سائنسدان انسانی یادداشت پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے

سائنسدان انسانی یادداشت پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے
سائنسدان انسانی یادداشت پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے

  


نیویارک (نیوز ڈیسک) نیوروسائنس (دماغ کا مطالعہ کرنے والی سائنس) کی تاریخ کی عظیم ترین اور یادگار ترین دریافتوں میں سے ایک حال ہی میں امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں منظر عام پر آچکی ہے جہاں سائنسدانوں نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ راز معلوم کرلیا ہے کہ دماغ میں مختلف واقعات کی یادیں کیسے محفوظ ہوتی ہیں اور کیسے غائب ہوجاتی ہیں۔ مشہور نیوروسائنٹسٹ روبر ٹوملینو (Roberto Malinow) کی سربراہی میں ایک ٹیم نے تجربات سے یہ ثابت کردیا ہے کہ دماغ کی نیورانوں کے سرکٹ میں برقی رو کے ذریعے یادیں محفوظ کی جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ یہ یادیں اس سرکٹ سے محو ہوجاتی ہیں۔ سائنسدانوں نے دماغ کے ہپوکیمپس نامی حصے میں لیزرشعاعوں کو منعکس کیا اور یہ معلوم کرلیا کہ روشنی کے ملنے پر نیورانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرکے ایک سرکٹ بنانے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ سرکٹ بننے کے اس عمل کو LPT کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ LPT ہی حافظے کی بنیاد ہے۔ اس ثابت کرنے کیلئے ایک چوہے کے دماغ میں لیزر شعاعوں کی مدد سے ایک ایسی یادداشت محفوظ کردی گئی جس کا کہ اسے کبھی تجربہ نہ ہوا تھا اور پھر دوبارہ انہیں نیورانوں پر روشنی کے عمل سے اس یادداشت کو ختم کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے اس تحقیق کو ایک انقلاب قرار دیا ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی