چین اور بھارت جنگ کے دہانے پر

چین اور بھارت جنگ کے دہانے پر
چین اور بھارت جنگ کے دہانے پر

  

چین اور بھارت نے سطح سمندر سے 14000فٹ کی بلندی پر آپس میں سینگھ اڑا رکھے ہیں، جو ایک بڑے فوجی تنازعے کوجنم دے سکتا ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان سرحد 3400 کلومیٹر طویل ہے،اسے ایل اے سی (لائن آف ایکچوول کنٹرول) کہا جاتا ہے۔ ایل اے سی کی تاریخ انگریزوں کے نوآبادیاتی دور سے شروع ہوتی ہے جب کنگ خاندان نے چین اور ہندوستانی خطے کے مابین ایک متنازعہ علاقہ پر بات چیت کی۔ یہ سرحدی تنازعہ آج تک حل طلب ہے۔ بار بار سفارتی ناکامیوں اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پینگونگ جھیل کے کنارے لداخ کے علاقے میں اختلافی تصادم معمول کی بات بن چکاہے۔لیکن2020ماضی سے کچھ مختلف ثابت ہوا ہے۔ 5 مئی کو دونوں ممالک کی فوجوں کے مابین گرما گرمی شدت اختیار کر گئی۔ شدید لڑائی جھگڑے کے نتیجے میں فوجیوں کے زخمی ہونے سے پیدا ہونے والا تناؤ 26 دن گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔ کیا یہ تناؤ جنگ کا شاخسانہ ہو گا؟ اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ اور اب یہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پوری دنیا میں فوجی اور معاشی حکمت عملی بنانے والوں کے ذہنوں میں کھلبلی مچائے ہوئے ہیں۔ چین اور ہندوستان کے مابین جنگ کورونا وائرس سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

چین اور ہندوستان کے درمیان 3400 کلومیٹر لمبی سہ رخی سرحد تین ممالک چین،بھارت اور بھوٹان کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس تنازعہ میں بھارت بھوٹان کا حامی ہے۔ چین اور ہندوستان دونوں دیو جن ہیں جو دنیا بھر کی انسانی آبادی کا ایک تہائی ہیں۔ دونوں ہی ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن چین دفاعی بجٹ اور فوجی ٹیکنالوجی میں کہیں زیادہ برتر ہے۔ چین کا فوجی بجٹ ہندوستان سے چار گنا زیادہ ہے۔ 1962 میں ان دونوں کے مابین ایک جنگ ہوئی جس کا خاتمہ ہندوستان کی ذلت اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر ہوا۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ اگر اب جنگ شروع ہوجاتی ہے تو نتیجہ وہی ہو گا۔ ایسا ہندوستان کے لئے تباہ کن ہوگا لیکن اس کا فائدہ چین کے معاشی مخالفین کو پہنچے گا جو اس کی توجہ معاشی سرگرمیوں سے ہٹا دیں گے۔ ژن جیانگ، ہانگ کانگ کے مسائل اور امریکہ کے ساتھ جاری سرد جنگ میں ہندوستان کے ساتھ محاذ آرائی چین کی خواہش کبھی نہیں ہو سکتی۔

بظاہرایسا لگتا ہے جیسے سرحدی تنازعہ فوجی تصادم اور تناؤ کا نتیجہ ہے لیکن سفارتکاری کے پیچیدہ معاملات سے اس کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اگست2019 میں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کیا اور علاقے میں دوررس نتائج کے فوجی منصوبوں کی تعمیر شروع کردی۔

چین نے مشاورت کے بغیر کی جانے والی اِن فوجی تنصیبات، رابطہ سڑکوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر کو خطرے کی گھنٹی جانا۔ چین کی سرحدوں اور جغرافیائی حدود کی حفاظت پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) کابنیادی منشور ہے۔ہندوستان کے سرکاری میڈیا اور سیاسی حلقوں نے فوجی آپریشن کرنے اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا واویلہ کیا۔ چین نے اس صورتحال کو اپنے اہم اتحادی پاکستان کے لیے نا صرف خطرہ سمجھا بلکہ اسے ون بیلٹ ون روڈ کو سبو تاژ کرنے کے سازش گردانا۔ چین اپنی مستقبل کی ترقی اورخوشحالی کے لیے بین الاقوامی تجارت میں گوادر کی شکل میں پاکستان پر انحصار کر رہا ہے۔ ''سی پیک'' یا ''او بور'' کو ناکام بنانے کا کوئی بھی منصوبہ چینی مقاصد کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ لداخ کے خطے میں فوجی تناؤ ہندوستانی فوج کی توجہ آزادکشمیر،ڈولکھم مرتفع اور پینگونگ جھیل کے علاقوں سے ہٹا سکتا ہے۔ بیس روزسے زائد کے فوجی تناؤ نے ہندوستان پر اپنی انٹیلی جنس اور فوجی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت کو واضح کردیا ہے۔ متنازعہ علاقے کی حیثیت میں تبدیلی کے اثرات امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف سی پیک اور او بور نے چین کی رسائی بحیرہِ عرب تک ممکن بنا دی ہے، جوچین اور پاکستان کے لیے لامحدود امکانات کی حامل ہو گی۔

5 مئی کے واقعے کے بعد چینی فوج 50 کلومیٹر سے زیادہ کے علاقے کو کنٹرول کر چکی ہے جو اس سے پہلے بھارت کے زیرِ تسلط تھا۔ دونوں فوجیں متحرک ہو رہی ہیں۔ چین کی جانب سے 2500 سے زیادہ فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ بھاری فوجی سازوسامان، توپخانے اور نگرانی کے آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی فوجی تشکیل کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی۔ پچھلے سالوں میں پیش آنے والے تنازعات اور تصادم کو مقامی فوجی کمانڈروں کے ذریعے حل کر لیا جاتا تھالیکن اس بار چینی اعلیٰ فوجی حکام اس بارے میں خاصے جارح مزاج دکھائی دے رہے ہیں۔

چین اس وقت متعدد محاذوں پر نبرد آزماہے۔ ہانگ کانگ میں بدامنی، کرونا کی وبا سے معاشی سست روی، امریکہ کے ساتھ سرد جنگ اور اب 14000فٹ کی بلندی پر یہ فوجی تناؤ۔ ایسا لگتا ہے کہ چین ہر طرح کے حالات کے لئے تیار ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مودی کی فاشسٹ قیادت میں بھارت کسی طرح کی بھی جارحیت کو دعوت دینے کی حماقت کر سکتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت جب سرد جنگ اپنے جوبن پر ہے بھارت امریکی حکومت کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتا ہے یا غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر مؤخر الذکر کی بات کی جائے تو اگر بھارت چین کے خلاف کسی بھی امریکی سرگرمی میں حصہ دار بنتا ہے تو چین بھارت کو ایک سرحدی تنازعے میں مبتلا کرکے اس کی معیشت کو اس حد تک کمزور کردے گا کہ اس سے عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔۔ چین کیخلاف امریکہ کا ساتھ دینے کی صورت میں ہندوستان اور چین کے مابین تجارتی تعلقات منقطع ہو سکتے ہیں جو کورونا کی وجہ سے پہلے سے ہچکولے کھاتی معیشت کے لئے سنگین دھچکا ہوگا۔ اگرچہ یہ فوجی تناؤ ہندوستان ہی کا پیدا کردہ ہے لیکن چین اس کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ایل اے سی ایک مبہم اور غیر واضح ضوابط کی حامل سرحد ہے۔۔ اگر سفارتی ذرائع ناکام ہوجاتے ہیں توفوجی ٹکراؤ خطے اورہندوستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ اگر چین پینگونگ جھیل کے کنارے اس خطے میں داخل ہوتا ہے اور لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے منسلک کرنے کے لئے ہندوستان کی تعمیر کردہ سڑکوں پر قبضہ کرلیتا ہے تو خطے میں ہندوستانی فوج کی گرفت انتہائی کمزور پڑجائے گی۔ دونوں ممالک کے مفادات داؤ پہ لگے ہیں۔ پاکستان سی پیک اور او بور کے تحت ہونے والے ہر نئے اقدام کے ساتھ چین کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ بھارت امریکہ کا فوجی اتحادی ثابت ہو رہا ہے، سپر پاورز کی سرد جنگ خطرناک لڑائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ چین اس وقت دفاعی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے لیکن یقینی طور پر وہ اس بار 1962کے مقابلے میں بہترفوجی استعداد،ہتھیاروں اور جنگی حکمتِ عملی سے اس لڑائی کو شروع کرنے اور جیتنے کی بھرپور طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بلیم گیم شروع کر رکھی ہے اور چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ڈبلیو ایچ اواور اقوامِ متحدہ کو یرغمال بنا رکھا ہے، ہانگ کانگ اور تائیوان میں واضح طور پر چینی مفادات کی پامالی کی جا رہی ہے، بیجنگ کے بارے میں بین الاقوامی رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، شاید لداخ کے ذریعے ہی چینی حکومت کواپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گاجس کا اظہار ابھی تک اس نے دنیا کے سامنے نہیں کیا۔

(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

مزید :

رائے -کالم -