براہ راست مذاکرات کریں، اسامہ اور حکیم اللہ محسود کو شہید سمجھتے ہیں: پروفیسر ابراہیم

براہ راست مذاکرات کریں، اسامہ اور حکیم اللہ محسود کو شہید سمجھتے ہیں: ...
براہ راست مذاکرات کریں، اسامہ اور حکیم اللہ محسود کو شہید سمجھتے ہیں: پروفیسر ابراہیم

  


خیبر ایجنسی (مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر اور طالبان مذاکرات کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ فوج اور طالبان کی قیادتیں امن کی خاطر براہ راست مذاکرات کریں، اپنے لوگوں کے خلاف لڑنے کا کوئی جواز نہیں، ڈالرز کی لالچ اور خوف دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کے اسباب ہیں، قبائلی علاقوں کی آباد کاری اور ترقی کے لئے بڑے معاشی پیکج کی ضرورت ہے، اسامہ اور حکیم اللہ محسود کو شہید سمجھتے ہیں۔ وہ لنڈی کوتل کے دور افتادہ علاقے لوئے شلمان میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔پرنٹ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق  انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے 1948ءمعاہدہ کے تحت فاٹا سے فوج واپس بلائی جائے، قبائلی عوام کی حب الوطنی اور قربانیاں شک و شبہ سے بالا تر ہیں، قبائلی مغربی سرحد کی حفاظت بہتر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت شلمان اور دیگر پسماندہ قبائلی علاقوں کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے ہر فورم پر موثر آواز اٹھائیگی اور کسی کو مظلوم قبائلی عوام کے ساتھ ظلم کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ ملک کے دیگر لوگوں کی طرح قبائلی عوام کو بھی تمام تر بنیادی حقوق دئیے جائیں تاکہ ان کی پسماندگی ختم ہوں انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد افغانستان سے بھاگ جانے پر مجبور ہے جنہوں نے چورہ سال افغانستان پر قابض رہنے کی کوشش کی اور تباہی مچائی اور کہا کہ انشاءاللہ کابل عالم اسلام کا چھٹا مرکز بنے گا۔ اگر افغان امن اور شریعت کی خاطر متحد ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے کہا کہ فاٹا میں جاری بدامنی کی اصل وجہ حکمرانوں کی امریکہ سے ڈالرز کی لالچ اور خوف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکمران اور فوج دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شریک ہیں۔

مزید : خیبر