بیما رئی دل

بیما رئی دل
 بیما رئی دل

  

تحریر:- احمد ابو بکر

پا نا مہ لیکس کے بعد پیدا ہو نیوالی سیا سی ہل چل سے پاکستانی سیا ست میں کر پشن کے بڑے بڑے بت بے نقاب ہو ئے ہیں اب تک کی معلوم سیا سی تا ریخ میں صر ف ایک سیا سی خا نوادہ مبینہ طور پر کرپٹ تھا مگر شکریہ پا نامہ لیکس کہ اشرافیہ اپنے اپنے اباجان سمیت سمندر پار کمپنیوں کے کا روبار میں سر تا پا غر ق آب نکل آ ئی ہے۔ پا کستان کی ساری ریاستی  مشینری جس طرح ایسے انکشافات کو رد کر نے پر تلی ہے جن کے بارے میں انکا بنیا دی استدال ہی یہ ہے وزیر اعظم کا کہیں ذکر تک نہیں تو کیوں پاکستانی سرکار اور اسکے وزراءمیدان میں نکل کھڑے ہیں اور ان کے ’نا لہءدل‘ سے گریہ وزاری کا گمان بھی ہو تا ہے اور جو ابی الزامات سے سیا سی مخا لفین کے پر زے بلکہ ان پر چھینٹے دور دور تک اڑا رہے ہیں۔ سیا سی چھینٹے اڑانے کے فن میں کمال میاں نواز شریف اور انکے سیا سی مصا حبین نوے کی دہا ئی سے رکھتے ہیں۔ مگر اس با ر انکا اصلی مقا بلہ عمران خان کی حقیقی اپو زیشن سے ہے بہر حال جسکا دامن پرانی اپو زیشن کی طر ح دا غدار نہیں ہے۔ جمہو ریت میں شفاف انتخا بات پر اصرار، احتساب کا مطا لبہ اور کرپشن کو عوامی مسئلہ بنا نے کا کریڈٹ بھی عمران خان کو ہے اور یہ بات میاں صا حب نے دل پر ایسے لے لی کہ پہلے پہل تو تین با رقوم سے اپنے ذاتی مسئلے پر خطاب کر ڈالا، دبا ﺅ بڑھا تو صو بہ خیبر پختونخواہ میں نیا پا کستان ڈھو نڈنے نکل کھڑے ہوئے، عوامی اجتما عات میں انکے پہلو میں دل کا شور تو بہت تھا مگر اس میں بھی نا کام ٹھہرے کہ مو لانا فضل الر حمٰن کی ہمرا ہی میںنیا پاکستان خاک ملنا تھا، دبا ﺅ زرا ذیادہ بڑھا تو بھا گم بھاگ پا رلیمنٹ کے فلور پر آ نکلے تو’شا بش او ئے تھا نے دارا ‘ والی بات یاد آ تے ہی ہما ری ہنسی چھوٹ گئی۔با لا آ خردبا ﺅ میا ں صا حب کے دل پر بھا ری گزرا اوروہ آ ف شور کمپنیز کا درد دل میں لیے لندن جا پہنچے۔ ہم انسانی سطح پر وزیر اعظم صا حب کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں کہ اس بیما ری دل سے جلد چھٹکارا حا صل کریں اور انکی دل کی دھڑ کنیں معمول پر آ ئیں تا کہ ملک میں جاری افواہ سازی کی فیکٹریوں کا ہارٹ فیل ہو۔ صحتیا بی کے بعد انکے دل نے سیا سی اور گورنینس کے

معا ملات پر پرانی روش جا ری رکھی تو گو یا

’دل اگر ہے تو درد بھی ہو گا

اور اسکا کو ئی نہیں ہے حل شاید‘

وزیر اعظم جب پا رلیمنٹ آ تے ہیں تو انتہا ئی خطرے کے وقت یا ذاتی معا ملات کی و ضا حت کے لیے، وگرنہ انکی پار لیمانی روایات کو ئی زیا دہ قا بلِ فخر نہیں ہیں، مو جو دہ دور اقتدار میںوہ قو می اسمبلی کے 284اجلاسوں میں سے صرف 37 اجلاسوں میں شریک ہو ئے،اس پا رلیمانی سال وہ 93 اجلاسوں میں محض نو دفعہ شریک ہو ئے یہ اس مجلس دستور ساز سے انکا رویہ ہے جو انکے اختیارات کا سر چشمہ ہے۔ انداز حکمرنی انتہا ئی شا ہانہ ہے ہر شعبہ بہتر حکمرا نی مانگ رہا ہے مگر وفا قی کا بینہ کا اجلاس سات مہینوں کے بعد ہوا ہے کا بینہ بھی ایسی تجربہ کار جس میں قا بلیت اور اہلیت کا معیار ہر شعبہ میں عملا ً نظر آ رہا ہے۔ ملک کی معا شی صو رتحال براہ راست سیکیو رٹی کی بہتری یا ابتری پر انحصار کیے ہو ئے ہے ایسے میں حکو مت کتنی سنجیدہ ہے اندازہ خود لگا لیجیے کہ قو می سلامتی کو نسل کا اجلاس 17 ماہ کے طویل انتظار کے بعداپریل 2016 میں ہوا، نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات کے ساتھ کیا گزری اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے، اگر کا بینہ کا اجلاس سات سات مہینوں بعد ہو گا تو نیکٹا ایک فعا ل ادارہ کیسے بنے گا؟مذہبی انتہا پسندی، منا فرت اور عدم برداشت پر مشتمل لٹریچر پر پا بندی اور سخت حکو متی رد عمل کیسے سا منےآ ئے گا؟کالعدم تنظیمیں آ ج بھی بھر پور انداز میں کام کر رہی ہیں، انکی معاونت ہو رہی ہے تو ابھی تک یہ سا نس لے رہی ہیں، مت بھو لیے کہ لاہور جیسے شہر میں ان تنظیموں کی ملکی آ ئین سے متوازی شر عی عدا لتیں شہریوں کو سمن بھیج رہی ہیں،سو شل میڈیا کو ایسی تنظیمیں ابھی بھی ایک مو ثر اظہار کا ذ ریعہ بنا ئے ہو ئے ہیں۔ ملک میں گور نینس کا ایک پیما نہ وفا قی کا بینہ کی فعا لیت بھی تو ہے ناں! اس کے بغیر کیسے ہم فاٹا کےبھا ئیوں کو واپس جنگ زدہ علاقوں میں بھیج سکتے ہیں یا کیسے فا ٹا اصلا حات ہوں گی اگر کابینہ کی بیٹھک ہی نہیں ہو گی۔درحقیقت نیشنل ایکشن پلان میں ایک اہم نکتہ افغان مہا جرین کی افغا نستان واپسی کا تھا، آ پ اس اہم ترین نکتے کو ملا منصور کی پا کستان میں ہلاکت سے جو ڑیے تو اس سے بخو بی اندازہ ہو گا کہ افغا نوں کی واپسی کتنی ضروری ہے۔

سر کار دو عالم ﷺ نے فرما یا کی انسانی جسم میں ایک لو تھڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہے تو سب ٹھیک ہے، پو چھنے پر بتا یا کہ وہ لوٹھڑا انسان کا دل ہے

ہما رے غیر معمولی حا لات میں ہما ری قیادت ہما رے اجتما عی معا شرے کا دل ہے، اگر یہ ٹھیک نہیں تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا کہ معا شروں کی اٹھان کے معمار ان کی قیا دت ہوا کرتی ہے۔وزیر اعظم صا حب کے دل کی شر یا نوں کو کا میا بی سے کھول دیا گیا ہے مگر مجھ سمیت دیگر پا کستا نیوں کو اصل فکر ہما ری معیشت کی بند شر یا نوں کی ہے، معیشت کے لیے زندگی اور موت جیسا اہم ترین منصو بہ اقتصادی راہداری اب حکومتی ٹیم کی گفتگو تک کا حصہ نہیں۔ وزیر اعظم صا حب کے دل کاآ پریشن کامیاب ہو چکا ہے اور انکے اہل خا نہ خوش اور انکے محل میں جشن اور چراغاں کا سماں ہے کیو ں نہ ہو۔۔انہیں مبا رک! مگر ہما رے شب وروز میں چھا ئے اند ھیرے ہما ری قوم کا کب تک مقدر بنے رہیں گے؟ در حقیقت آ پ کی حکمرانی قوم کے لیے ایک ڈرا ﺅ نا خواب بن چکی ہے، سارا دن ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر چلتا رہا کہ” وزیرِ اعظم کو ہوش آ گیا“ میں سوچتا رہا کاش! ان کے دل کی دھڑ کن اب چل پڑی ہے تو کاش ان کوہوش آ جائے کہ ان کے طرز حکمرانی سے قوم کادل بہت ٹو ٹا ہے۔چوراہے پر کھڑی قوم کے دلوں کو اب میاں صا حب مزید مت توڑیں، آ ئندہ انتخا بات تک حا لات ایسے رہے تو پھر۔۔۔۔

”زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا“

یہی وہ مستقل سیا سی دردِ دل ہے جو اب وزیرِ اعظم صا حب کی حکو مت کو لا حق ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صا حب درد کی دوا پاتے ہیں یا درد کو بے دوا پاتے ہیں!

مزید :

بلاگ -