مودی حکومت، پاک بھارت کشیدگی بڑھا رہی ہے

مودی حکومت، پاک بھارت کشیدگی بڑھا رہی ہے

  

بھارتی حکومت کی طرف سے ملک سے نکال دیئے جانے والے دونوں پاکستانی سفارت کار عابد حسین اور طاہر خان اپنے اہل و عیال سمیت واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے۔ بھارتی حکومت کے اہل کاروں نے ہر دو سفارت کاروں کو نہ صرف گرفتار کرکے زیر حراست رکھا، بلکہ ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ پاکستان کے ہائی کمشنر اور دفتر خارجہ کے احتجاج پر ان کو رہا کرکے ناپسندیدہ قرار دے دیا گیا اور ہدایت کی گئی تھی کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر بھارت چھوڑ دیں، اس بنا پر یہ دونوں سفارت کار واپس پہنچے ہیں۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے اس پر سخت احتجاج کیا اور پاکستانی سفارت کاروں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنانے کو جنیوا ڈیکلئریشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، دفتر خارجہ کی طرف سے جوابی کارروائی کا علم نہیں ہوا، بھارت کی مودی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کرتی چلی آرہی ہے،جو دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات اور بھی خراب کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی کارروائیوں اور کشمیری مسلمانوں پر مسلسل ظلم کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور نوے لاکھ کشمیری دس ماہ سے لاک ڈاؤن کی کیفیت میں ہیں، اس عرصہ میں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں کشمیریوں کو شہید کرنے کے علاوہ ان کا دانہ پانی اور مواصلات کے ذرائع بند کئے ہوئے ہیں، ابھی گزشتہ ماہ ہی کے دوران 15کشمیری نوجوان شہید کئے گئے۔ مودی حکومت ان مظالم کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر بھی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اب سفارت کاروں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے خلاف بے بنیاد الزام لگا کر کشیدگی کو مزید بڑھایا گیا ہے، پاکستان کی طرف سے ان تمام کارروائیوں کا جواب سفارتی آداب کے ساتھ دیا جاتا ہے اور اب بھی احتجاج کیا اور عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے حق ِ خود ارادیت کی جدوجہد میں سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رہے گی۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کنٹرول لائن پر اگلے مورچوں کے دورے کے دوران یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ پاک فوج بھارت کی ہر حرکت کا جواب دینے اور ملکی دفاع کے لئے ہر دم چوکس اور تیار ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ نہ صرف عالمی برادری، بلکہ مسلم اُمہ بھی کشمیریوں کے خلاف مظالم پر آواز بلند نہیں کررہی، جبکہ مودی حکومت کورونا وبا کے باوجود مظالم بڑھاتی جا رہی ہے۔ عالمی برادری پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی ان سنگین تر خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اسلامی کانفرنس کو عملی اقدامات کرنا چاہئیں کہ بھارت اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -