نیشنل ایکش پلان پرعملدرآمد، سول ملٹری تعلقات میں مدوجزر معمول کی بات بن چکی

نیشنل ایکش پلان پرعملدرآمد، سول ملٹری تعلقات میں مدوجزر معمول کی بات بن چکی

  

تجزیہ: مبشر میر (کراچی سے)

کراچی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سول ملٹری تعلقات میں مدوجزر معمول کی بات بن چکی ہے ۔سندھ رینجرز نے سندھ پولیس میں بھرتیوں کو اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ تعلقات میں اتارچڑھاؤ شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔کورکمانڈر ہیڈکوارٹرز میں انسداد دہشت گردی سیل کا قیام اور سی پی ایل سی کو غیر فعال کرنے کی طرف پہلا قدم بھی یہ نشاندہی کرتا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے اب پوری ذمہ داری افواج پاکستان اپنے کندھوں پر اٹھائے گی اور سندھ پولیس اور وزارت داخلہ سندھ پر مزید اعتبار کرنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ یہ ادارے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔کاروباری حضرات کا اعلیٰ ترین وفد کورکمانڈرسے ملاقات میں اس بات کا مطالبہ کرچکا ہے کہ وہ افواج پاکستان پر زیادہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ کراچی کو اس کا امن اور روشنیاں لوٹانے میں بھرپور کردار ادا کرے ۔شہرقائد میں پانی کی شدید قلت پر بھی سندھ حکومت سے بات چیت کی جارہی ہے ۔بریگیڈیئر فرخ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کی ملاقات بھی اسی ضمن میں ہوئی ہے ۔بہتری نہ ہونے کی صورت میں اس بات کا قوی امکان دکھائی دے رہا ہے کہ سندھ رینجرز ایک مرتبہ پھر واٹربورڈ کا انتظام سنبھال لے گی ۔2008میں واٹرٹینکرز کا انتظام رینجرز سے لے کر صوبائی حکومت کو دیا گیا تھا اور پانی کا ٹینکر مافیا پھر سے منظم ہوگیا تھا جو اب بہت زیادہ طاقتور ہوچکا ہے ۔اس حوالے سے پہلے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ٹینکرز مافیا کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے ۔اس لیے اس بات کا امکان دکھائی دیتا ہے کہ رینجرز پانی کا انتظام سنبھال سکتی ہے ۔یہ بات حیران کن دکھائی دیتی ہے کہ سندھ حکومت ابھی تک لینڈ مافیا کے قلع قمع کے لیے کوئی واضح پالیسی نہیں اپناسکی جبکہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس میں کہا تھا کہ کراچی کی زمین فوری طور پر کمپیوٹرائز کی جائے ۔سندھ حکومت کے لیے دینی مدارس کے خلاف کارروائی ایک چیلنج ہوگا ۔اگر سندھ پولیس ایسا کرنے میں ناکام ہوئی تو اس امکان کو ردنہیں کیا جاسکتا کہ ایف سی مستقل بنیادوں پر سندھ میں تعینات کردی جائے گی ۔

مزید :

تجزیہ -