درانی سے درانی تک 

درانی سے درانی تک 
درانی سے درانی تک 

  

سلطنت درِ دوران کے بانی احمد شاہ ابدالی جن کو عرف عام میں احمد شاہ درانی بھی کہا جاتا ہے ،ان کادورحکمرانی تقریباً۷۰ سال( 1747-1772) تک رہا ۔ یہ سلطنت شمال میں کشمیر ، مشرق میں دلی اور ملتان، جنوب میں موجودہ سندھ اور مغرب میں نیشاپور جو آجکل ایران کا حصہ ہے تک پھیلی ہوئی تھی۔ مرہٹوں کے ساتھ مسلسل جنگ و جدل سے درانی سلطنت کمزور پڑ گئی اور آخرکارسکھوں سے شکست کھا کر افغانستان میں سکڑ گئی۔

درانی افواج کے افغانستان جانے سے پہلے نوشہر ہ میں پیرسباق کے مقام پر سکھوں اور مقامی قبائل کے درمیان ایک زبردست معرکہ ہوا۔سوات، مردان اور نوشہرہ کے پشتون قبائل نے سکھوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔جب دونوں افواج آمنے سامنے ہوئی تو درانی فوج دریائے کابل کے مغربی کنارے پر خیمہ زن ہو گئی۔ پشتون قبائل نے سکھوں کو بہت نقصان پہنچایا مگر رنجیت سنگھ کے کمک کی وجہ سے پشتون قبائل پہاڑی پر چڑھ گئے۔ بلاخرسکھوں کو فتح ملی اور پشتون قبائل کو بے انتہا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پیرسباق اور نوشہرہ کے مقا م پر وسیع وعریض قبرستان اس عظیم معرکہ حق کا نشان ہے۔ اس سارے معرکہ میں درانی فوج تماشائی بنی بیٹھی رہی اور پھر پشاور چلی گئی کہ شائد سکھ افواج پشاور کو بخش دے۔ سکھوں نے اس کے فوراً بعد پشاور کا رخ کیا اور درانیوں کو لنڈی کوتل کے پار پہنچا دیا۔

گو کہ پشتون علاقوں میں آج بھی درانی با با کی بڑی عزت کی جاتی ہے۔ لیکن چند درانی جرنیلوں کی خود غرضی کی وجہ سے پشتون قبائل کو نقصان بھی بہت برداشت کرنا پڑاہے۔

جنرل اسد درانی کی کتاب آئی اور خبروں میں چھاگئی۔کتاب کا لکھنا اور پڑھنا بذات خود ایک اچھا عمل ہے۔ آج کے دور میں کتاب پر روک ناممکن ہے۔ابھی کتاب کی رونمائی بھی نہیں ہوپاتی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کتاب کی سوفٹ کاپی مفت آ جا تی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سوفٹ کاپی بھی اُن خاص کتابوں کی ہی آتی ہیں جن کا مقصد ہمارے ملک کے خلاف بیانیہ کو تقویت دینا ہو۔اسلئے کتاب لکھنے کے بھی کچھ ضابطہ اخلاق ہونے چاہئے۔ کتاب لکھ کر سلمان رشدی ملعون ہوا اور کتاب نے ہی اقبال ؒ کو شہرت کی بلندیاں عطا کی۔ ہمیں خود سوچنا ہوگا ٰکہ ہمیں اونچائی پر جانا ہے یا زمانے میں ذلیل و خوار ہونا ہے۔

کتاب کے لئے بہت سارے موضوعات ہو سکتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے رازوں کو ہی مو ضوعِ سخن کیوں بنایا گیا جو ہمارے لئے ماں جیسی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سچ ہی تو لکھا ہے غلط کیا لکھا ہے۔سچ ضرور لکھنا چاہئے مگر کچھ سچ قوم کی امانت ہوتے ہیں اس سچ کو ظاہر کرنے کا اختیار آپ کے پاس نہیں ہوتا۔ آپ کو قوم کچھ عرصہ اس سچ کا امانتدار مقرر کرتی ہے۔اس سچ کو بولنا خیانت میں شمار ہوتا ہے۔ جنرل اسد درانی اگر شاعری لکھتے یا وہ اس اہم عہدے پر نہ ہوتے جس کا تجربہ انہوں نے کتاب میں بیچنے کی کوشش کی ہیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔قوم پریشان اس لئے ہو رہی ہے کیونکہ جنرل اسد درانی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس لیے ان کی ذاتی رائے کوئی نہیں ہے۔ اس نے وہ سارے راز اپنے ساتھ قبر میں لے کر جانے تھے بجائے اس کے کہ وہ دشمن ملک جا کر کتاب کی شکل میں بیچ دیں۔کچھ تو حق ادا کریں اس پاک دھرتی کا۔ کل کو اگر ہمارے ایٹمی سائنسدانوں نے یا آ ئی ایس آ ئی کے تمام سابق سربراہان نے کتابیں لکھنا شرو ع کر دیں تو پھر کس کس کو روکیں گے اور اقوام عالم میں کیا منہ دکھائیں گے۔ 

بہت عرصہ پہلے ممتاز مفتی کی مشہور کتاب علی پور کا ایلی پڑھی ۔ اللہ نے ممتاز مفتی صاحب کو خاص کمال و قدرت سے نوازا تھا۔ مگر ان صلاحیتو ں کے باوجود، ممتاز مفتی نے اپنی کتاب علی پور کا ایلی میں اپنی اور اپنے والد کے معاشقوں کو نمک مرچ کے ساتھ لکھا۔ جب انھوں نے اپنی اگلی کتاب الکھ نگری لکھی تو اس میں یہ اعتراف کیا کہ اب مجھ سے میرے رشتہ دار بھی دور بھاگتے ہیں کہ پتہ نہیں کب میں انہیں اگلی کتاب میں ذلیل کر دوں۔ وہ کہتے تھے کہ خواہ مخواہ چوک میں اپنے پوتڑ ے لٹکانے کا کیا فائدہ۔دلوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے مگر جو بندہ والدین کو اپنی کتاب کے لیے ذلیل کر سکتا ہے اس بندے کے دین ایمان کا کیا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ 

سارا معاملہ اب فوج کے ہاتھ میں ہے۔ امید ہے کہ کوئی دور رس نتیجہ اخذ ہوگا۔یہ دھرتی ہماری ماں جیسی ہے۔ ہماری کوئی بھی حرکت جو اس سرزمین پر گراں گزرے ہمیں اس سے کوسوں دور رہنا ہوگا۔ جنرل اسد درانی سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ اس وقت ہمارے ملک کے خلاف کتنے محاذ کھلے ہیں۔انہوں نے دشمن کا کام آسان کردیا ہے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -