جناب وزیراعظم کی خدمت میں گزارشات

جناب وزیراعظم کی خدمت میں گزارشات
جناب وزیراعظم کی خدمت میں گزارشات

  

جناب وزیراعظم صاحب آپ کو انتخابات جیتے ایک برس مکمل ہو چکا ہے اور حکومت ملے ایک سال ہونے میں کچھ ہفتے باقی ہیں۔ اس عرصے کے دوران جو کچھ پاکستانی عوام پر گزری ہے۔ اس سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب آپ کی پاکستانی عوام کی خاطر بائیس سالہ جدوجہد کو سلام، دو دہائیوں پر محیط جدوجہد کے دوران آپ نے عوام میں جو شعور و آگہی بیدار کی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ عوام آپ سے کچھ سوالات پوچھیں۔

آپ اقتدار میں آنے سے پہلے جن حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کرتے رہے اور عوام کو ان اقدامات کے خلاف بھڑکاتے رہے۔ کیا اقتدار میں آنے کے بعد ان میں سے کئی اقدامات پر آپ بھی عمل پیرا نہیں ہیں؟ آپ کے دور میں عوام (آپ کے ووٹر) بہت مضطرب ہیں۔ اور بے چینی سے نئے پاکستان کے منتظر ہیں۔ آپ کی حکومت کی ابھی تک کی کارکردگی پر بہت سی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ کچھ آپ کی ذاتی زندگی پر بھی، مگر چونکہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسلہ معاشی بحران ہے، لہٰذا یہ خاکسار اسی مسئلے سے متعلق کچھ سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہے۔ آپ اقتدار میں آنے سے قبل بارہا یہ فرماتے رہے کہ ہم حکومت میں آکر بہت زیادہ ٹیکس ریونیو اکٹھا کریں گے جس سے ملک قرضوں کے بوجھ سے نکل آئے گا اور خوشحالی آئے گی۔ آپ کا استدلال یہ تھا چونکہ پہلے حکمران صادق و امین نہ تھے اور وہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ چوری کرتے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اپنے اکاونٹس میں لے جاتے تھے۔ اس لئے عوام ان کو ٹیکس نہیں دیتے تھے۔ جناب والا ابھی تک کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ آپ کے ان 10 مہینوں میں سابقہ دور سے بہت ہی کم ریوینو اکٹھا ہوا ہے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ تارکین وطن پاکستانی اپنا سرمایہ پاکستان لائیں گے، جس سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، لیکن ابھی تک اس کے کہیں دور دور تک بھی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ جناب وزیراعظم صاحب آپ فرماتے تھے کہ ہم حکومتی اخراجات میں بہت بڑی کمی لا کر بچت کی پالیسی اپنائیں گے۔ لیکن آپ کی کابینہ کا حجم دیکھتے ہوئے ایسا کہیں نظر نہیں آرہا کہ حکومتی اخراجات میں کوئی نمایاں کمی ہوئی ہو۔ اب میں دوبارہ پہلے سوال کی طرف آتا ہوں۔

آپ کو اندازہ ہوگیا ہے کہ سابقہ حکمران ہی چور نہیں تھے،بلکہ ہم سب چور ہیں؟ ہمارے سرمایہ داروں کو سابقہ حکمران موافق تھے۔ کہ کچھ وہ خود چوری کر لیتے تھے اور کچھ حکمرانوں کو نذر نیاز کر دیتے تھے۔ اور اب وہی سرمایہ دار طبقہ آپ کی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے ٹیکس دینے سے گریزاں ہے۔ اور دنیا کا کوئی بھی ملک بغیر ٹیکس کے چلانا ناممکن ہے۔ پھر پاکستان جیسا ملک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ آپ نے اس قوم کے ساتھ ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ نئے مکانوں، بلین درختوں اور نئے ڈیم بنانے کے بھی وعدے کر رکھے ہیں۔ ان تمام وعدوں کا سارا دارومدار ٹیکس ریونیو اور دوسرے ذرائع آمدن پر ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس حاصل کرنے کے لئے محکمہ انکم ٹیکس کی تطہیر کی جائے اور ٹیکس وصولی کا ایسا شفاف نظام وضع کیا جائے کہ کوئی فرد ٹیکس سے فرار حاصل نہ کر سکے۔ یہ کام ناممکن نہیں ہے۔ اس وقت دنیا میں بیسیوں ایسے ممالک ہیں۔ جو ٹیکس کے بہترین نظام کے ذریعے سے اتنا ٹیکس اکٹھا کر رہے ہیں۔ جس سے ملکی اخراجات پورا کرنے کے بعد بھی اچھی خاصی رقم بچ جاتی ہے۔ ان ممالک کے ٹیکس سسٹم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم اگر آپ تارکین وطن پاکستانیوں سے ڈیم فنڈ میں ایک ایک ہزار ڈالر نہیں لے سکے اور ان سے ملک میں سرمایہ کاری کروانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے تو کم از کم ان سے یہ مدد تو لی جا سکتی ہے۔ کہ وہ آپ کو تکنیکی مدد دے کر ملکی آمدن میں اضافہ کروا سکتے ہیں۔

اسی سے منسلک ایک اور شعبہ بھی آپ کی توجہ کا مستحق ہے۔ یہ سیاحت کی صنعت ہے۔اس بارے آپ کئی بار بات کر چکے ہیں کہ ہم سیاحت کو فروغ دیکر ملک میں زرمبادلہ لے کر آئیں گے۔ لیکن اس طرف بھی ابھی تک کوئی کام ہوا ہے نہ سیاحت کے فروغ کے لئے کوئی انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔ اگر یہ شعبہ نجی شعبے کے اشتراک سے چلایا جائے تو اس میں بہت بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی اصلاحات کر کے زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے بہت مواقع ہیں۔ وطن عزیز میں لاکھوں ایکڑ بنجر زمین ہے جس کو آباد کیا جا سکتا ہے۔ جس سے بے روزگاری میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -