سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری
 سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کئی سال پہلے وہ بھی اِک زمانہ تھا ۔جب لوگ شہر سے باہر رہنے والے اپنے پیاروں سے خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے۔ان کو اپنی ،خوشیوں ، پریشانیوں اور دیگر معمولات کے بارے میں آگاہ کرتے ۔ تحریر کو خوبصورت بنانے کے لیے ،خوشخطی،پرزور دے کر اپنے خیالات کو موثر بنانے کی کوشش کی جاتی، شائستگی اور ادب کی،خوشبو، کو شامل کر کے تحریر کو مزید خوبصورت بنایا جاتا۔ کسی کو لکھے گئے خط کو آدھی ملاقات بھی کہا جاتا تھا ،جوابی خط کا انتظار کیا جاتا، اور کئی دنوں کے ا’س ’’انتظار‘‘میں جو سکونِ قلب ہوتا تھا اس کی مثال شاید ہی مل سکتی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل خط و کتابت سے دوریاں کم اور قربت کا احساس مزید بڑھ جاتا۔ علاقائی، ڈاکیہ، سے شہر کے ہر آدمی کی جان پہچان ہوا کرتی بلکہ ہر آدمی ڈاکیے کے ساتھ اپنے تعلقات خوشگوار انداز میں رکھنے کی کوشش کرتا۔کتنا بابرکت دور تھا وہ جب لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں اور پریشانیوں میں پورے خلوص کے ساتھ شریک ہوا کرتے۔

عہد حاضر میں انٹر نیٹ ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کی ضرورت سے انکار کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ سائنس نے پوری دنیاکو سمیٹ کر انسانی ہاتھوں کی چند انگلیوں کے نیچے لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ چند سال قبل بڑے بڑے اداروں کے دفاتر بڑی بڑی بلڈنگوں میں ہوتے تھے۔ان میں موجود درجنوں الماریوں اور ان میں ہزاروں فائلیں پڑی ہوتیں۔آج ان ہزاروں فائلوں کا ،میٹر،چند انچ کے ایک کمپیوٹر میں رکھ دیا جاتا ہے ۔کی بورڈ کے ایک بٹن دبانے سے مطلوبہ دستاویزات آپ کے سامنے آجاتی ہیں ۔ دفاتر سکڑ گئے مگر کام بڑھ گیا ہے ۔ سماجی رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ،فیس بک،واٹس اپ،اور ٹیو ٹر نے انسانی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے ۔ کوئی بھی، میٹر ،جو ڈاک کے ذریعے کئی دنوں میں پہنچتا تھا واٹس اپ اور ای میل کے ذریعے سیکنڈوں میں آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ اِس کو ہم سوشل میڈیا کہتے ہیں۔اور اِس میڈیا کا استعمال جس بے دردی سے کیا جارہا ہے آنے والے دنوں میں اِس کے اثرات ہماری زندگیوں پر کس قدر پڑینگے اِس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کی اکثریت کو اِتنا ،،اَن سوشل،، کردیا ہے کہ گھر میں بیٹھے چار افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے فون سکرین کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ دفاتر، ریسٹورینٹ،ایئر پورٹ،بس سٹینڈ یا پھر بس کے اندر گھنٹوں کے سفر کے دوران ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے مسافر سے سلام دعا تک نہیں ہوتی،ہر آدمی صرف اپنے فون کے ساتھ کھیل میں مصروف نظر آتا ہے ۔


اِ س میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو متاثرتو کیا ہے، مگر کم نہیں کر سکا ۔کوئی ایسی خبر جو اخبارات میں نہیں چھپ سکتی ،اس کو سوشل میڈیا پر آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔کوئی ایسا ویڈیو کلپ جو الیکٹرانک میڈیا پر نہیں چلا یا جا سکتا، وہی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا سکتا ہے۔


سوشل میڈیا پر لوگ کسی بھی پوسٹ پر پوری آزادی کے ساتھ ،کمنٹ،کرسکتے ہیں۔ اپنے دل کی بات اور اپنے جذبات کا اظہار بھی کھل کے کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں ۔
مگر کاش وہ صرف اپنے دل کی بات پر اور اپنے مثبت جذبات پر ہی اکتفا کرتے ۔
اِس کی آڑ میں لوگوں کی پگڑیاں نہ اچھالتے۔
لوگوں کی ذاتیات پر حملہ آور نہ ہوتے۔
اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے بے ہودہ الفاظ کا سہارہ نہ لیتے۔
فرقہ واریت پر مبنی گستاخانہ موادپوسٹ نہ کرتے۔
مادر پدر آزادی کا ماحول پیدا نہ کرتے۔
سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مخالفت اپنی جگہ مگر ایک دوسرے پر غلیظ بہتان تراشی نہ کر تے۔عسکری اداروں کے خلاف مہم چلا کر ملک دشمن قوتوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کرتے ۔


حکومت اور اس کی وزارت داخلہ اپنی ذمے داریوں کو پورا کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ہونے والی ایسی تمام ،کارروائیوں، کو اگر خلوص نیت سے روکنا چاہتی ہے تو پھر ایف آئی اے سمیت اپنے تمام ادا روں کو بروئے کار لاکر بلا تفریق، کسی سیاسی مجبوری کے بغیر، ہر اس شخص کو گردن سے پکڑنا ہوگا۔ ان کے سرپرستوں تک پہنچنا ہوگا ۔ ان کو قرار واقعی سزا دینا ہوگی، جو بھی ملکی سالمیت کے خلا ف کسی بھی طریقے سے کام کر رہا ہے۔ مگرسوشل میڈیا ،یا فیس بک پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچنا درست عمل نہیں۔

مزید :

کالم -