پرچون فروشوں پر نئی شرح سے سیلز ٹیکس عائد ،گلی محلہ کی سطح کے دکاندار بھی ٹیکس نیٹ میں آ جائینگے

پرچون فروشوں پر نئی شرح سے سیلز ٹیکس عائد ،گلی محلہ کی سطح کے دکاندار بھی ...

                          لاہور(صبغت اللہ چودھری) آئندہ بجٹ میں ”سپیشل پروسیجر رولز فار رییٹلرز“ کے نام سے پرچون فروشوں پر نئی شرح سے سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ سکیم دو حصوں پر مشتمل ہے، ایسے ریٹیل سٹور جہاں پر کریڈٹ یا ڈیبٹ مشین لگی ہوئی ہے، جو ایئر کنڈیشنڈ مال کے اندر ہیں اور جو سٹور مقامی یا بین الاقوامی کمپنیوں (برینڈز) کا حصہ ہیں یعنی ایک سے زیادہ ”چین سٹور“ ہیں ان پردیگر کاروباروں کی طرح 17 فیصد کے حساب سے سیلز ٹیکس عائد ہوگا ، ریٹیل سٹور وں پر یہ ٹیکس ایڈوانس ٹیکس کی شکل میں ہوگا اور سیلز ٹیکس کا گوشوارہ داخل کرتے وقت ریٹیلر اس ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ کلیم کر سکے گا، سکیم کے دوسرے حصے میں گلی محلے اور عام مارکیٹوں کی سطح پر چھوٹے پرچون فروشوں کو سیلز ٹیکس میں لایا جائے گا، ایسے دوکاندار جن کا بجلی کا بل 20 ہزار یا اس سے کم ہوگا ان پر 5 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ 20 ہزار سے 50 ہزار روپے تک بجلی کے بل والے دوکاندار سے 7.5 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، یہ ٹیکس ریفنڈ نہیں ہو سکے گا تاہم دوکاندار اپنا سالانہ ٹیکس گوشوارہ داخل کراتے وقت مزید ٹیکس سے بچ سکتا ہے۔ اس حوالے سے”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لاہور سپر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات مردان علی زیدی نے بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 40 سے 50 ہزار چھوٹے دوکاندار اور کریانہ فروش ہیں جبکہ بڑی سپر مارکیٹیں ، شاپنگ مال اور سیلف سروس سٹوروں کی تعداد اڑھائی سے تین ہزار کے قریب ہے، ان تین ہزار سیلف سروس سٹوروں میں تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب ایک کینال پر مشتمل سپر مارکیٹس ہیں ، انہوں نے بتایا کہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں گلے ، محلے میں شٹر اور ” اوور دی کاﺅنٹر “ سٹوروں کا رجحان ختم ہو رہا ہے اور یہ ٹرینڈ بڑی سے کارنر شاپ، سپر مارکیٹ یا شاپنگ مال میں تبدیل ہو رہا ہے، یہاں پر5 مرلہ سے لیکر ایک کینال تک کے سٹوروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپر مارکیٹ اور بڑے شاپنگ مال 17 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں اس کے علاوہ ان سے مختلف مدات میں ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کئے جا رہے ہیں جنہیں بعد میں سیلز ٹیکس ریٹرن میں ان پٹ ایڈجسٹمنٹ دی جاتی ہے۔مردان علی زیدی کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت ہزاروںچھوٹے دوکاندار ٹیکس نیٹ میں آئیں گے اور لاکھوں روپے کا ریونیو اکٹھا ہو سکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول