مہذب قوم اور نسلی فسادات

مہذب قوم اور نسلی فسادات
مہذب قوم اور نسلی فسادات

  

اگر امریکہ میں نسلی فسادات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں تاریخ کی ورک گردانی سے معلوم ہو تا ہے کہ نسلی فسادات امریکہ کے لیے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ امریکی حکومت، امریکی پولیس اور افریقین امریکن اس صورت حال سے کئی بار نبرد آزما ہو چکے ہیں۔ دراصل یہ تو معاشرتی اُصول ہے کہ اگر ظلم کا راستہ پہلی مرتبہ نہ روکا جائے تو ایک دو واقعات کے بعد یہ ظلم اس معاشرے میں ایک روائیت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ ظالم کو حوصلہ اور مظلوم کو ظلم سہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ میری نظر سے چند روز قبل فلپ کو ٹلر کی ایک کتاب گزری کہ جس میں انہوں نے بڑی دلچسپ بات لکھی تھی کہ“انسانوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے“ شاید اسی لئے امریکن افریقن اس ظلم کو بار بار سہتے اور برداشت کرتے ہیں اور بار بار اس کو بھول جاتے ہیں۔ اگر اس ظلم کو پہلی دفعہ ہی پوری مزاحمت سے روکا ہوتا تو شاید امریکن افریقن کو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اوراس طرح ان کو ظلم کی چکی تلے پیسا نہ جاتا اب تو شاید اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اُکھڑنے میں شاید کئی اور صدیاں درکار ہوں گی۔ بہرحال مجھے تو امریکی معاشرے میں اس کا جلد اختتام نظر نہیں آ رہا،بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ یہ نسل پرستی شاید کبھی ختم بھی نہ ہو اس کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجہ انسانوں کی جبلت میں نسل پرستی کا شامل ہونا ہے، چونکہ ہر شخص اگر بس میں ہو تو اپنی نسل اور قوم کو ہر معاملے میں اہمیت دینے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔

اس مشکل سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ جو دُنیا کو اسلام نے سکھایا ہے اور وہ ہے کہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل ہے اور اگر فوقیت ہے تو صرف اْس کو کہ جو تقویٰ اختیار کرئے۔اسلام کی ان تعلیمات کا عملی نمونہ خدا کے رسول صلعم نے حضرت بلال حبشی ؓسے والہانہ محبت اور حُسن ِسلوک کی صورت میں دنیا کو سیکھایا۔ بہر کیف امریکہ میں نسل پرستی کا آغاز تو صدیوں پہلے ہو چکا تھا کہ جب ہم امریکی افریقن لیڈر کونٹی کینٹی کی نسلی تعصب کے خلاف جدوجہد اور ان کی قربانیوں کی عملی تصویر دیکھتے ہیں، مگر اس کا دوسرا مرحلہ ماڈرن دور سے تھوڑا سا کچھ پہلے 1824ء اور پھر 1831ء میں شروع ہوا کہ جب ہارڈ سکریبل اینڈ سنو ٹاون کے علاقوں میں سیاہ فام لوگوں کے گھروں کو ظالمانہ طور پر مسمار کر دیا گیا جس کے بعد جو تحریک برپا ہوئی اس سے بہت سی عمارتوں کو نقصان ہوا اور بہت سے افراد زخمی اور قید ہوئے۔اس کے بعد تقریباً ہر سال دو سال کے بعد اسی طرح کے واقعات ایک تسلسل سے دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔

اب تک تقریباً 159 سے زائد سیاہ فام کی نسلی تعصب کے خلاف قومی سطح پر تحریکیں قلم بند ہوچکی ہیں ان احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد جیلوں میں ڈالے گئے اور ہزاروں افراد موت کی وادی میں جا پہنچے۔ ان 159 سیاہ فام تحریکوں میں ہیومن را ئٹس اور نسلی تعصب کے خاتمے کی بات کرنے والے بہت سے لیڈرز ہیں، مگر چند سیاہ فام راہنماؤں کا نام واقعی قابل ذکر ہے کہ جن کا ذکر آگے چل کر کریں گئے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان افراد کو بھی گزشتہ دو تین صدیوں میں چن چن کر یا تو قتل کر دیا کیا گیا یا پھر خود کشی پر مجبور کر دیا گیا، جس کی وجہ سے سیاہ فام کمیونٹی امریکہ بھر میں آج تک حقیقی لیڈرشپ سے محروم رہی ہے۔ جب بھی امریکہ میں سیاہ فام افراد کی طرف سے مساوی حقوق کی آواز بلند ہوئی اْس نے موب یا رائیٹس کی شکل اختیار کر لی، کیونکہ نہ تو ان کی رہنمائی کرنے کے لئے کوئی جامع نصب العین موجود ہوتا ہے نہ کوئی جامع مقصد اور نہ ہی کو ئی درست سمت مقرر کی جاتی ہے اس کے برعکس صرف غم وغصہ نظر آتا ہے، جس کے نتیجے میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ مریکہ کا مقدر بن جاتا ہے۔

