کراچی میں معمولات زندگی معطل، تعلیمی ادارے بند،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب

کراچی میں معمولات زندگی معطل، تعلیمی ادارے بند،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب
کراچی میں معمولات زندگی معطل، تعلیمی ادارے بند،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب

  


 کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف نمائش چورنگی پر دھرنا دوسرے روز بھی جاری  ہےجس سےمعمولات زندگی  معطل ہوکررہ گئے ہیں تعلیمی ادارے پیٹرول پمپس ہوٹل اور دکانیں بند پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب، برطانوی اور امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لئے نمائش چورنگی پر دھرنے کو 14 گھنٹے ہو گئے۔ دھرنے میں رابطہ کمیٹی، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اور کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ خواتین بھی موجود ہیں۔ شہر میں کشیدہ صورتحال برقرار ہے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ شہری زندگی معطل ہے۔ تعلیمی ادارے، پیٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز، ہوٹل اور دکانیں بند ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے اور سڑکیں سنسان ہیں۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے صورتحال دیکھ کر گاڑیاں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ جامعہ کراچی، وفاقی اردو یونیورسٹی اور سر سید یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ انٹر بورڈ، ٹیکنیکل بورڈ اور میٹرک بورڈ کا بھی امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد کیا جائے گا۔ کراچی تاجر اتحاد نے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث سرکاری و نجی دفاتر میں حاضری نہ ہونے برابر ہے۔ برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی قونصل خانہ آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف شہروں میں پریس کلبز کے باہر ایم کیو ایم کے دھرنے جاری ہیں۔ دھرنوں کے شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے قائد خطاب نہیں کرتے وہ گھروں کو نہیں جائیں گے۔ ہاتھوں میں الطاف حسین کی تصاویر اور پارٹی پرچم اٹھائے کارکن اپنے قائد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کراچی میں نمائش چورنگی پر دھرنے میں ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنونئیر ناصر جمال، رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت اہم رہنماں نے بھی شرکت کی۔ اسلام آباد میں بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ نعرہ بازی کرتے مظاہرین کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی رہائی تک ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لاہور پریس کلب کے باہر بھی دھرنا دیا گیا۔ شرکا نے الطاف حسین کو حراست میں لینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور نعرہ بازی بھی کی۔ سکھر میں بھی شدید گرمی کے باوجود ایم کیو ایم کے کارکن پریس کلب کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی دھرنے میں شریک ہے۔ لاڑکانہ میں بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں کا دھرنا جاری ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے قائد خطاب نہیں کرتے وہ گھروں کو نہیں جائینگے۔ الطاف حسین کو حراست میں لئے جانے کے خلاف ڈہرکی میں بھی ایم کیو ایم نے دھرنا دے رکھا ہے۔ شرکا نے نعرہ بازی کرتے ہوئے اپنے قائد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ملتان میں بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا، انہوں نے برطانیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

مزید : کراچی