سستا آٹا اور چینی پہلی ترجیح ہونی چاہئے

سستا آٹا اور چینی پہلی ترجیح ہونی چاہئے

  

وفاقی کابینہ نے گندم اور آٹے کی قلت روکنے کے لئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،چینی کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سامنے آنے والے حقائق کا جائزہ لینے کے لئے بھی بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور موجودہ نظام بشمول ریگولیٹرز کے موثر کردار کے حوالے سے جامع اصلاحات کے لئے سفارشات مرتب کرے گی۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا شوگر انکوائری کا مقصد ان وجوہ اور حقائق کو سامنے لانا تھا جن کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ نظر آیا اور عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا،طلب و رسد میں توازن کے لئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی،کمیٹی فلور ملوں سے متعلقہ معاملات میں اصلاحات کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گی۔ وزیراعظم نے چینی کی قیمتیں کم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اِس وقت مارکیٹ میں آٹا جن قیمتوں پر دستیاب ہے گندم کے سیزن میں اتنا مہنگا کبھی فروخت نہیں ہوا،فلور ملز مالکان اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انہیں سرکاری گندم جاری نہیں کی گئی نہ ہی وہ کسانوں سے براہِ راست گندم خرید سکے، جن کے پاس تھوڑا بہت سٹاک تھا وہ ”ذخیرہ اندوزی“ تصور کر لیا گیا ایسے میں آٹے کی مہنگائی تو ہونی تھی، اب بھی جو نرخ مقرر کئے گئے ہیں اُن پر آٹا کہیں دستیاب نہیں، اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں آٹا مزید مہنگا ہو گا، جو کمیٹی بنائی گئی ہے اُسے دوسرے کاموں سے پہلے اِس امر کا جائزہ لینا ہو گا کہ معقول نرخوں پر آٹا کیوں دستیاب نہیں اور روٹی کیوں مہنگی فروخت ہو رہی ہے، نانبائیوں کا اصرار ہے کہ اُنہیں آٹا مہنگا مل رہا ہے،اِس لئے وہ روٹی10 روپے اور نان15 روپے سے کم میں فروخت نہیں کر سکتے، کہیں کہیں تو قیمتیں بڑھا بھی دی گئی ہیں جہاں نہیں بڑھیں وہاں اس کی بھرپور تیاری ہے،غیر محسوس طریقے سے نان روٹی کا وزن کم کر دیا گیا ہے،اِس لئے ضرورت یہ ہے کہ نانبائیوں کو آٹا مقررہ نرخوں پر فراہم کرنے کے انتظامات کئے جائیں اگر ایسا نہ ہوا تو جلد یا بدیر قیمتیں بڑھیں گی اور یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے کہ قیمتیں ”کسی قیمت پر“ بڑھنے نہیں دی جائیں گی،یہ دعویٰ پولٹری کے سلسلے میں ناکام ہو چکا اور عید کے ایام میں مرغی کا گوشت 400 روپے کلو تک فروخت ہوتا رہا،حالانکہ پنجاب کے وزیر صنعت نے نرخ260روپے مقرر کئے تھے اور کہا تھا کہ اِس سے زیادہ قیمت پر فروخت ”برداشت“ نہیں کی جائے گی،لیکن سب کچھ برداشت ہو گیا۔ حکومت نے چینی کے بحران کے متعلق جو کمیٹی اور کمیشن قائم کئے تھے اُن کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں،لیکن اب تک کسی قانونی کارروائی کا آغاز نہیں ہو سکا۔البتہ ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں بلیم گیم پوری شدت سے جاری ہے، حکومت کہتی ہے کہ سابق حکومتوں نے سبسڈی دی اور مخصوص ملوں کو فائدہ پہنچایا، اپوزیشن الزام لگاتی ہے کہ ایکسپورٹ کی اجازت دے کر ایسی صورتِ حال پیدا کی گئی جس سے اندرونِ ملک قیمتیں بڑھ گئیں اور اضافے کے اس رجحان میں اب تک کمی نہیں ہو سکی۔شوگر ملوں کے مالکان کا اِس سلسلے میں اپنا ہی موقف ہے اُن کی سنیں تو لگتا ہے کہ حکومت کی کسی کمیٹی یا کمیشن کو چینی کے کاروبار کی سمجھ ہی نہیں، اور نہ ہی اُنہیں یہ پتہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کس چڑیا کا نام ہے۔ شوگر ملوں کے مالکان کہتے ہیں کہ ملیں سال میں نوے یا سو دِنوں کے لئے چلتی ہیں، سال کے باقی مہینے بند رہتی ہیں اِن تین مہینوں میں جو چینی تیار ہوتی ہے اُسے کہیں تو رکھنا ہے، اِس لئے فروخت کے لئے رکھی گئی چینی کو ذخیرہ اندوزی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ملیں جو چینی تیار کرتی ہیں وہ ساری کی ساری کسی جادوئی عمل کے ذریعے چند دِنوں یا ہفتوں میں تو فروخت نہیں ہو سکتی۔ یہ سلسلہ پورا سال جاری رہتا ہے اور ایک تدریجی عمل ہے، پھر مقامی ضرورت سے زیادہ اگر چینی سٹاک میں موجود ہے تو ایکسپورٹ کے سوا اِس کا کیا استعمال ہے؟ شوگر مل مالکان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایکسپورٹ پر جو بھی سبسڈی دی جاتی ہے وہ کسی حکومت کا احسان نہیں وہ اس کاروبار کی ضرورت ہے، وہ سوال کرتے ہیں اگر عالمی منڈی میں چینی کے اتنے نرخ بھی نہ ملیں جن پر چینی تیار ہوئی تو سبسڈی کے سوا کیا طریقہ ہے جسے کام میں لا کر چینی ایکسپورٹ کی جا سکے؟ ہو سکے تو نئی کمیٹیاں اِس سوال کا جواب بھی تلاش کر لیں۔