اسی سلسلے کی ایک اور کڑی چند دن قبل منی پولس میں دیکھنے کو ملی کہ جب نسلی فسادات کا سلسلہ امریکہ میں پوری شدت سے دوبارہ شروع ہو گیا جب جارج فلائدْ کو پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا،جس کے نتیجے میں ابھی تک امریکہ کے حالات قابو میں نہیں ہیں ملک کی 24 ریاستوں میں سپیشل فورسز کو مدد کے لئے بلایا جا چکا ہے ہر طرف جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری ہے دو سو سے زائد عمارتوں کو نظر آتش کیا جا چکا ہے اور تین سو سے زائد پولیس کی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگائی جا چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس پر ملک کے صدر ٹرمپ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں موصوف کوئی فہم وتدبر سے کام لیتے تو بہتر ہوتا، مگر حالیہ بیان میں بہت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جہاں رائیٹس ہو ں گے وہاں حکومت کی طرف سے بْلٹ بھی ہو گی اس بیان کے بعد دُنیا بھر میں مہذب قوم ہونے کا دعویٰ کرنے والی امریکی حکومت کی کلی کھل کر رہ گئی ہے اس حکومتی تھپکی کے بعد پولیس عوام کے ساتھ اس طرح معاملہ کر رہی ہے کہ جیسے کسی دشمن قوم کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چشم فلک نے وہ واقعات بھی دیکھے کہ جس میں پولیس امریکی افریقن خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹ رہی ہے اور یہ پولیس کا ایک بھیا نک ترین چہرہ تھا۔

خیر بات ہو رہی تھی ان قابل ذکر شخصیات کی کہ جنہوں نے امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف آواز حق بلند کی ان میں میلکم ایکس شامل ہیں کہ جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا انہوں نے اسلام کو دنیا کا واحد مذہب قرار دیا کہ جو دُنیا بھر کے انسانوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھنے کی تلقین کرتا ہے انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر نسلی فسادات اور تعصب کا کوئی حل ہے تو صرف اسلام میں۔ اس نے مزید لکھا کہ مسلمانوں سے زیادہ بھائی چارہ، محبت اور مساوی حقوق انہوں نے کہیں اور نہیں دیکھے۔ اسی طرح ایک اور قد آور شخصیت مارٹن لوتھرکنگ کی تھی کہ جس نے امریکی تعصب پسندی کے خلاف آواز بلند کی اور امریکہ میں مساوی حقوق کی بات کی،سیاہ فام امریکی افریقن کو ایک نسل کی بجائے ایک قوم بنانے کی بات کی، انہوں نے امریکہ کی تاریخ میں سیاہ فام ہونے کے باوجود سب سے زیادہ عوامی پزیرائی اور محبتیں سمیٹیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت جلد امریکہ کی قومی اسمبلی میں پہنچ گئے اور 1955ء میں منٹگمری بس بائی کاٹ سے عوامی حقوق کی تحریک کا آغاز کیا اور پھر 1962ء میں یہ سلسلہ نسلی تعصب کے خاتمے کی تحریک شکل اختیار کر گیا اور پھر یہاں تک کہ مارٹن لوتھر کنگ نے چند سالوں میں ہی اس تحریک کو ملکی تحریک بنا کر کھڑا کر دیا یہاں تک کہ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کا قومی شعبہ زندگی غریب لوگوں کی تحریک کے نام سے منصوب کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ 1964ء میں انہوں نے نوبل پیس پرائس بھی جیت لیا اور ان کو صدارتی ایواڑ سے بھی نوازا گیا۔مگر ایک سازش نے ان کو صرف 39 سال کی عمر میں ہی جہانِ فانی سے کوچ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ما رٹن لوتھر نے زندگی کی چالیس بہاریں بھی نہ دیکھیں، مگر دنیا میں نسلی تعصب کے خاتمے کے لئے اس قدر کام کیا کہ ان کوامریکہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں امریکہ میں موجود تمام قوموں کو مل کر اس نسلی تعصب کے خاتمے کے لئے عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں ابھی تک سب سے گراں قدر خدمات امریکہ میں موجود پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہیں، جن میں امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ اور ڈی ایف ڈبلیو مسلم کمیونٹی کے صدر مبشر وڑائچ نے سیاہ فام افراد اور پولیس کے درمیان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو بہترین تجاویز پیش کی ہیں، جن میں انہوں نے امریکہ میں موجود تمام افراد کو نسلی تعصب سے پاک مساوی حقوق دینے پر زور دیا ہے شاید کہ ان کی بات امریکی صدر کی سمجھ میں بھی آ جائے۔ ڈی ایف ڈبلیو نے چند شہروں سے کام کا آغاز کرتے ہوئے پولیس اور عوامی سطح پر روابط کا سلسلہ بڑھا کر عملی فوائد حاصل کرنا شروع کر دئیے ہیں اس وقت امریکی شہر ایولیس ان چند شہروں میں ایک ہے کہ جہاں ابھی تک پولیس اور سیاہ فام افراد کے درمیان جھگڑے کا ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا یہاں تک کہ نہ کوئی پتھراؤ نہ جلاؤ گھیراؤ اور نہ ہی کسی قسم کے نسلی فسادات کہ جو پاکستانی مسلمانوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو واقعتاقابل تعریف ہے، مگر وقت آ چکا کہ اب امریکہ کو اپنا قبلہ درست کرے جس کی اشد ضرورت ہے تاکہ امریکہ کی اکانومی کورونا کے جھٹکوں کے ساتھ ساتھ نسلی فسادات کی نظر نہ ہو جائے۔

حضرت علیؓ کرم اللہ کا وہ قول بہت یاد آرہا ہے کہ ”کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، مگر جبر کا نظام قائم نہیں رہ سکتا“ اگر امریکہ افغانستان کی شکست،کورونا وائرس کی مشکلات اور اب نسلی فسادات کے اشاروں کے بعد بھی نہیں سمجھ رہا تو میرا خیال ہے کہ اس جبر کے نظام کے دن گنے جا چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -