رہائی پانے والا امریکی فوجی برگ ڈال دراصل عبدللہ نکلا ؟

رہائی پانے والا امریکی فوجی برگ ڈال دراصل عبدللہ نکلا ؟
رہائی پانے والا امریکی فوجی برگ ڈال دراصل عبدللہ نکلا ؟

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) طالبان کی قید سے حال ہی رہا کروائے گئے امریکی فوجی کے متنازعہ معاملے نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے اور اب اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے کہ کہیں یہ طالبان کے ساتھ تو نہیں چلا گیا تھا۔ امریکی صدر اوبامہ نے جب سارجنٹ برگ ڈال کی پانچ طالبان قیدیوں کے بدلے رہائی کا اعلان کیا تو پورے امریکہ میں ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ جہاں کچھ لوگ اس فوجی کو امریکہ کا ہیرو قرر دے رہے تھے تو وہیں ایک بہت بڑی تعداد اسے غدار اور طالبان کا ساتھی قرار دے رہی تھی۔ اس تنازعے کو حل کرنے کیلئے بالآخر امریکی فوج نے برگ ڈال کے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ طالبان نے 2009ءمیں اس امریکی فوجی کا افغانستان میں لڑائی کے دوران قابو کرلیا تھا اور  طالبان کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اس فوجی نے اسلام قبول کرلیا ہے اور اس کا اسلامی نام عبداللہ ہے۔ طالبان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس فوجی نے انھیں بمم بنانے کی ترنیت بھی دی .امریکی عوام اور فوجیوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ برگ ڈال امریکہ کی افغانستان پر جارحیت کے خلاف ہوگیا تھا اور رفتہ رفتہ اس کے خیالات اتنے بدل گئے کہ ایک دن اچانک وہ اپنی فوجی چوکی چھوڑ کر طالبان سے جاملا امریکی صدر اوباما کو پانچ اہم طالبان قیدیوں کے بدلے ایک غدار کو چھڑوانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی