3جون جدوجہد آزادی کا تاریخ ساز دن ہے،پروفیسرڈاکٹررفیق

3جون جدوجہد آزادی کا تاریخ ساز دن ہے،پروفیسرڈاکٹررفیق

لاہور(جنرل رپورٹر)3جون جدوجہد آزادی کا تاریخ ساز دن ہے‘ 3جون 1947ءکو قائداعظمؒ نے آل انڈیا ریڈیو سے منصوبہ تقسیم ہند بیان کرتے ہوئے قیام پاکستان کا اعلان کیا تھاتقسیم ہند کے اعلان سے مسلمانان برصغیر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اس دن پاکستان کی عملی صورت سامنے آگئی اور مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ ان کی منزل اب قریب ہے ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان،شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں منعقدہ فکری تقریب بعنوان ”قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تقریر3جون 1947ءکی اہمیت“ کے دوران کیااس تقریب کا انعقاد نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے قائداعظمؒ فورم کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، جسٹس(ر)منظور حسین سیال،بیگم بشریٰ رحمن،ڈاکٹر ایم اے صوفی بیگم مہناز رفیع ، احمر بلال صوفی، ڈاکٹر پروین خان، کرنل(ر) اکرام اللہ خان،قائداعظمؒ کے پڑنواسے مجتبیٰ رفیق، عزیز ظفر آزاد،قائداعظمؒ فورم کے عہدیداران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کثیرتعدادمیں موجود تھے پروگرام کی نظامت کے فرائض عامر کمال صوفی نے انجام دیے پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مسلمانان برصغیر نے حصول آزادی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ۔ قائداعظمؒ کی عظمت کے غیر بھی قائل تھے اورا ن کی شخصیت بین الاقوامی حیثیت کی حامل تھی جسٹس(ر)منظور حسین سیال نے کہا کہ قائداعظمؒ نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی طرف سے پیش کردہ تقسیم ہند کے منصوبے کے فوری منظور کرنے کی بجائے اسے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی بات کی‘جو ان کے جمہوری رویوں کی آئینہ دار تھی قائداعظمؒ نے جمہوری عمل کو ترجیح دی، ہمیںان کے اس آئینی جمہوری و قانونی عمل سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے موجودہ حالات میں ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنا اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا کہ 3جون 1947ءکو یہ واضح فیصلہ ہو گیا کہ ہندو اور مسلمان الگ الگ قوم ہیںنہرو،لارڈ ماﺅنٹ بیٹن،بلدیو سنگھ اور کانگریسی رہنما ایک طرف جبکہ قائداعظمؒ اور مسلم لیگی قیادت ایک طرف تھی۔3جون1947ءکو تقسیم ہند کا اعلان قائداعظمؒ کی فتح تھی بیگم بشریٰ رحمن نے کہا کہ قائداعظمؒ نے 3جون 1947ءکو جس یقین اور ایمان کے ساتھ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا اسی کی بدولت پاکستان آج تک قائم و دائم ہے پروفیسرڈاکٹر پروین خان نے کہا3جون 1947ءکے تقسیم ہند کے مطابق مسلمانان برصغیر کو کٹاپھٹا پاکستان دیا گیاانگریزوں اور ہندوﺅں کا خیال تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا اور ہندوستان دوبارہ متحد ہو جائے گالیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان آج تک قائم و دائم ہے۔احمر بلال صوفی نے کہا کہ3جون ہماری قومی تاریخ کا نہایت اہم دن ہے۔اس دن پاکستان کا آئینی وژن سامنے آیاقائداعظمؒ کے پڑنواسے مجتبیٰ رفیق نے کہاکہ میں پاکستان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں اور اس کیلئے مجھے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے افسوس کی بات ہے ہمارے ہاں قائداعظمؒ کی فیملی سے اچھا سلوک نہیں کیا جارہا تقریب کے دوران بچہ قائداعظمؒ فورم کے عہدیداران مناہل کمال صوفی،حفصہ کمال صوفی،صادق کریم صوفی اور فیضان اسلم صوفی نے بھی تقاریر کیں اور3جون 1947ءکی اہمیت سے حاضرین کو آگاہ کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1