شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور، نیب تا حکم ثانی گرفتار نہ کرے، لاہور ہائیکورٹ، نیب لاہور نے 9جون کو پھر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور، نیب تا حکم ثانی گرفتار نہ کرے، لاہور ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی،جنرل رپورٹر)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی آمدنی سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو تاحکم ثانی ان کی گرفتاری سے روک دیا، فاضل بنچ نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 17جون کی تاریخ مقررکی ہے جبکہ نیب سے باضابطہ جواب بھی طلب کرلیاہے۔عدالت نے میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے قراردیا کہ نیب نے 28مئی کومیاں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے لیکن انہیں گرفتارکرنے کی بجائے 2جون کے لئے طلبی کے نوٹس جاری کردیئے،بادی النظر میں اس کا مطلب ہے کہ نیب میاں شہباز شریف کو گرفتارنہیں کرناچاہتا،میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس محمد طارق عباسی نے میاں شہباز شریف کے وکلاء سے استفسار کیا کہ درخواست گزار شہباز شریف کہاں ہیں؟ان کے وکیل نے بتایا کہ میاں شہباز شریف کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور وہ کینسر کے مریض ہیں،گرفتاری کے خدشہ کے حوالے سے عدالتی سوال پرمیاں شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب نے جو جو ریکارڈ مانگا وہ دے دیا گیاپھر بھی نیب گرفتاری کے لئے بے تاب ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ میاں شہباز شریف کے خلاف کیس کس مرحلہ پر ہے؟شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ میاں شہباز شریف کے خلاف کیس انوسٹی گیشن کی سٹیج پر ہے،اس پر عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر فیصل بخاری کو روسٹرم پر طلب کرکے کہا کہ کیا آپ خاموش تماشائی رہیں گے یا اس کیس میں دلائل بھی دیں گے، نیب کے پراسکیوٹر نے کہا کہ عدالت جب حکم کرے گی ہم دلائل دے دیں گے، جسٹس طارق عباسی کے استفسار پر فیصل بخاری نے کہا کہ نیب ضمانت کی مخالفت کرے گا،عدالت نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ کیا نیب نے درخواست گزار کے وارنٹ گرفتاری کئے ہوئے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہاجی سر،نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں، عدالت نے کہا نیب نے 2 جون کو طلب کیا ہوا تھا؟ جب 28 مئی کو وارنٹ گرفتاری جاری کئے تو گرفتار کرنے کی بجائے 2جون کو طلب کیوں کیا؟اس کا مطلب ہے نیب ملزم کو گرفتار نہیں کرنا چاہتا، نیب کے وکیل نے کہا کہ جب نیب کے پاس گرفتاری کا مواد آیا تب شہباز شریف کے وارنٹ جاری کئے گئے،میاں شہباز شریف تفتیش میں نیب سے تعاون نہیں کررہے،درخواست گزار شہباز شریف کے وکلاء امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے میاں شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 ء کو صاف پانی کیس میں بلایا اور آشیانہ کیس میں گرفتارکرلیا،بعد میں دوران ریمانڈ رمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا، نیب نے 63 دن کے ریمانڈ کے دوران میاں شہباز شریف سے تفتیش کی،جو سوالات اب پوچھے جارہے ہیں یہ سوالات پہلے بھی پوچھے جاچکے ہیں، میاں شہباز شریف نیب سے مکمل تعاون کررہے ہیں،ان پر عمومی نوعیت کے الزامات ہیں،انہیں سیاسی انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے،فاضل بنچ نے فریقین کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرلی اور انہیں 5لاکھ روپے مالیت کاایک ضمانتی مچلکہ داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 17جون پر ملتوی کردی،کمرہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے راہنماسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال،مریم اورنگ زیب،رانا ثناء اللہ خان،طارق فضل چودھری،رانا ارشد، عظمیٰ بخاری،عمران نذیر اور بلا ل یاسین بھی موجود تھے۔دوسری طرف نیب لاہور نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ایک بار پھر 9 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔شہباز شریف کو نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں طلب کیا ہے۔ اس سے قبل ان کو 2 جون کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوسکے۔دریں اثنا پوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلا وجہ کارروائی نے بے شمار زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ عمران خان نیب کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے لکھا کہ نیب میں کورونا متاثرین کی تعداد کے پیش نظر، عمران نیازی کا واحد مقصد یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر اس شخص کی زندگی خطرے میں ڈالے جو ان کی نااہلی پر بات کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کی بلاوجہ کی کارروائیوں نے بے شمار زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، جن مین ہمارے لیگی سپورٹرز اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ آج میری جماعت کے لیڈرز، ورکرز اور پولیس اہلکار (جو کہ محض اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے) سب ہی کورونا وائرس سے خدانخواستہ متاثر ہو سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض عمران خان کے اندر لگی بغض کی آگ کا شاخسانہ ہے، جس کو وہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے نیب کے ذریعے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

شہباز ضمانت

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ میں میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور ہونے پر کمرہ عدالت میں "شیر شیر "کے نعرے لگ گئے،جس پر عدالت کو وارننگ جاری کرنا پڑگئی،عدالت کے نوٹس لینے پر میاں شہباز شریف کے سینئر وکلاء نے معافی مانگ لی،مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کی تو کمرہ عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے وکلاء اور کارکنوں نے خوشی سے شیر شیر کے نعرے لگادیئے،جس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مسٹرجسٹس طارق عباسی نے میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز سے کہا کہ یہ جو عدالتی تقدس کا خیال نہیں کر رہے ان کوبتا دیں کہ ہم اپنا حکم واپس بھی لے سکتے ہیں، عدالتی نوٹس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے وکلاء اور کارکنوں کو خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کی،اس موقع پر مسلم لیگ (ن) لائیرز فورم کے ایک وکیل نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں ایجنسیوں کے افراد ہیں جو نعرے بازی کر رہے ہیں، جس پر جسٹس طارق عباسی نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں بھی آپ کی پارٹی کے ہی لوگ ہیں، کمرہ عدالت میں نعرے بازی کرنے پر ہم آرڈر میں ایک پیرا بھی لکھوا سکتے ہیں، جس پر میاں شہبا ز شریف کے وکلاء اعظم نذیرتارڑ اور امجد پرویز نے عدالت سے معافی طلب کی اور لیگی وکلاء اور کارکنوں نے خاموشی اختیار کر لی،کیس کی سماعت کی ابتداء پر بھی فاضل بنچ نے ہائی کورٹ کے احاطہ میں لیگی کارکنوں کے نعرے بازی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالتوں کا احترام کیا جاتا ہے، باہرنعرے لگ رہے تھے یہ تو اچھا نہیں ہے، جو باہر ماحول بنا اورنعرے لگ رہے ہیں ہمیں اچھا نہیں لگا،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میاں شہباز شریف نے بھی کارکنوں کونعروں سے روکا ہے۔اس سے قبل لاہورہائی کورٹ میں میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے، لاہورہائی کورٹ کو جانے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں،عدالت عالیہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا چیف جسٹس نے بھی نوٹس لیا،چیف جسٹس کے حکم پر رجسٹرار لاہورہائی کور ٹ نے آئی جی پنجاب کو رکاوٹیں ہٹانے کے لئے ٹیلی فون پر ہدایات جاری کیں،لاہورہائی کورٹ بار کے صدر طاہر نصر اللہ وڑائچ اور سیکرٹری ہارون دوگل نے چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ سے ملاقات کرکے ان سے رکاوٹیں ہٹانے کی درخواست کی تھی،پولیس کی رکاوٹوں کے باعث شاہد خاقان عباسی اوررانا ثناء اللہ خان سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعددرا ہنما ؤں اورکارکنوں کو ہائی کورٹ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لاہورہائی کورٹ کے احاطہ میں کارکنوں کی نعرے بازی کے باعث جسٹس طارق عباسی کی عدالت کو جانے والے راستے کا گیٹ بند کر دیا گیا، اس موقع پر لیگی کارکنوں کی سیکیورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی، کورونا سے بچاؤ کا ایس او پی پر عمل درآمد کی ہدایات بھی نظر انداز کردی گئیں،کیس کی سماعت کے موقع پر پولیس کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے بارے میں میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ باہر سڑکوں پرجوحالت تھی ہم بڑی مشکل سے کمرہ عدالت میں پہنچے ہیں، اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس نے رجسٹرار کو کہا کہ سڑکوں پر تماشا ختم کیا جائے، لاہورہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کے 15ریزرو دستے سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کئے گئے تھے جبکہ سادہ لباس میں بھی درجنوں سیکیورٹی اہلکار اس دوران ہائی کورٹ میں موجود رہے۔

نعرے، حفاظتی انتظامات

لاہور(نامہ نگارخصوصی ، جنرل رپورٹر)لاہورہائی کورٹ میں میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام دشمن بجٹ بنانا چاہتی ہے اور اپوزیشن کی آواز بند کرنے کے لئے انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مسائل نہیں صرف شریف برادران نظر آتے ہیں،عمران نیازی اور عثمان بزدار چینی فراڈ کی فکر کریں،ہمیں جیلوں میں بھجوانے والے خود جیلوں میں جائیں گے،وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بردار نے مل کرقومی خزانہ پر 200 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا،ہم جیلوں میں جانے سے نہیں ڈرتے،یہ بھی ایک سوال ہے کہ میاں شہباز شرف کے وارنٹ گرفتاری کیوں جاری کئے گئے،مسلم لیگ (ن) کے راہنما مریم اورنگ زیب نے کہا کہ اس وقت عوام دشمن چور حکومت مسلط ہے، چور حکومت ممکنہ عوام دشمن بجٹ پر اپوزیشن کی آواز بند کرنا چاہتی ہے،ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،کنٹینر پر ملک بھر کو بند کرنے والے شخص نے پورے ملک کو منجمد کر دیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے راہنمااحسن اقبال نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو گرفتار کرکے وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کام کر رہی ہے،حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے،ملک میں کوروناکی وبا، ٹڈی دل اور معیشت کی بدحالی بے قابو ہوگئی ہے،حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپا نے کی کوشش کر رہی ہے،ہم آمریت کا دور دیکھ چکے ہیں،پرویز مشرف دور میں ہم پیچھے نہیں ہٹے تھے تو اب یہ کیا کر لیں گے، لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کورٹ سے ریلف لینا ہر شہری کا حق ہے، حکومت شہباز شریف سے ضمانت کا حق نہیں چھین سکتی، پہلے یہ کہہ رہے تھے شہباز شریف لندن چلے جائیں گے واپس نہیں آئیں گے، شہباز شریف باہر چلے جائیں تب پرابلم واپس آ جائیں تب پرابلم، کورونا قابو نہیں آ رہا، آج بھی 4100 کیسز سامنے آ گئے ہیں، عمران نیازی کے پاس صرف ایک کام ہے کہ لوگوں کو اندر کرنا،عمران نذیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا طرز عمل آمروں سے بدتر ہے،ایسا پرویز مشرف نے بھی نہیں کیا تھا جو نیازی حکومت کررہی ہے،آج شہباز شریف کی خدمات بچہ بچہ یاد کر رہا ہے،عمران نیازی جو مرضی کرلے میاں برادران کی محبت دلوں سے نہیں نکال سکتا۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے م کہا کہ نیب شہباز شریف سے کیمروں کے سامنے تفتیش کرے تاکہ عوام کو اصل حقائق معلوم ہو سکیں، مسلم لیگ(ن) کے سینئر مرکزی نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور عظمیٰ بخاری کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہبازشریف 20ماہ سے نیب کو دس سے پندرہ مرتبہ جواب جمع کروا چکے ہیں،70دن نیب کے ریمانڈ اور بعد ازاں جوڈیشل پر رہے لیکن نیب اس عرصے میں کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا۔56کمپنیوں کی بڑی تشہیر ہوئی لیکن اس کا کیا ہوا،آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، صاف پانی سکیم کا کیا بنا؟۔جب نیب کو کچھ نہ ملے تو اس کے پاس آخری حربہ آمدن سے زائد اثاثہ جات، منی لانڈرنگ اور بے نامی رہ جاتے ہیں۔آج ثابت ہوگیا جو دس سال پنجاب کا وزیر اعلی رہا اس پر نیب سرکاری خزانے سے ایک پائی کی خرد برد کا الزام نہیں لگا سکا،شہبازشریف نے سب کچھ نیب کو دیدیا ہے اور جو بھی کچھ مانگیں گے وہ بھی دیدیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نیب کیمرے لگا کر تفتیش کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں،جو عوام کی خدمت کرتاہے اس کی تفتیش بھی عوام کے سامنے ہونی چاہیے،جب ریاست کے ادارے بد نیتی پر اتر آئیں تو تو ملک کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب چیئرمین بتائیں انہوں نے 28مئی کو شہباز شریف کے گرفتاری کے وارنٹ کیوں نکالے جبکہ شہباز شریف کو تفتیش کے لئے 2جون کو طلب کیا جارہا ہے،یہ بد نیتی نہیں تو اور کیا ہے، کیا عوام نیب کا احتساب نہیں کر سکتے، کیا یہ بدمعاشی کااڈہ ہے،کیا نیب کا کام ہر کسی پر الزام تراشی اور ہتک کرنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چیئرمین نیب کو بتاتا ہوں وہ مکان نمبر دو لین نمبر ایک زمان پارک پتہ کریں یہ کس کا اثاثہ ہے اور اسے کس نے خرچہ کر کے تعمیر کیا ہے، چیئرمین نیب وہاں بھی ٹیم بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ میں شوگر سکینڈل،گندم اور ادویات سکینڈل کا ثبوت دے رہاہوں،فارن فنڈنگ کیس چھ سال سے التواء میں ہے، بتایا جائے 13.25فیصد پالیسی ریٹ کس کے کہنے پر کیا گیا اور جو قرضے ہم سوا پانچ فیصد شرح سے لے سکتے تھے وہ 13.25فیصد پر کیوں لئے گئے، اس سے کس کو فائدہ ہوا ہے، اس کے ذریعے معیشت کو ڈبو دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ احتساب عوام کے سامنے ہو،نیب چیئرمین بتائیں کیا وہ حکومت سے ہدایات نہیں لیتے؟، حکومت کے وزیر اور ترجمان خود کہتے ہیں کہ نیب ہمارے کہنے پر کارروائی کرتا ہے، وزیر نیب کی گرفتاریوں کے حوالے سے پیشگوئیاں کرتے ہیں،۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس جج کی ویڈیو تھی سب نے دیکھ لیا وہ کس طرح بلیک ہوا، چیئرمین نیب بھی حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے تجویز ہے کہ ٹائیگر فورس کو ٹڈی دل پکڑ کر 15روپے فی کلو فروخت کرنے کے کام پر لگا دیا جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ آج پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ نیب حکومت کے فرمائشی پروگرام کو پورا کرتا ہے، حکومت چاہتی ہے کہ بجٹ کے موقع پر قائد حزب اختلاف کی موثر آواز موجود نہ ہو لیکن ہم بجٹ اجلاس میں حکومت کے سامنے کھڑے ہوں گے اور اس کی بجٹ تجاویز کو دیکھا جائے گا۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ اول -