برطانیہ بھی دنیا کی جاسوسی میں ملوث نکلا

برطانیہ بھی دنیا کی جاسوسی میں ملوث نکلا
برطانیہ بھی دنیا کی جاسوسی میں ملوث نکلا

  


لندن (نیوز ڈیسک) ابھی دنیا امریکہ کے ہر ملک میں پھیلے جاسوسی کے جال کا رونا رو رہی تھی کہ امریکہ کے دوست برطانیہ کے سمندر کی تہہ میں قائم جاسوسی کے نظام اور مراکز کی خوفناک اور ناقابل یقینی تفصیلات منظرعام پر آگئی ہیں۔ ’رجسٹر‘ نامی نیوز ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے بحیرہ عرب میں خلیج فارس اور اس کے قریبی سمندری علاقوں، خصوصاً عمان کے شہر سیب(Seeb) کے قریب سمندر کی تہہ میں کم از کم تین مختلف مقامات پر انٹرنیٹ کی بین الاقوامی فائبر آپٹک کیبلز سے ڈیٹا چرانے کا نظام نصب کر رکھا ہے۔ ’رجسٹر‘ کا دعویٰ ہے کہ برطانوی حکومت کے دباﺅ پر یہ معلومات مختلف خبر رساں اداروں کے پاس ہونے کے باوجود کبھی منظر عام پر نہیں آ سکیں۔ تازہ انکشافات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جاسوسی کے اس منصوبے میں بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں بھی برطانوی خفیہ اداروں اور خصوصاً سیکیورٹی ادارے ’بی سی ایچ کیو‘ کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور خفیہ ناموں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کا خفیہ نام ’ریمیڈی‘ ہے اور ’ووڈا فون کیبل کو ’گیرونیٹک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سمندر کی تہہ میں قائم کئے گئے خفیہ مراکز کو بھی کوڈ نام دیئے گئے ہیں۔ برطانوی جاسوس انجینئر ان فائبر آپٹک کیبلز میں سمندر کی تہہ میں جا کر خفیہ کنکشن لگاتے ہیں جن کی مدد سے سارا ڈیٹا برطانیہ کے خفیہ کمپیوٹروں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ سمندر کی تہہ میں بچھی ہوئی یہ کیبلز پاکستان سمیت علاقے کے کئی ممالک کو امریکہ اور یورپ سے ملاتی ہیں اور ان پر جانے والا سارا ڈیٹا جاسوسی کی زد میں ہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے اس جاسوسی پروگرام میں شامل ٹیلی کام کمپنیوں کو اربوں ڈالر دیئے جاتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی