مزدور کی تنخواہ12000کی گئی،غلطی سے 11000چھپ گئی تھی،اسحاق ڈار

مزدور کی تنخواہ12000کی گئی،غلطی سے 11000چھپ گئی تھی،اسحاق ڈار
مزدور کی تنخواہ12000کی گئی،غلطی سے 11000چھپ گئی تھی،اسحاق ڈار

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 12000کی گئی ہےغلطی سے 11000پرنٹ ہو گئی تھی۔ ٹیکس نہ دینے کا کلچر ختم کرنا ہو گا،ماضی میں بااثر افراد کو حاصل مراعات کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔میری تقریر بجٹ کی سب سے بڑی تقریر تھی۔پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک میں زرعی شعبے میں ترقی کے بہت امکانات ہیں اسی لئے لائیو سٹاک انشورنس اور کسانوں کیلئے قرضوں کی سکیمیں شروع کر ہے ہیں۔یوتھ لون سکیم میں 50فیصد درخواستیں لائیو سٹاک کیلئے آئیں۔قرض حسنہ کا آغاز بھی1997 ہماری حکومت نے کیا ۔قرضوں کی تمام سکیمیں شفافیت پر مبنی ہیں تمام سکیموں میں میریٹ کو یقینی بنایا گیا ہے۔غریبوں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔انکاکہنا تھا کہ ملک میں9کروڑ افراد ۲ڈالر سے کم کی آمدن پر گذارہ کر رہے ہیں۔نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔نوجوانوں کے لئے لیپ ٹاپ اور سکل ٹریننگ کی سکیمیں آپریشنل ہیں۔ ایک لاکھ 20ہزار لوگوں کو ٹیکستائل کے شعبے میں تربیت دی جائے گی۔ٹیکسوں کی وصولیوں میں اضافہ خوش آئند ہےبااثر طبقے کو حاصل مراعات ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی میں بااثر افراد نے ایس آر اوز کے ذریعے فائدہ اٹھایا، ایس آر او کلچر تین سال میں ختم کردیں گے ۔بڑے سٹورز کی ٹیکس رجسٹریشن لازمی ہو گی ۔ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کا کلچر ختم کرنا ہو گا۔ ٹیکس وصولی کا مطلب حراساں کرنا نہیں ہوتا۔ بجٹ میں صنعت کی بحالی کے لئے پیکج دیا گیا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ3ہزار روپے پنشن مذاق تھا اسلئے اسے بڑھا کر 6ہزار کر دیا ہے ۔یکم جولائی سے پنشنرز کو چھ ہزار روپے ملیں گے۔ سابق حکومت نے5سال لوگوں کو ایک ہزار روپے دئیے ہم نےایک سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 50فیصد اضافہ کر کے رقم 1500 روپے کر دی ہے۔5لاکھ مزید خاندانوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ مشکل اہداف کا عادی ہوں حکومتی کارکر دگی500فیصد بہتر رہی۔بجٹ کی آڑ میں کسی کو قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنے دیں دینگے۔بجٹ تجاویز سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔چین اور امریکا کی طرز پر ایگزم بنک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نئے انفراسٹرکچر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...