کورونا وائرس: بہت ہی ناقابلِ یقین صورتِ حال

کورونا وائرس: بہت ہی ناقابلِ یقین صورتِ حال
کورونا وائرس: بہت ہی ناقابلِ یقین صورتِ حال

  

کورونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس کا وہم و گمان بھی روئے زمین پر کسی فرد و بشر کو5،6ماہ پہلے نہیں تھا۔ اچانک معلوم ہوا چین کے ایک بڑے شہر ووہان (Wuhan) میں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ ہم نے سمجھا یہ کوئی مقامی وبا ہو گی لیکن جلد ہی خبریں بریک ہونے لگیں کہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار بے حد تیز ہے۔ دوسری اچانک خبر یہ آئی کہ ایران میں لوگ مرنے لگے ہیں۔ دن بدن ان کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ پھر خیال آیا کہ خیر ہے، ترقی یافتہ ممالک میں اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ لیکن جلد ہی نیویارک میں کورونا سے ہونے والی اموات کے ڈھیر لگ گئے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی یورپ کے تمام بڑے بڑے شہر اس کی ایسی گرفت میں آئے کہ خبروں پر سے یقین اٹھنے لگا۔ پاکستان اور انڈیا مقابلتاً زمانی اعتبار سے بعد میں اس وبا کا شکار ہوئے۔ وزیراعظم پاکستان دنیا کے ان پہلے رہنماؤں میں شمار کئے جا سکتے ہیں جنہوں نے کورونا کو ایک حقیقت جانا۔ پورے ملک کو خبردار کیا۔ لاک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ لیکن پھر جلد ہی پاکستان کی غرباء برادری کا احساس ان کو ستانے لگا۔ ”احساس“ پروگرام بنایا اور اربوں روپے نادار لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ لیکن جلد ہی ان کو یہ احساس بھی ہو گیا کہ کورونا کوئی عارضی عارضہ نہیں بلکہ مہینوں اور سالوں تک چلنے والی وبا ہے۔ وسط مارچ سے لے کر اب تک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو اس وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے…… کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیسی وبا ہے!

میری ایک عزیزہ کو اوائل مئی میں ہلکا سا بخار ہوا۔ اس کا خیال فوراً کورونا پازیٹو کی طرف گیا۔ یہ کھاتا پیتا گھرانہ ہے۔ نوکر چاکر اور اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔8 مئی سے قرنطینہ میں ہے۔ دو بالغ اور جوان بچے ہیں۔ عمر 45برس ہے۔کوئی ایسا مرض ان کو لاحق نہیں جو اس وائرس کا مرغوب ٹارگٹ گردانا جاتا ہے۔ نہ شوگر ہے، نہ ہائی (یا Low) بلڈ پریشر ہے، نہ کبھی دل کا عارضہ لاحق ہوا۔ نہ کبھی سانس کی تکلیف ہوئی۔ لیکن آج 24واں دن ہے بخار کی رینج 98.6 سے لے کر 99.4تک رہتی ہے۔ ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ Ponadolکی گولی لے لو، کوئی خاص باعث تشویش بات نہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اگر کورونا ہو تو بھی 14دن کے بعد یا تو تیز بخار ہو جاتا ہے اور مریض وینٹی لیٹر کی طرف چلا جاتا ہے یا پھر تندرست ہو جاتا ہے۔ اس وبا کا شکار ہونے والوں میں تندرست ہو جانے کی شرح بھی بہت حوصلہ افزا ہے۔ 24گھنٹوں میں پینا ڈول کی گولی کھانے کے بعد 4،5گھنٹوں کے لئے بخار نارمل ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد دوبارہ 98.8 ہو جاتا ہے۔ میں یہ تفصیل اس لئے قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اس عزیزہ کی طرح کے سینکڑوں مریض عین مین انہی علامات کا شکار ہیں۔ یعنی نہ مرض زیادہ بڑھ رہا ہے اور نہ کلّی صحت نصیب ہو رہی ہے۔ اس کے رشتہ داروں نے کہا کہ ٹیسٹ کروا لو لیکن وہ کہتی ہیں کہ اگر Positive آ گیا تو ہسپتال میں داخل ہونے کا کہا جائے گا۔ یا گھر پر قرنطینہ کرنے کا مشورہ دیا جائے گا اور وہ جیسا کہ اوپر کہا گیا، 23،24دنوں سے قرنطینہ میں ہیں …… کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیسی وبا ہے!

ایک اور واقعہ کا تعلق بھی ذاتیات سے ہے۔ میرے باورچی کا چچا مئی کے پہلے ہفتے میں فوت ہو گیا۔ سپاہی عارف 2005ء میں میرے بیٹے کی یونٹ سے ریٹائر ہوا اور میرے پاس آ گیا۔ اسے کھانا بنانے کا شوق تھا، خواتینِ خانہ نے بھی اس کی مدد کی اور وہ دو تین برسوں میں اس فن میں ایسا طاق ہوا کہ ہم جس دوست کی بھی دعوت کرتے وہ عارف کے بنائے ہوئے کھانوں کی تعریف کرتا۔ اس کے چچا کی فوتیدگی پر جب اس نے چھٹی مانگی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ جب وہ واپس آئے تو لاہور میں اپنے کسی عزیز کے گھر قرنطینہ میں رہے کیونکہ اس کا گاؤں ضلع میانوالی کے ایک دور افتادہ علاقے میں واقع ہے۔ کورونا کا زور تھا (اور آج بھی ہے) اس لئے ہم نے عارف کو کہا کہ فوتیدگی کے موقعہ پر چونکہ بہت سے رشتہ داروں سے ملو گے اس لئے ممکن ہے کورونا جراثیم ساتھ لاؤ۔ہم یہ رسک نہیں لے سکتے۔ تم بے شک جاؤ لیکن واپسی پر دو ہفتوں کے لئے اپنے کسی رشتہ دار کے گھر میں رہو تاکہ پتہ چل سکے کہ تم پر کورونا کا اٹیک ہوا ہے یا نہیں۔ اس نے ہماری شرط کو عمل کے ترازو میں تولا اور فیصلہ کیا کہ وہ رخصت پر نہیں جائے گا اور گاؤں میں اپنے بیٹے کو کہے گا کہ اس کی نمائندگی کرے اور عزیز و اقربا کو یہ بھی بتا دے کہ اس کے نہ آنے کی وجہ کیا تھی۔ لیکن پچھلے دنوں اس نے یہ بات بتا کر ہم سب کو پریشان کر دیا کہ اس کے چچا کی فوتیدگی پر پنجاب اور کے پی سے بہت سے لوگ آئے۔ دس دن تک گاؤں (کالاباغ) میں رہے اور دسواں کرکے اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔ لاہور سے بھی 5مرد اور تین خواتین رشتے دار گئی تھیں۔ ان میں سے کسی کو بھی کورونا نہیں ہوا۔ سب تندرست و توانا پھر رہے ہیں …… کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیسی وبا ہے۔

اب ایک اور عزیز کا واقعہ سنانے لگا ہوں۔ وہ اپریل کے وسط میں شکاگو (امریکہ) سے واپس آیا تو اگلے ہفتے انہی علامات سے دوچار ہوا جو کورونا وائرس کے اٹیک پر ظاہر ہوتی ہیں …… یعنی گلے میں خراش، خشک کھانسی، چھینکیں اور ہلکا بخار…… چغتائی لیب سے ٹیسٹ کروایا تو Positive تھا۔ ڈاکٹر نے وہی ادویات تجویز کیں جن پر ایک کالم لکھ چکا ہوں۔ اس نے گھر میں اپنے آپ کو آئسولیٹ کیا۔ بیس دن تک قرنطینہ میں رہا۔ ہلکا بخار کبھی ہوتا تھا اور کبھی اتر جاتا تھا۔ یہ آنکھ مچولی 13،14 دن تک جاری رہی اور پھر 15ویں روز بخار اتر گیا۔ اس کے بعد بھی 5دن تک وہ کہیں باہر نہیں گیا۔ اب وہ ماشاء اللہ صحت مند ہے اور اپنے کاروبار پر آتا جاتا ہے۔چونکہ گھر میں آئسولیشن پر سختی سے عمل کیا۔ خدا جانے اس میں کوئی حقیقت ہے یا نہیں لیکن سنا مکّی کا قہوہ اس نے کبھی ناغہ نہیں کیا اور ہمیں بھی تاکید کی ہے کہ وہ ہفتے میں تین دن یہ قہوہ ضرور استعمال کریں۔ بھلے کورونا ہو یا نہ ہو۔ وہ عسکری 4(لاہور) میں رہتا ہے اور میں عسکری ون(لاہور) میں ہوں۔ ابھی تک اس سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ کہہ رہا تھا کہ تین دنوں بعد آؤں گا……

