پر ٹیکس وصول کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا وژن ہے کہ ہم اپنے وسائل کے ذریعہ پاکستان کو خود انحصاری کی طرف لے چلیں۔ ہمارا مقصد جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنا، مالیاتی خسارے کو بتدریج کم کرنا اور ترقی کیلئے مزید وسائل فراہم کرنا ہے جس سے معاشی نمو میں اضافہ ہو اور عوام کو فائدہ ملے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت بلا سوچے سمجھے اور یکطرفہ فیصلے کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔ اپنے اس فلسفے کے تحت ہم نے ٹیکس تجاویز کی تیاری کیلئے بڑے پیمانے پر مشاورت کی ہے۔تجارتی تنظیموں کے نمائندوں، انجمن ہائے تاجران، پیشہ وارانہ تنظیمات اور اقتصادی ماہرین سے موجودہ بجٹ کیلئے تجاویز اور سفارشات مانگی گئیں جن کو ہر ممکن حد تک ٹیکس تجاویز کا حصہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ 2014-15ءکے ذریعہ متعارف کرائے جانے والے ریلیف کے چیدہ چیدہ اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 2013-14ءمیں پاکستانی معیشت میں بہترین کارکردگی کے حوالہ سے اسٹاک مارکیٹ سب سے آگے ہے۔ یکم جولائی 2014ءسے کیپیٹل گینز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھ کر 17.5 فیصد ہونی تھی مگر اسٹاک مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم جولائی 2014ءسے 12 ماہ تک سیکورٹیز رکھنے پر کیپیٹل گینز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد جبکہ 12 ماہ سے زیادہ اور 24 ماہ تک سیکورٹیز رکھنے پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہو گی، 24 ماہ سے زیادہ سیکورٹیز رکھنے پر کیپیٹل گینز ٹیکس سے استثنیٰ ہو گا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ترغیبات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہم مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں ملکی اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس سے قبل مینوفیکچرنگ، کنسٹرکشن، ہاﺅسنگ اور مائننگ کے شعبوں میں ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اب صنعتی شعبہ اور ہاﺅسنگ کے منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ اگر یہ منصوبے 30 جون 2017ءتک لگیں اور منصوبے کی کل لاگت کا نصف بیرونی سرمائے سے حاصل ہو تو کارپوریٹ ٹیکس کی 33 فیصد شرح کو کم کر کے 20 فیصد کیا جائے گا۔ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے مابین شراکت کیلئے ترغیبات سے متعلق وزیر خزانہ نے بتایا کہ باہر سے آنے والی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کسی مقامی کمپنی کے ساتھ شراکت کرنا پڑتی ہے اور ان شراکتی کمپنیوں کے باہمی معاہدے کی رسیدوں پر حتمی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور اس طرح غیر مقامی کمپنیوں کو اپنے غیر مقامی ہونے کا فائدہ نہیں مل پاتا۔ غیر مقامی کمپنی کو سہولت دینے کیلئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ اگر کسی مشترکہ منصوبے کا ایک رکن کمپنی کا درجہ رکھتا ہے تو اس پر مروجہ شرح کے مطابق علحیدہ سے ٹیکس لاگو ہوگا۔ جبکہ بقایا افراد پر ایسوسی ایشن آف پرسنز کی حیثیت سے الگ ٹیکس لاگو ہوگا۔ زرعی شعبے کو ترقی دینے اور ٹنل فارمنگ کی حوصلہ افزائی کیلئے پلاسٹک کے کور، کیڑے مکوڑوں سے بچاﺅ کے جال اور سایہ فراہم کرنے والے جال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ آب پاشی کے اعلیٰ آلات اور گرین ہاﺅس فارمنگ کے آلات کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں اعلان کے مطابق اگلے مالی سال یعنی 2014-15ءکےلئے کارپوریٹ ٹیکس 33 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ پچھلے سال ٹیکس دائرے سے باہر رہ جانے والے افراد کے اخراجات ریکارڈ کرنے کی خاطر شادیوں اور تقریبات کا اہتمام کرنے والے افراد پر 10 فیصد ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا تھا جس کو متوسط طبقہ کی سہولت کیلئے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ معذور افراد کی سہولت کے لئے ان کی 10 لاکھ تک کی آمدنی پر ٹیکس 50 فیصد کم کیا جائے گا۔ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبے جو روزگار کے مواقع بڑھانے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے، کی ترقی کیلئے مراعات کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ٹیلی کام سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پرونشل جی ایس ٹی دونوں کا 19.5 فیصد کی شرح سے اطلاق ہوتا ہے جوکہ غیر مناسب ہے۔ اس کو معقول بنانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے جن صوبوں میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز پر جی ایس ٹی لاگو ہو چکا ہے وہاں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لی جا رہی ہے۔ جہاں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہوگی وہاں اس کی شرح کو 19.5 فیصد سے کم کر کے 18.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلی فون سروسز پر ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 14 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فنانس ایکٹ 2013ءکے ذریعے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ کا نفاذ کیا گیا تھا جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور افراد کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے اربوں روپے کے اضافی وسائل اکٹھے کرنے تھے لیکن بدقسمتی سے مختلف طبقات سے اس لیوی کو ویلتھ ٹیکس تصور کیا گیا اور عدالتوں سے اس کی وصولی کے خلاف حکم امتناعی حاصل کئے گئے۔ رواں مالی سال میں اس سے صرف 8 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل ہوئے جو ٹیکس گزاروں نے رضاکارانہ طور پر ادا کئے۔ لہذا یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013ءمنسوخ کر دیا جائے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارا زور اس بات پر ہے کہ خوشحال طبقوں کو اپنی آمدنی کے تناسب سے ٹیکس دینا چاہئے اور ٹیکس نہ دینے والوں کو باقاعدگی سے ٹیکس دینے والوں کی نسبت زیادہ ٹیکس دینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہوائی جہازوں کے فرسٹ کلاس اور کلب کلاس کے ٹکٹوں پر ٹیکس ادا کرنے والے مسافروں سے 3 فیصد اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے مسافروں سے 6 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے۔ اکانومی کلاس کے مسافر اس سے مستثنیٰ ہوں گے تاکہ محنت مزدوری اور تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرون ملک جانے والے افراد پر بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ جلد منافع کمانے کے چکر میں جائیدادوں اور پلاٹوں کی خریدوفروخت میں کافی زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ بغیر مکان تعمیر کئے اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری غیر پیداواری ہوتی ہے اور اسے پیداواری شعبوں کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ پلاٹوں کی خریدوفروخت کو ریکارڈ کرنے اور ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے۔ ٹیکس گزاروں کیلئے اس ٹیکس کی شرح کو 1 فیصد جبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کیلئے 2 فیصد مقرر کیا جا رہا ہے تاہم 20 لاکھ سے کم قیمت کی جائیدادوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے سرکاری سکیموں کو اس ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہوگی۔ اسی طرح ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کیلئے غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر ایڈجسٹ ایبل کیپیٹل ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ امیروں سے ٹیکس میں مناسب حصہ ڈالنے اور اسراف کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ایک لاکھ روپے ماہانہ یا اس سے زائد کے بجلی کے گھریلو صارفین کے بلوں پر 7.5 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے یا جنہوں نے پچھلے مالی سال میں ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروائے ہوں ان کے منافع اور حصص کی آمدن پر 5 فیصد اضافی ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ تاہم اگر وہ ریٹرن جمع کرا دیں تو اس اضافی ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کرائی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیکس پانچ لاکھ روپے سالانہ تک کے منافع پر لاگو نہیں ہوگا تاکہ کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر اثر نہ پڑے۔ اسی طرح ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والوں کو بینک سے پیسے نکلوانے پر اعشارےہ دو فیصد کی شرح سے اضافی ٹیکس دینے کی تجویز ہے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو گاڑیوں کی رجسٹریشن پر فنانس بل میں بیان کی گئی شرح سے اضافی ٹیکس دینے کی تجویز ہے۔ اس بجٹ میں میوچل فنڈ اور دیگر کاروباری اداروں کیلئے غیر مساویانہ ٹیکس ریٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔ نئے بجٹ میں اکاﺅنٹنگ انکم پر 17 فیصد کی شرح سے متبادل کارپوریٹ ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ کمپنیوں پر کارپوریٹ ٹیکس اور متبادل ٹیکس میں سے جو بھی زائد ہو، لاگو کیا جائے گا۔ لیکن مستثنیٰ آمدنی پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ متبادل ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ 10 سال تک کی جا سکے گی۔ بعض اقسام کی آمدن پر ٹیکس ادائیگی سے بچنے کیلئے لوگ ٹیکس سے بچنے کے طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کمپنیوں کے بونس شیئر اور میوچل فنڈر اور مضاربہ کے بونس پر ٹیکس اور منافع پر ٹیکس ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس تضاد کو اب دور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس گزاروں کی خدمات پر لاگو ٹیکس کی شرح بالترتیب 6 فیصد اور 7 فیصد ہے چونکہ خدمات فراہم کرنے والے افراد کے منافع کی شرح کافی بلند ہوتی ہے۔ اس لئے ٹیکس کی یہ شرح کافی کم سمجھی جاتی ہے۔ اس شرح کو مناسب حد تک لانے کیلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کیلئے خدمات پر ٹیکس کی شرح 8 فیصد اور دیگر ٹیکس دہندگان کیلئے 10 فیصد کر دی جائے۔ فائنل ٹیکس نظام کے تحت ٹیکس دینے والے افراد صرف اسٹیٹمنٹس جمع کرواتے ہیں، اکاﺅنٹس جمع نہیں کرواتے جس کی بناءپر اصل کمائی گئی آمدنی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس سہولت کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے کیونکہ دیگر ذرائع آمدنی والے لوگ بھی صرف اسٹیٹمنٹس جمع کرا دیتے ہیں۔ ریٹرن اور اکاﺅنٹ دونوں جمع کروانے پر عمل درآمد کیلئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ تجارتی درآمد کنندگان، مقامی اور غیر ملکی ٹھیکیداروں، خدمات فراہم کرنے والوں، برآمد کنندگان، پٹرول پمپ چلانے والوں اور کمیشن ایجنٹوں پر ٹیکس کٹوتی کی موجودہ شرح صرف اسی صورت میں لاگو ہوگی اگر وہ ریٹرن جمع کروائیں گے۔ ورنہ ان سے فنانس بل میں شامل اضافی شرح پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار ادارے نہ تو ریٹرن جمع کرواتے ہیں اور نہ ہی ان سے کیپیٹل گینز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ ان کو ودہولڈنگ ٹیکس کے نظام کے تحت لایا جائے۔ اس اقدام سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ٹیکس کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی خاطر یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ بجلی اور گیس کے تجارتی اور صنعتی کنکشن حاصل کرنے کیلئے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) کا ہونا لازمی ہوگا۔ حکومت نے فوری طور پر فیصلہ کیا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکسوں کا حصہ بڑھایا جائے کیونکہ یہ پروگریسو ٹیکس ہیں اور بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ کم کیا جائے کیونکہ وہ عام آدمی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لئے اس بجٹ میں سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے سلسلہ میں گزشتہ بجٹ برائے مالی سال 2013-14ءسے ہی حکومت کا یہ مقصد رہا ہے کہ ٹیکس کے دائرے کو وسعت دی جائے، امیر اور بااثر لوگوں کو ٹیکس نہ دینا مہنگا پڑے، ٹیکس نظام میں بگاڑ پیدا کرنے والے تضادات کو ختم کیا جائے اور ٹیکس دینے والے اور ٹیکس وصول کرنے والوں کے درمیان رابطہ کم سے کم کرنے کیلئے خودکاری کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ریٹیلرز کےلئے سیلز ٹیکس کے نظام کو سادہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف وجوہات کی بناءپر ریٹیلرز کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پچھلی حکومتوں نے ان کو رجسٹر کرنے کیلئے بڑی کوششیں کیں جو ناکام رہیں۔ اس مسئلے کے تجزیئے اور ان کے نمائندگان سے صلاح مشورہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ریٹیلرز کی اکثریت اپنا جائز ٹیکس ادا کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اس کیلئے سادہ اور آسان طریقہ کار چاہتے ہیں۔ نتیجتاً ریٹیلرز کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ درجہ اول میں وہ ریٹیلرز جو کسی قومی یا بین الاقوامی چین اسٹورز کا حصہ ہوں، جو ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ پلازوں میں بیٹھے ہوں، جن کے پاس کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کی مشینیں ہوں یا جن کا بجلی کا ماہانہ بل 50 ہزار روپے سے زیادہ ہو شامل ہوں گے۔ اس قسم کے ریٹیلرز پر یہ لازم ہوگا کہ وہ سیلز ٹیکس ریگولر انداز میں جمع کرائیں اور لین دین کا ریکارڈ خصوصیات کے حامل الیکٹرانک کیش رجسٹر پر رکھیں۔ صارفین سیلز ٹیکس ادائیگی کی رسیدیں ضرور حاصل کریں کیونکہ ان رسیدوں کی بنیاد پر قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔ بقایا تمام ریٹیلرز درجہ دوم میں شامل ہوں گے۔ ان کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کی ادائیگی کا سادہ نظام متعارف کروایا جا رہا ہے چنانچہ وہ ریٹیلرز جن کے بجلی کے بل 20 ہزار روپے ماہانہ تک ہوں گے، ان پر 5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہو گا جبکہ اس سے زیادہ بل والوں پر 7.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔ سیلز ٹیکس کی یہ شرح اس وقت رائج شرح سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ خواہش ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہو تاہم برآمدات کیلئے مخصوص سہولتیں اندرون ملک فروخت کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئیں ورنہ مارکیٹ میں بگاڑ کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ 1125(1)2011اےس آر او پانچ بڑی برآمدی صنعتوں، ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، قالین، سرجری اور کھیلوں کی اشیاءکی حوصلہ افزائی کیلئے جاری ہوا تھا۔ تاہم اس ایس آر او کے تحت درآمد شدہ اشیاءبھی سیلز ٹیکس کے رعایتی ریٹ کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس نوٹیفکیشن کی وجہ سے درج بالا پانچ صنعتوں کی پیداواری اشیاءکے اوپر لاگو سیلز ٹیکس کی شرح اور درآمد شدہ اشیاءپر لاگو رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح کے درمیان بہت فرق ہے۔ اس سے بگاڑ، ٹیکس چوری اور غلط رجحانات جنم لے رہے ہیں چنانچہ یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ ان صنعتوں کی حتمی پیدواری اشیاءکی درآمدات پر سیلز ٹیکس اپنی معیاری شرح سے لاگو ہوگا کیونکہ یہ چیزیں ملک کے خوشحال طبقے کے لئے منگوائی جاتی ہیں اور برآمدات میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ لوہے کی صنعت فروری 2013ءتک 7 روپے فی بجلی یونٹ کی مقرر شرح سے سیلز ٹیکس ادا کرتی رہی ہے۔ اس شرح کو بغیر کوئی وجہ بتائے کم کر کے چار روپے فی بجلی یونٹ کردیا گیا جوکہ عام شرح سے بہت کم ہے۔ لہٰذا ٹیکس کی شرح کو چار روپے سے دوبارہ سات روپے فی بجلی یونٹ پر واپس لانے کی تجویز ہے۔ حکومت نے اسٹیل میلٹرز کے نمائندوں کی درخواست پر ان کی خریداریوں پر لاگو ود ہولڈنگ ٹیکس کو بجلی کے بلوں کے ذریعے 1 روپیہ فی یونٹ کی شرح سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان پر ڈبلیو ایچ او کے تمباکو کنٹرول کے فریم ورک کنونشن کے رکن کی حیثیت سے تمباکو کی حوصلہ شکنی کے لئے اس کی قیمت اور اس پر لاگو ٹیکسوں میں اضافہ کرنا لازمی ہے۔ چنانچہ تمباکو پر فنانس بل میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق ٹیکسوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت برآمدی شعبے کی سہولت کے لئے چھ اسکیمیں موجود ہیں۔ اسکیموں کی بہتات اور ان میں موجود پیچیدگیوں کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایک سادہ اور جامع اسکیم متعارف کروائی جائے جس کے لئے برآمدکنندگان سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی کی بلند شرح آزادانہ تجارت میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے اور آپریشنل سطح پر بدعنوانی کو فروغ دیتی ہے۔ چنانچہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیوٹی کی شرح اور ڈیوٹی سلیبس کی تعداد میں کمی کی جائے۔ اس سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی کی موجودہ 30 فیصد شرح کو کم کرکے 25 فیصد کیا جارہا ہے۔ ڈیوٹی سلیبس کی تعداد کو بھی 8 سے کم کرکے چھ کیا جارہا ہے تاہم امراءکے زیر استعمال پرتعیش اشیاءپر اس سہولت کے مساوی ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی جانے کی تجویز ہے۔ اس وقت 40 فیصد درآمدات کو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل طور پر استثنیٰ حاصل ہے۔ محصولات کی اس بنیادی خرابی کو دور کرنے اور تشخیص و دستاویزات کو بہتر بنانے کے لئے محصولات میں زیرو فیصد کی سطح کو بڑھا کر ایک فیصد کیا جارہا ہے تاہم سماجی طور پر اہم اشیاءمثلاً پٹرولیم مصنوعات‘ کھاد اور کھانے پینے کی اشیاءوغیرہ پر زیرو فیصد کی سطح برقرار رکھی جائے گی جس کے لئے کسٹم ایکٹ میں ایک نیا شیڈول ڈالا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ سازی کے لئے کئے جانے والے غور و خوض اور مشاورت کے دوران ہمیں جنرل سیلز ٹیکس کی اصلاحات کانے کے مختلف منصوبوں کیلئے بھی وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ ان میں پشاور ناردرن بائی پاس، کراچی ناردرن، لیاری ایکسپریس وے، سکھر بائی پاس کا دو رویہ اور لاہور مشرقی بائی پاس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ترسیل کو بہتر کرنے کیلئے رتو ڈیرو۔دادو۔ سہیون روڈ اور دیگر سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موٹرویز، شاہراہوں ، پلوں، سرنگوں اور علاقائی سڑکوں کے 74 منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ شاہراہوں کے شعبے کیلئے اس بجٹ میں 113 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان منصوبوں پر عمل پیرا ہونے سے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہونگے۔ ریلوے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ریلوے سفر کا ایک باکفایت، تیز رفتار اور آرام دہ ذریعہ ہے۔    بجٹ 2014-15 میں خانیوال سے لالہ موسیٰ تک ریلوے ٹریک کو دو رویہ کرنے کیلئے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ آنے والے برسوںمیں باقی پٹڑیوں کو بھی دوہرا کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کراچی سے خانپور اور لودھراں ٹریک کی بحالی کیلئے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ ریلوے کے 159 کمزور پلوں کی مضبوطی و بحالی کیلئے بھی وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں حکومت نے پٹڑیوں کی مرمت کے عمل کو خودکار بنانے، سگنل سسٹم کی بہتری اور تبدیلی اور ایک مرکزی ٹریفک کنٹرول سسٹم کے قیام کیلئے خاطر خواہ وسائل رکھے ہیں۔ نئے بجٹ میں خریداری اور مرمت کے ذریعے 500 انجن سسٹم میں لانے کیلئے وسائل رکھے گئے ہیںجس سے انجنوں کی کمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اسی طرح 1500 نئی اور آرام دہ بوگیوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو منافع بخش بنانے کیلئے مال برداری کی سہولیات میں اضافے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مال برداری کی اضافی بوگیاں خریدنے کیلئے وسائل مختص کئے گئے ہیں جبکہ مال برداری کیلئے مختص راہداری کے قیام کا جائزہ لینے کیلئے فزیبلٹی سٹڈی بھی کروائی جا رہی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ جس سے پاکستان کو ایک تیز رفتار، جدید اور قابل اعتماد ریلویز کا حصول ہوگا۔ اسی طرح سے ہم کراچی اور لاہور میں اربن ریلویز متعارف کروائی جا رہی ہے۔ وفاقی بجٹ میں کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر کیلئے فنڈز رکھے گئے ہیں جبکہ حکومت پنجاب لاہور میں جدید میٹرو ریل (اورنج لائن) متعارف کروا رہے ہیں۔ اسلام آباد مری مظفر آباد ریل لنک کے نام سے ایک نئے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ کشمیر اور گلیات کے حسین علاقوں میں تعمیر ہونے والے اس غیر معمولی منصوبے کی تعمیر اور تنظیم کیلئے کشمیر ریلویز کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ سیاحت اور سفری سہولت اور آسانی کے نئے باب کھولے گا اور قوم کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے خصوصی تحفہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے شعبے میں 45 ترقیاتی سکیموں کیلئے اور ریلوے کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن اخراجات کیلئے اس بجٹ میں 77 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس مالی سال میں ریلوے کے شعبہ میں نجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی بھی توقع ہے۔ انسانی ترقی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ انسانی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے 188 منصوبوں کیلئے 20 ارب روپے کی ایک خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ جن سے پورے ملک میں مختلف یونیورسٹیوں کے ترقیاتی منصوبوں کو مدد ملے گی۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ کرنٹ سائیڈ پر ایچ ای سی کو 43 ارب روپے علیحدہ سے دیئے گئے ہیں۔ اس طرح سے ہائر ایجوکیشن کیلئے 63 ارب روپے کا مجموعی بجٹ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے کہ مہلک امراض کے خاتمے‘ صحت کے شعبہ کی ترویج و ترقی اور ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے صوبوں کی مناسب مدد کی جانی چاہیے۔ اس لئے موجودہ بجٹ میں صحت کے شعبہ کے لئے 26 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مطمع نظر پولیو کا خاتمہ ہوگا۔ اس مقصد کے لئے ایک ہنگامی منصوبہ بنالیا گیا ہے اور وفاقی حکومت پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لئے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔علاوہ ازیں موجودہ بجٹ صحت کے شعبے سے متعلق بہت سے دیگر منصوبوں کے لئے بھی وسائل مہیا کرے گا۔ خصوصی اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت کا مقصد بالعموم برآمدی شعبہ اور بالخصوص ٹیکسٹائل‘ صنعت ‘ زراعت‘ ہاﺅسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یہ شعبے معاشی ترقی کے لئے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں چنانچہ ہم نے ان شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی کے لئے کئی اقدامات کر رہے ہیں۔ برآمدات کے لئے قرضے کی آسان فراہمی‘ برآمدی شعبے کے لئے طویل المدتی کم قیمت قرضوں کی فراہمی‘ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹیز اور انشورنس کی سہولیات کے ذریعے ایکسپورٹ کا رسک کم کرنے کے لئے‘ حکومت نے ایگزم بینک پاکستان کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بینک ایکسپورٹرز کو سرمایہ فراہم کرے گا۔ اس کا مجاز سرمایہ سو ارب روپے ہوگا جبکہ ابتدائی ادا شدہ سرمایہ دس ارب روپے ہوگا۔ ایک پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے اس بینک کو قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا۔ حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے برآمدی قرضے پر مارک اپ کی موجودہ شرح کو 9.4 فیصد سے کم کرکے یکم جولائی 2014ءسے 7.5 فیصد سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ہمارے ایکسپورٹرز کی مالیاتی لاگت میں تقریباً دو فیصد کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے تین سے دس سال کے پراجیکٹ قرضہ جات کے لئے طویل مدتی فنانسنگ کی شرح کو بھی 11.4 فیصد سے کم کرکے یکم جولائی 2014ءسے 9 فیصد سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ہمارے ایکسپورٹرز کی مالیاتی لاگت میں 2.4 فیصد کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اعلان کردہ ٹیرف کا ریشنلائزیشن پروگرام آہستہ آہستہ ہماری ٹیرف پالیسی سے برآمد مخالف تعصب کو ختم کردے گا اور ہماری برآمدات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ پرکشش بنائے گا۔ اسحق ڈار نے کہا کہ ای ڈی ایف بورڈ کی تشکیل نو کی گئی ہے اور برآمد کنندگان کو مزید فائدہ پہنچانے کے لئے اس کی تنظیم کو زیادہ فعال اور موثر کردیا گیا ہے۔ حکومت نے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے زمینی پورٹس کو تجارتی مقاصد کے لئے بہتر طور پر استعمال میں لانے میں مدد ملے گی اور انہیں امن و امان کی صورتحال‘ سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے بہتر طور پر تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ہماری ایکسپورٹس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم کپاس کی فصل اچھی نہ ہونے‘ اچھے بیجوں کے متعارف نہ کرائے جانے‘ بی ٹی کاٹن کی منظوری نہ دیئے جانے‘ بڑے پیمانے پر بجلی اور گیس کی کمی‘ مقامی محصولات کی زیادتی‘ قرضوں پر مارک اپ کی بلند شرح اور درآمد کرنے والے ممالک کی پالیسیوں کی بناءپر ہمارے ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس شعبے کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا جارہا ہے جس کے تحت برآمدات میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے والے ایکسپورٹرز کو اضافی برآمدات کی ایف او بی ویلیو کے حساب سے ڈرا بیک گارمنٹس پر چار فیصد، میڈ اپز پر 2 فیصد اور پروسیسڈ فیبرک پر ایک فیصد دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کے مارک اپ کو یکم جولائی2014ءسے 9.4 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد سالانہ کردیا جائے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر ویلیو چین کو نیشنل ٹیرف کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ویلیو ایڈ سیکٹر کے ٹیکسٹائل یونٹس کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹیکنالوجی اور مشینری کو بہتر بنانے کے لئے نو فیصد سالانہ کی شرح سے تین سے دس سالہ طویل مدتی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14ءکے تحت ٹیکسٹائل کے شعبے کو 30 جون 2014ءتک مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت حاصل ہے۔ موجودہ بجٹ میں تجویز کیا جارہا ہے کہ یہ چھوٹ مزید دو سال یعنی 30 جون 2016ءتک بڑھا دی جائے تاکہ جی ایس پی پلس کی سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹی کاٹن کو فروغ دینے کے لئے ضروری ریگولیٹری منظوری دی جائیں گی۔ معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے سیڈ ایکٹ 1976ءمیں ترمیم کی جائیں گی اور پلانٹ بریڈرز بل جلد سے جلد متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے خصوصا گارمنٹس اور میڈ اپز میں خصوصی مہارتوں کے لئے ایک سکیم متعارف کی جارہی ہے جس کے تحت اگلے پانچ سال میں 120,000 مردوں اور عورتوں کو تربیت فراہم کی جائے گی جس پر چار ارب 40 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ٹیوٹا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذریعے چلنے والے اس پروگرام کے تحت تین ماہ کے تربیتی پروگرام شروع کئے جائیں گے جن میں زیر تربیت افراد کو 8000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔

 زراعت کے شعبے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کو ملکی معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ملکی پیداوار میں اس کا حصہ 21 فیصد ہے۔ 65 فیصد لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں جبکہ 45 فیصد لیبر فورس کو اس شعبے میں روزگار ملتا ہے۔ وفاقی حکومت غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے اور زرعی ریسرچ کے معاملات پر صوبوں سے مکمل رابطے میں ہیں۔ دیرپا زرعی ترقی کے لئے قومی پالیسی بنانے کے لئے ایک قومی غذائی تحفظ کونسل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے ہماری حکومت نے ایک مراعاتی پیکج تیار کیا ہے جس کے تحت حکومت نے چھوٹے کسانوں کو قرضے فراہم کرنے کے لئے گارنٹی سکیم بنائی ہے تاکہ بنکوں کو زرعی قرضے دینے پر آمادہ کیا جاسکے۔ حکومت سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کمرشل اور مائیکرو فنانس بنکوں کو 50 فیصد نقصان کی شراکت داری کی گارنٹی فراہم کرے گی۔ اس سکیم کے تحت پانچ ایکڑ نہری اور 10 ایکڑ بارانی ملکیت والے کسانوں کو قرضے مل سکیں گے۔ اس سکیم کے تحت 300,000 کسان گھرانوں کو 100,000 روپے تک کے قرضے ملیں گے۔ اس سکیم میں کل 30 ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات‘ موسمی تبدیلیوں اور فصلوں کی بیماریوں کی بناءپر ہمارے کسان بھائی کافی مشکلات اور بے یقینی کا شکار رہتے ہیں۔ مختلف فصلوں کی تباہی سے بچاﺅ کے لئے اس وقت ساڑھے بارہ ایکڑ زمین تک کے کسانوں کے لئے انشورنس کا پروگرام جاری ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے اس سکیم کا دائرہ 25 ایکڑ رکھنے والے کسانوں تک پھیلایا جارہا ہے۔ پانچ بڑی فصلوں کے لئے قرضہ لینے والے اس سکیم سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سکیم کے تحت 700,000 کسان گھرانوں کو فائدہ دینے کے لئے بجٹ میں دو ارب50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لائیو سٹاک اور دودھ پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے لیکن زیادہ تر مویشی پالنے والوں کے پاس مویشیوں کی تعداد کم ہوتی ہے جس سے نقصان کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ چھوٹے کسانوں کے مویشیوں کو لاحق خطرات کو کور کرنے کے لئے حکومت نے مویشیوں کی انشورنس سکیم تیار کی ہے جس میں دس مویشی تک کی ملکیت کے کسانوں کو مدد فراہم کی جائے گی۔ سکیم کے تحت آفات اور بیماریوں کے خلاف انشورنس مہیا کی جائے گی۔ سکیم سے 100,000 کسان گھرانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ موجودہ بجٹ میں اس سکیم کے لئے 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس لاگو کیا تھا جو یکم جنوری 2014ءسے بڑھ کر 16 فیصد ہوگیا ہے۔ اس سے مقامی طور پر بنائے جانے والے ٹریکٹروں کی خریداری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس لئے زراعت میں ٹریکٹروں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد پر برقرار رکھنے کی تجویز دی جارہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں اعلیٰ کوالٹی کے ویئر ہاﺅس‘ کولڈ سٹوریج‘ سلوز اور کولڈ چین کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایک ویئر ہاﺅسنگ کلیئرنگ ہاﺅس اور دیگر مراعات کا پیکج بنایا ہے۔ سکیم کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایک کمپنی بنانے کے لئے ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے زرعی قرضہ جات کے 315 ارب روپے کے ٹارگٹ کے مقابلے میں رواں مالی سال میں ہماری حکومت نے 380 ارب روپے کردیئے ہیں۔ اگلے مالی سال یعنی 2014-15ءمیں اسے مزید بڑھا کر 500 ارب روپے کیا جارہا ہے۔ قرضوں کی فراہمی میں اضافے اور انشورنس سکیموں کی بناءپر کسانوں کو مالی وسائل کی دستیابی میں مزید سہولت حاصل ہوگی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مکران ڈویژن‘ گلگت بلتستان‘ ضلع سوات اور فاٹا میں ٹرانسپورٹ اور پراسیسنگ کی سہولیات نہ ہونے سے پھل اور دیگر زرعی پیداوار کو سخت نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے حکومت نے ان علاقوں میں پراسیسنگ کے منصوبوں کی مدد کی خصوصی سکیم بنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں مقامی پھلوں کے پراسیسنگ پلانٹ کو پانچ سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ حکومت نے گلگت بلتستان سے پھولوں اور پھلوں کی ہوائی جہاز کے ذریعے نقل و حمل کے لئے پچاس فیصد سبسڈی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

 ہاﺅسنگ کے شعبہ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں گھروں کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں جس کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو اپنا گھر حاصل کرنے کے لئے حکومت نے کم لاگت گھروں کے لئے قرضے فراہم کرنے کا خصوصی پروگرام بنایا ہے۔ اس سکیم کے تحت بینک اور مالیاتی ادارے دس لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کریں گے جبکہ ان میں سے 40 فیصد تک کی رقم کی گارنٹی حکومت فراہم کرے گی۔ یہ سکیم پاکستان بھر میں لاگو ہوگی اور کمآمدنی والے گھرانوں کی امداد کے لئے اس نئے پروگرام کے ذریعے 20 ارب روپے کے 25,000 قرضے دیئے جائیں گے جبکہ حکومت پاکستان بینکوں‘ مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے اشتراک سے ایک مارٹگیج ریفنانس کمپنی بنا رہی ہے جس کے ذریعے گھر بنانے کے لئے لمبی مدت کے قرضے فراہم کئے جائیں گے ۔ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ چھ ارب روپے سے شروع ہوگا۔ یہ کمپنی گھروں کے لئے قرضے دینے والے اداروں کو ری فنانس کی سہولت فراہم کرے گی۔ حکومت پاکستان اس کمپنی میں ایک ارب 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ ہاﺅس بلڈنگ فنانس کمپنی کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو گھر بنانے کے لئے قرضے دینے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس ادارے کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کو فوری طور پر فعال بنایا جائے تاکہ یہ ہاﺅسنگ کے شعبہ میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے، اس سلسلہ میں جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا فوری قیام، استعداد اور کارکردگی میں بہتری، طریقہ کار کی آسانی، ڈوبے ہوئے قرضوں کی واپسی کی خصوصی مہم اور نئے وسائل کی فراہمی شامل ہیں ان اقدامات کے علاوہ وزیراعظم کی کم لاگت کی ہاﺅسنگ سکیم کیلئے اس بجٹ میں 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ایک انشورنس سکیم تشکیل دی جا رہی ہے جس کے تحت وفاقی حکومت انتہائی غریب طبقے کے لوگوں کو مخصوص بیماریوں اور صحت کی سہولیات کی انشورنس مہیا کی جائے گی بشرطیکہ صوبائی حکومتیں پرائمری اور ثانوی سطح تک سہولتوں کیلئے انشورنس فراہم کریں۔ اس سکیم کا پائلٹ بنیادوں پر آغاز کرنے کیلئے بجٹ میں ایک ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ لمیٹڈ کے نام سے کمپنی قائم کر دی ہے جس کیلئے ہم نے 157 ارب روپے کے وسائل فراہم کئے ہیں۔ یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرمایہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں اسلامی بینکنگ اور فنانس کے نظام کو فروغ دینے کیلئے نئی کوششیں شروع کر دی ہیں، اس سلسلہ میں علمائ، بنکاروں، معیشت دانوں اور سرکاری ملازمین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 31 دسمبر 2014ءتک ایسے اقدامات کی سفارش کرے گی جن سے بینکوں کے مجموعی اثاثوں میں اسلامی بینکوں کے حصہ میں اضافہ ہو، اسلامی بینکنگ کی رسائی میں وسعت دینے میں حائل رکاوٹیں دور ہوں، اسلامی فنانشل پراڈکٹس کی تعداد میں اضافہ ہو، حکومت کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اسلامی طریقے وضع کئے جائیں اور ملک میں اسلامی بینکاری کے نظام کے وسیع تر اطلاق کو ممکن بنانے کیلئے درکار اقدامات کا تعین کیا جائے۔ اس شعبہ میں تحقیق کیلئے اسلامی معاشیات کا مرکز فضلیت بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ خطاب میں ٹیکس تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کو 2013-14ءمیں ٹیکس وصولی کی بدترین کارکردگی ورثہ میں ملی، 2381 ارب روپے کے بجٹ ٹارگٹ کے مقابلہ میں 2050 ارب روپے کی نظرثانی شدہ ٹیکس وصولی ہوئی جس کا مطلب تھا کہ بجٹ اندازوں سے 331 ارب روپے کی کمی ہوئی لیکن اس سے بھی زیادہ مایوس کن بات یہ تھی کہ آخر کار فقط 1946 ارب روپے جمع ہوئے جو نظرثانی شدہ تخمینہ سے مزید 104 ارب روپے کم تھے۔ اس طرح ٹیکس وصولی میں 2011-12ءکے مقابلہ میں 2012-13ءمیں صرف 3 فیصد کا اضافہ ہو سکا۔ اس مایوس کن کارکردگی کے بعد ہم نے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش شروع کی اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے ٹیکس وصولی میں 16.4 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے حالانکہ استحکام کی منزل سے گزرتی ہوئی معیشت کیلئے یہ اچھی کارکردگی ہے لیکن پھر بھی ہمیں ٹیکس محصولات بڑھانے کیلئے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ٹیکس تجاویز 2014-15ءکے بنیادی اصول اور مقاصد پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کل ٹیکس میں بلاواسطہ ٹیکسوں (ڈائریکٹ ٹیکسز) کا حصہ بڑھایا جائے گا۔ ٹیکس کے دائرے سے باہر رہ جانے والوں سے ٹیکس وصولی کی جائے گی جبکہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی جس سے ان کے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو گا۔ ٹیکس نظام کو سادہ بنایا جائے گا اور ایس آر اوز کے ذریعہ دی جانے والی غیر مساویانہ رعایتوں کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔محصولات کی وصولی کو بہتر بناتے ہوئے جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جائے گا۔ ایک سادہ اور مساویانہ ٹیکس نظام کے بنیادی اصول پر سمجھوتہ کئے بغیر ملک میں بیرونی سرمااے پی پی کے مطابق بجٹ مےں کارپوریٹ ٹیکس کی 33 فیصد شرح کوکم کرکے 20 فیصد کئے جانے، زرعی شعبے کی ترقی کےلئے درآمدی سامان پرکسٹم ڈیوٹی ختم ، آب پاشی اورگرین ہاﺅس فارمنگ کے آلات کوسیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے ،تقریبات کا اہتمام کرنےوالے افراد ،ٹیلی فون سروسز پرودہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اورانکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013ءکومنسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں، صنعتی، زرعی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، توانائی کے بحران کے حل، بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی ترقی کےلئے کھربوں روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں ۔ اسحق ڈار نے اپنی بجٹ ت

مزید : صفحہ اول