یہ تو مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں،لیکن ان سب کے نتیجے میں چینی مارکیٹ میں اگر مہنگی ہوتی ہے تو اس کا نشانہ صارفین ہی بنتے ہیں، وہ چینی کسی بھی شکل میں استعمال کریں اُنہیں زائد قیمت ادا کرنی پڑتی ہے،گیارہ لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ ہونے سے پہلے مارکیٹ میں جو نرخ تھے اُن میں یکایک 16روپے فی کلو کا اضافہ ہو گیا اور اب صورت یہ ہے کہ جو چینی سابق دور میں 55روپے میں مل رہی تھی، وہ اب90روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے اور مختلف اقسام کی مٹھائیوں سمیت جہاں استعمال ہوتی ہے سب مہنگی ہو گئی ہیں،بعض مٹھائیوں کے نرخ بارہ پندرہ سو روپے کلو تک چلے گئے ہیں، مارکیٹ کے اِن نرخوں کی براہِ راست زد صارفین پر ہی پڑتی ہے،لیکن حیرت ہے کہ اس جانب کسی کی توجہ نہیں، حالانکہ پہلی رپورٹ آتے ہی قیمت کم ہو جانی چاہئے تھی، کیونکہ یہ تو ثابت ہو چکا تھا کہ قیمت فروخت لاگت سے بہت زیادہ ہے اور منافع کی غیر معمولی شرح پر فروخت ہو رہی ہے جس کا فائدہ درجہ بدرجہ مل مالکان تک پہنچتا ہے،لیکن حیران کن بات ہے کہ چینی کی قیمتیں کم کرنا ترجیحات میں بہت نیچے ہے، اولین ترجیح یہ ہے کہ میڈیا پر یہ ثابت کیا جائے کہ ماضی کی حکومتوں نے بہت زیادہ سبسڈی دی موجودہ حکومت نے کوئی سبسڈی نہیں دی، دلائل کے اس ریلے میں پنجاب حکومت کی تین ارب کی سبسڈی کا ذکر یوں گول کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی رقم ہی نہ ہو اور یہ فیصلہ یوں ہی چلتے چلاتے ہو گیا ہو اور کوئی بھی اس کا ذمہ دار نہیں، ان ساری کٹ حجتیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ مہنگی چینی کی طرف کسی کی نظر نہیں، حالانکہ فوری طور پر قیمتیں کم کرنا ضروری تھا،لیکن تادمِ تحریر ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ سب سے پہلے آٹا اور چینی سستی کرے۔ ”مافیاز“ کے خلاف اس نے جو اقدامات بھی سوچ رکھے ہیں وہ بعد میں ہوتے رہیں گے۔ پہلا کام پہلے ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -