عید کی خوشیاں،کیسے منائیں؟

عید کی خوشیاں،کیسے منائیں؟
عید کی خوشیاں،کیسے منائیں؟

  

جدھر ویکھو موجاں ای موجاں،پاکستان میں دو دو عیداں،مگر عید کی خوشیاں کہاں ہیں؟ مہنگائی نے عوام کے کڑاکے نکال دئے ہیں،رہی سہی کسر گرمی پوری کر رہی ہے ۔ مہنگائی کے طوفان نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنادی ہے، وہ کیسے عید منا رہے ہیں؟ افراط زر، بیروزگاری، مہنگائی نے عملی طور پر ملک سے متوسط طبقہ کا خاتمہ کردیا ہے، ماضی میں سفید پوش کہلانے والے اب غریبوں کی صف میں شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ مہنگائی کی کچھ حقیقی وجوہ بھی ہیں مگر زیادہ تر مہنگائی مصنوعی اور متعلقہ حکومتی اداروں کا ٹھنڈے پیٹ صورتحال کو برداشت کرنا ہے، اگر صرف پرائس کنٹرول کمیٹیاں متحرک اور فعال ہو جائیں تو ماہ مقدس اور عید کے موقع پر گرانفروشوں کو نکیل ڈالی جاسکتی تھی۔ موجودہ صورتحال سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنے والے نام کا کوئی ایک ادارہ اس ملک میں پایا ہی نہیں جاتا، انہی کالموں کی سطور میں پہلے بھی نشاندہی کی جاچکی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں مذہبی اور سماجی تہواروں کے موقع پر تاجر برادری ا زخود قیمتوں میں کمی کرکے غریب خریداروں کو سہولت فراہم اور خوشیاں سمیٹنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اس ماہ مقدس رمضان میں بھی امریکہ ، یورپ اور کینیڈا میں تاجروں نے حلال اشیاء کی قیمتیں رضاکارانہ طور پر 30سے 75فیصد تک کم کرکے مسلمانوں کو سہولت دی مگر کس قدر شرم کا مقام ہے کہ اسلامی ملک پاکستان میں ان مقدس ایام میں مصنوعی مہنگائی کرکے غریب شہریوں سے خوشیاں چھین لی جاتی ہیں۔

کیا مہنگائی کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ اور روپے کی بے وقعتی ہے؟ گیس ، بجلی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ پر بھی ہنگامہ مچا ہوا ہے ، بات میں بڑی حد تک حقیقت ہے مگر کسی قانون، سماجی قدر میں ازخود قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا، ڈالر کی قدر میں اضافہ سے صرف ان اشیا کی قیمت بڑھنی چاہیئے جو درآمدی ہیں، مقامی طور پر تیار اشیا کی قیمت پر ڈالر کی قیمت میں کمی بیشی کا کوئی اثر رونما نہیں ہوتا، روپے کی قدر میں کمی اور توانائی مہنگی ہونے سے البتہ قیمتیں متاثر ہوتی ہیں ،مگر قیمت میں اضافہ کی اجازت حکومت کی طرف سے دی جانی چاہیے اور حکومت نے تاحال ایسا کوئی اقدام نہیں کیا، تاہم متعلقہ حکومتی اداروں کی خاموشی اور بے حسی ایک المیہ ضرور ہے۔

تمام تر حقائق اپنی جگہ مگر مہنگائی کی ایک بڑی وجہ حکومت کا کنٹرول نہ ہونا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں پرچون فروشوں کو قابو کرنے کیلئے کوئی قانون ہے نہ محکمہ‘ عام شکایات کے بعد مجسٹریٹ چھاپے مارتے ہیں اور غریب دکانداروں کو جرمانے کرکے سمجھا جاتا ہے حق ادا کر دیا گیا۔ اصل ضرورت مہنگائی کی بنیادی وجہ تلاش کرنا ہے اور کارروائی ایسے عناصر کے خلاف کرنے کی ضرورت ہے جو مہنگائی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ بنیاد کو چھیڑے بغیر مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ کوئی تو وجہ ہو گی کہ رمضان المبارک میں استعمال ہونے والی اشیاء رمضان سے قبل کمیاب ہو جاتی ہیں اور رمضان میں مہنگی‘ عید سے پہلے جن اشیاء کا نرخ قابل قبول ہوتا ہے وہ عید سے چند روز قبل آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ اصل ضرورت اس کی وجہ کو تلاش کرنے کی ہے ورنہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں ہے۔

ماہ مقدس رمضان میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے مگر فرمان نبویؐ ہے کہ ’’ہر انسان کے اندر ایک شیطان ہوتا ہے‘‘ اس شیطان کو نفس کہتے ہیں اورنفسانی خواہش ہر انسان کو زیادہ سے زیادہ کمانے پر مجبور کرتی ہے‘ اصل ضرورت نفس کے اس شیطان کو قابو کرنے کی ہے اس کے لئے قرآن و حدیث کی تعلیم، سیرت طیبہ کو عام کرنے اور احکامات نبوی سے نئی نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے‘ اس اخلاقی تعلیم اور تعمیر کردار کی وجہ سے امریکہ‘ یورپ‘ کینیڈا کے معاشرے جھوٹ‘ دھوکہ دہی‘ عہد کی خلاف ورزی سے بڑی حد تک پاک ہیں‘ انسانی ہمدردی کے حوالے سے ان ممالک کے شہریوں میں احساس زندہ اور شعور پختہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں مذہبی اور سماجی تہواروں پر اشیاء کی قیمت میں مصنوعی اضافہ کرنے کی بجائے تاجر قیمتوں میں کمی کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے ان پر حکومتی دبائو بھی نہیں ہوتا۔ صرف اپنے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو خوشی کے مواقع پر خوشیاں بٹورنے کا موقع نہیں دیاجاتا بلکہ دیگر مذاہب سے متعلق لوگوں کو بھی تہواروں کے موقع پر ریلیف فراہم کیا جاتا ہے‘ رمضان اور اب عید کے موقع پر بھی امریکی‘ یورپی‘ کینیڈین تاجروں نے 30سے 75فیصد تک حلال اشیاء اور کپڑوں‘ جوتوں کی قیمت میں ازخود کمی کا اعلان کیا‘ یہ سب انسانی ہمدردی اور احساس کے باعث ممکن ہو سکا اور اس صورتحال میں بڑاکردار اس اخلاقی تربیت کاہے جو وہاں کی حکومتیں ہر شہری اور سرکاری ملازم کو فراہم کرتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا تاجر طبقہ بھی غریب شہریوں کو مذہبی‘ سماجی اور قومی تہواروں پر خوشیاں سمیٹنے کا موقع دے اور مصنوعی مہنگائی کرنے کے بجائے باہمی رضامندی سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرکے غریبوں کو ریلیف دے ورنہ ہم کبھی خوشی کے مواقع پر بھی یکجا نہ ہو سکیں گے۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