بجٹ۔۔۔حکومت کا امتحان!

بجٹ۔۔۔حکومت کا امتحان!

  

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے قومی بجٹ کی حکمت عملی کے تعین کیلئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایسے اقدامات پر زور دیا جن سے عوام کی مشکلات میں کمی اور سہولتوں میں اضافہ ہو۔اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ عام آدمی کی فلاح و بہبود اور پوری قوم کی اجتماعی خوش حالی کو بجٹ کا محور ہوناچاہیے۔ اس مقصد کے لئے وزیر اعظم نے ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس کے نتیجے میں کرپشن کا خاتمہ اور رضاکارانہ ٹیکس جمع کرانے کی حوصلہ افزائی ہو۔انہوں نے وزرات تجارت کو برآمدات میں اضافے کی کوششیں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافے پر وزیر اعظم نے ہم وطنوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ بینکاری نظام کے ذریعے اپنی رقوم پاکستان بھیجنے میں سمندر پار پاکستانیوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اورنوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافے کو معاشی حکمت عملی میں خاص طور پر ملحوظ رکھے جانے کی ضرورت بھی وزیر اعظم نے واضح کی اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی تاکید کی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس موقع پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دو سال پہلے کے مقابلے میں قومی معیشت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی معیشت کی موجودہ صورت حال اور آئندہ بجٹ ترجیحات اور تجاویز پر روشنی ڈالتے ہوئے کابینہ کو بتایا کہ دوسال پہلے جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا افراط زر کی شرح بارہ فی صد سے زیادہ اور مالیاتی خسارہ آٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد تھا۔ تاہم حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آئے اور معیشت ترقی کے راستے پر گامزن ہوئی، مالیاتی خسارہ چار فی صد تک آیا گیا جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بیس ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مجموعی قومی پیداوار میں محصولات کے تناسب کی شرح 13 فی صد مقرر کی گئی ہے اور برآمدات کے لیے 32ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ قومی بجٹ روزگار کے نئے مواقع اور مجموعی طور پر قومی معیشت کی بہتری اور حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کی تکمیل کی جانب نمایاں پیش رفت کا ذریعہ بنے گا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کے گزشتہ بیالیس سال کی کم ترین سطح پر لے آئے جانے کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں ترین وقت قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس یقین کااظہار کیا کہ ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مواقع دستیاب ہوں گے جو پورے ملک میں خوش حالی کا سبب بنیں گے۔کابینہ کی جانب سے اس بجٹ حکمت عملی کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت اقتصادی ترقی کے لیے 5.5فی صد ، افراط زر کے لیے 6فی صد،بجٹ خسارے کے لیے3.4 فی صد،زرعی ترقی کے لیے 3.9فی صد،صنعتی ترقی کے لیے6.4 فی صد جبکہ ٹیکس وصولیوں کے لیے 3100ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم صاحب! یہ بات تو درست ہے کہ ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے لیکن اس کے براہ راست اثرات عام آدمی کو منتقل نہیں ہو رہے، اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو، ملک میں ایک بڑا طبقہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر رہا ہے، اکثر کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے، اس طرف حکومت کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ نیز یہ کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کی مناسبت سے بڑھائی جائیں، یہ وہ طبقہ ہے جو ہر مشکل موقع پر حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے، کوئی بھی ناگہانی آفت ہو، سرکاری ملازمین اپنی ایک دو دن کی تنخواہ حکومتی فنڈ میں ڈال کر ،اس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں، حکومت کو بھی ان کی قربانیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لئے حالیہ بجٹ اس کا امتحان ہوگا ،آئندہ ستمبر میں بلدیاتی انتخابات بھی آنے والے ہین، ایسے میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طورپر عام آدمی جسے سفید پوش طبقہ کہا جاتا ہے، اس کی فلاح کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں، کیونکہ یہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کا اندیشہ ہے، حکومت کو اس حوالے سے حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے، بالخصوص رمضان المبارک میں احترام رمضان آرڈیننس کے ساتھ ساتھ مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ عام آدمی بھی پرسکون زندگی بسر کر سکے۔

مزید :

کالم -