وطن عزیز کے استحکام کیلئے سخت فیصلے کرنا ہونگے

وطن عزیز کے استحکام کیلئے سخت فیصلے کرنا ہونگے
وطن عزیز کے استحکام کیلئے سخت فیصلے کرنا ہونگے

  

بھارت کی مسلم مخالف مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف جنگی جنون ابھارنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں کابینہ کے اجلاس میں 65 ء کی جنگ کے حوالے سے اگست میں ملک گیر پاکستان مخالف تقریبات منعقد کرنے اور نام نہادجشن فتح منانے کا پروگرام وضع کیا ہے بظاہر یہ کہا گیا ہے کہ جشن فتح 65 ء کی جنگ مکمل ہونے کے 50 سال بعد منایا جارہا ہے تاہم عالمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ مجوزہ جشن مودی کی قوم پرست حکومت کی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے جن پر اندرون اور بیرون ملک زبردست تنقید کی جارہی ہے ستمبر65 ء کی جنگ کا 50 سالہ جشن دراصل مودی حکومت کی بدحواسی کا حصہ ہے دوسری طرف بھارتی حکومت پوری طرح پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی سبوتاژ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے پاکستان کے اندر اپنے ایجنٹوں اور عالمی سطح پر کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہے پاکستان اس وقت دہشت گردی کیخلاف ایک بڑی جنگ میں مصروف ہے ان حالات میں پاکستان کو اپنے بڑے اتحادی امریکہ سے بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے امریکہ سرکار بھارت کو تنبیہہ کرنے کی بجائے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نکتہ چینی کرنے سے باز نہیں آتی پاک امریکی ورکنگ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کو مزید ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جو پاکستان کی خود مختاری میں کھلم کھلا مداخلت کے مترادف ہے پاکستان کی یقین دہانی کے باوجود امریکی اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار طالبان داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھ نہ لگ جائیں حالانکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہائی محفوظ ہاتھوں میں لیکن امریکی سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی پاکستان منتقل نہ کرنے کا جواز اس امر کو بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کے اثاثے محفوظ نہیں ہیں جبکہ بھارتی جنگی عزائم کے باوجود امریکی وزیر دفاع مودی سرکار سے مذاکرات کے لئے نئی دہلی پہنچے ہوئے ہیں اور بھارتی سرکار اس دورے میں توقع کررہی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے اسے سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے مزید مراعات ملیں گی اور مزید اسلحہ کے سودے بھی ہونگے۔ بھارت نے اقتصادی راہداری کے منصوبے کو اپنے دفاع کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز گلگت بلتستان سے کیا جارہا ہے شاہراہ کی تعمیر بھارتی دفاع کو نقصان پہنچائے گی اور مزید یہ کہ گلگت بلتستان کشمیر کا اٹوٹ انگ ہے جو کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے کیونکہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے کشمیر پر غاضبانہ قبضے کے باعث بھارت دنیا بھر میں بدنام ہے مگر اس کے باوجود وہ مسلسل ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے پاکستان حکمرانوں کی یہ مسلسل نا اہلی ہے کہ انہوں نے آج تک گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے باوجود اسے پاکستان کا حصہ نہیں بنایا اور نہ ہی ریاستی باشندوں کو وفاق میں ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ریاستی انتخابات کے ساتھ ساتھ بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی حاصل ہے پاکستان میں برسر اقتدار کوئی بھی حکومت قوم پر یہ بات عیاں نہیں کرسکی کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں ایک طرف بھارت کھلم کھلا مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو اپنے وفاقی اداروں میں نام نہاد نمائندگی دے رہا ہے لیکن ہمارے حکمران پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایسی ترمیم لانے کی جرات کیوں نہیں کررہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو قومی اسمبلی میں رائے دہی کا حق دیں۔ مودی حکومت کے جنگی عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں اور یہ امر خوش آئند ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کیا نامکمل ایجنڈا ہے اور یہ کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں مسئلہ کشمیر کا وہی حل قبول ہوگا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہم کسی ملک کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کی اجازت دیں گے اور نہ خود کسی طور اس کا حصہ بنیں گے۔ جنرل راحیل شریف کے اس بیان نے ایک طرف بھارتی عزائم کا پردہ چاک کیا ہے تو دوسری طرف انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کی کسی پراکسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے

آج پاکستان اور امریکہ کے درمیان جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ انتہائی مایوس کن ہے اس مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کا رویہ انتہائی مایوس کن اور قومی تقاضوں کے منافی ہے جس میں انتہائی عاجزانہ طریقے سے پرامن ایٹمی سول ٹیکنالوجی کی بھیک مانگی گئی ہے اور پاکستان سے وعدہ لیا گیا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ نہیں لگیں گے ان حالات میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو ازسر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے حکومت کو بھی اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ایسے وقت میں جبکہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ انتہائی اہم مسئلے پر مذاکرات کے لئے واشنگٹن میں موجود تھے ان سے کسی قابل ذکر خارجہ اور دفاعی امور کے امریکی ماہرین اور عہدیداروں نے ملاقات نہیں کی اور اس کے برعکس عین اس وقت بھارتی وزیر دفاع اپنے نئے اتحادی بھارت کو خوش کرنے کے لئے نئی دہلی پہنچ گئے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مستقبل کی امریکی حکمت عملی میں امریکی پینٹاگون اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھارت کو اہم کردار سونپنا چاہتا ہے امریکہ ایک بار پھر پوری حکمت عملی اختیار کررہا ہے جو افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد اس نے پاکستان سے سلوک روا رکھا تھا امریکہ نے افغان جنگ میں پہلے بھی پاکستان کو استعمال کیا اور سویت فوجیں نکلنے کے بعد اسے بے یارو مدد گار چھوڑ کر افغانستان سے فرار ہوگیا اور ایک بار پھر جب امریکہ افغانستان سے واپس جارہا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ خطے سے پاکستان کا رول ختم ہوگیا ہے اور وہ بھارت کو جنوبی ایشیا میں اپنے پولیس مین کا کردار دینا چاہتا ہے ان حالات میں ہماری حکومت اور ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو دفاعی خود مختاری اور دفاع پاکستان کو مستحکم کرنے کے لئے سخت فیصلے کرنے ہونگے وقت آگیا ہے کہ اب کہ قوم کو بھارتی جنگی جنون کے مقابلے کے لئے تیار کیا جائے۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے ہمیں حوصلہ اور نئے عزم کے ساتھ خود مختار خارجہ پالیسی پر گامزن ہونا ہوگا۔

مزید :

کالم -