میں خود چونکہ عمر کی اس بریکٹ میں ہوں کہ جس میں تاکید کی جاتی ہے کہ تین باتوں کا خیال رکھیں۔ ایک بلا ضرورت باہر نہ جائیں …… دوسرے ماسک استعمال کریں اور تیسرے ہر دو تین گھنٹوں بعد لائف بوائے (کاربالک) سے 20سیکنڈز تک ہاتھ دھوئیں۔ گزشتہ تین ماہ سے یہ عمل جاری ہے اور اب شائد عادت ہو گئی ہے کہ ماسک نہ پہننے سے الجھن ہوتی ہے، ہر دو تین گھنٹوں کے بعد قدم خود بخود واش روم کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ باہر کے سارے کام بچوں کے ذمے ہیں۔ میں کبھی خواہش کروں بھی کہ ایک چکر (گاڑی پر) شہر یا کنٹونمنٹ کا لگا دیں تو سختی سے انکار ہو جاتا ہے کہ اگر جانا ہے تو اپنے رسک پر جائیں، ہم گھر کے دروازوں کو لاک کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہر قسم کا کھانا کھا رہا ہوں۔ سبزیاں، دالیں، چاول، گوشت، کڑھی، بریانی، سویٹ ڈش، بازار میں دستیاب سارے پھل جن میں سیب، خربوزہ، آم، تربوز، امرود اور سٹرابری وغیرہ شامل ہیں، سب گھر میں آتی ہیں اور کسی سے کوئی پرہیز نہیں۔ ہر روز غسل کرنے کی عادت برسوں سے ہے، ٹی وی لاؤنج میں واک کی شرط پوری کر لیتا ہوں۔ بچے (نواسہ اور نواسی) اور بیٹی میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہر دوسرے دن بستر کی چادریں اور سب گھروالوں کے لباس تبدیل ہو جاتے ہیں۔

صفائی ستھرائی کا پہلے بھی خیال رکھا جاتا تھا اور اب بھی وہی معمول ہے۔ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ کورونا وائرس واقعی ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ میڈیا میں بتایا جاتا ہے یا یہ سب ”ڈرامہ“ ہے جیسا کہ میرے کک (Cook) کے گاؤں والوں کا استدلال ہے…… میں سخت کنفیوژ ہوں کہ کون سی بات کا یقین کروں اور کس پر اعتبار نہ کروں۔

اور اب تو حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں، شادی ہالوں، ریستورانوں اور اسی طرح کے دوسرے چند پرہجوم مقامات کو چھوڑ کر باقی سب کو کھول دیا ہے۔ سندھ میں انٹراسٹی ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔ اگر لوگ اپنی مرضی سے موت کے منہ میں جانا چاہتے ہیں تو ان کو کون روکے۔ تاہم گورکن، غسال اور تجہیز و تدفین کا بندوبست تیار رکھیں۔ ایدھی ایمبولینسوں کے بیڑے کو سٹینڈ ٹو کر دیں …… اگر کوئی شخص ماسک نہیں پہنتا، سماجی فاصلے کی پاسداری نہیں کرتا اور ہاتھوں کو صابن سے نہیں دھوتا تو اس کے پیچھے پولیس والے تو نہیں بھیجے جا سکتے۔

پاکستان کی وہ صورتِ حال جو چند دنوں بعد نظر آنے والی ہے، اس کی وارننگ نہ دیں۔ حکومت اور میڈیا نے یہ سب کچھ کرکے دیکھ لیا ہے۔ حکومت احساس پروگراموں کے توسط سے 12ہزار روپے فی کس تقسیم کرنے کا مزید جنجال اپنے گلے میں نہیں ڈال سکتی۔ کاروبار کھول دیئے ہیں تو اب انتظار کریں کہ اللہ ان میں برکت ڈالتا ہے یا برکت اٹھا لیتا ہے۔ یہ ایک طرح کی ناقابلِ یقین صورتِ حال ہے۔ اس کے لئے میں اور آپ خدا کے حضور سربسجود ہو کر پاکستان اور پاکستانیوں کے مستقبل اور ان کے جان و مال کے لئے دعا ہی کرسکتے ہیں جو صدقِ دل سے کر رہے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -