امریکہ میں لاکھوں مظاہرین کرفیو توڑ کو سڑکوں پر آگئے واشنگٹن، نیویارک میں شدید احتجاج

  امریکہ میں لاکھوں مظاہرین کرفیو توڑ کو سڑکوں پر آگئے واشنگٹن، نیویارک میں ...

  

واشنگٹن(اظہرزمان،بیورو چیف) دارالحکومت سمیت امریکہ کے مختلف شہروں سے آٹھویں روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے رہے اور کہیں کہیں خصوصاً رات کے وقت سٹوروز میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔ واشنگٹن ڈی سی میں منگل کے روز مظاہرین ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس کے باہر پارک میں جمع ہوئے۔۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل گارڈز نے واشنگٹن ڈی سی میں کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہاں موجود مظاہرین کے سامنے دفاعی لائن قائم کر دی ہے، دارالحکومت کے علاوہ نیو یارک، لاس اینجلس، فلاڈلفیا، اٹلانٹا اور سیاٹل سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم نیو یارک کے مظاہرے پر تشدد صورت اختیار کر گئے جہاں مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں اور شاپنگ مالز میں لوٹ مار کی۔ نیو یارک میں رات آٹھ بجے سے کرفیو نافذ تھا لیکن مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بارکلے سنٹر سے بروکلن برج تک مارچ کیا۔ اس دوران فوجی ہیلی کاپٹر ان کے اوپر پرواز کرتے ہوئے آگے بڑھنے سے روکنے کے پیغام دیتے رہے۔ میں ہٹن برج پر مظاہرین پل کے داخلے راستے پر جمع ہو کر پولیس کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے کہ ”ہمیں کچل دو، ہمیں کچل دو“ صدر ٹرمپ جن کا آبائی شہر نیو یارک ہے مسلسل نیو یارک کی صورت حال مانیٹر کر رہے ہیں جنہوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں صورت حال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئی ہے۔نیوز ایجنسیوں کے مطابق امریکا میں مظاہرین کرفیو توڑ کر سڑکوں پر آگئے، واشنگٹن اور نیویارک میں لوگوں نے سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر بھرپور احتجاج کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق واشنگٹن سے لے کر ہالی وڈ تک لاکھوں لوگوں نے کرفیو توڑ کر احتجاج کیا، پولیس اہلکار کے ہاتھوں مارنے جانے والے سیاہ فام جارج فلائیڈ کی فیملی نے بھی مظاہروں میں شرکت کی۔جارج کے آبائی شہر ہیوسٹن میں ہونے والے مظاہرے میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے شرکت کی، لاس اینجلس میں پولیس اور فوجی اہلکاروں کو مظاہرین کے ساتھ گھٹنوں پر بیٹھنا پڑا، مظاہرین نے فوجیوں سے مارچ میں شرکت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔امریکی حکام نے 40 شہروں میں کرفیو لگا رکھا ہے، پینٹاگون کا کہنا تھاکہ 1600 فوجیوں کو واشنگٹن کے اردگرد کے موجود ائیر بیسز پر تعینات کر دیا گیا ہے، یہ اہلکار ہائی الرٹ درجے میں ہیں۔مظاہروں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہبی مقام کا دورہ کیا، اس موقع پر ان کی اہلیہ میلانیا بھی ساتھ تھیں، وہ چند منٹ تک پوپ کے مجسمے کے سامنے خاموش کھڑے رہے۔ ٹرمپ کے دورے کے دوران مظاہرین احتجاج کرتے رہے۔دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے مظاہروں کی روک تھام کے لیے متعدد ریاستوں میں فوج کی تعیناتی کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ نیشنل گارڈ نے اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی واشنگٹن منتقلی کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف ورجینیا کے گورنر رالف نورتھم نے پرتشدد مظاہروں کے جواب میں ریاست کے نیشنل گارڈ کے 3000 سے5000 ارکان کے درمیان واشنگٹن ڈی سی بھیجنے کی سیکریٹری دفاع مارک ایسبر کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ سیاہ فام شخص کی موت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی نہ رک سکیں جبکہ 9 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔واشنگٹن میں قانون نافذ کرنے والوں کی مدد کیلیے فوجی اہلکار بھیج دیے گئے،ادھر نیویارک میں بھی جنگ عظیم کے دوم کے بعد پہلی بار ہفتہ بھر کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کو روکنے کے لیے نیو یارک کے مین ہٹن برج پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردیں۔گذشتہ روز نیویارک میں مختلف اسٹورز اور دکانوں کو لوٹنے اور توڑپھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے تھے جس کے بعد 1500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے قتل کے ایک ہفتے بعد بھی مشتعل مظاہرے جاری ہیں اور احتجاج کا سلسلہ یورپ تک وسیع ہوگیا ہے۔۔ آسٹریلیا اور یورپ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا میں نسلی منافرت کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے جارج فلائیڈ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بالکل جائز قرار دیا۔امریکی حکام کے ردعمل سے لوگوں میں شدید انتشار کا خطرہ ھے۔امریکا کی آدھی سے زیادہ آبادی نے صدر ٹرمپ کو نسل پرست قرار دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف حالیہ سروے میں ہوا جہاں باون فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتے ہیں۔سروے میں شامل سینتیس فیصد امریکیوں کے خیال میں ٹرمپ نسل پرست نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کو حریف سیاسی جماعت ڈیموکریٹ کے سینیٹرز بھی نسل پرست قرار دے چکے ہیں۔سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کو نسل پرست سمجھنے والوں میں ڈیمو کریٹس، سیاہ فام اور لاطینی امریکنز کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ری پبلکنز میں سے بھی تیرہ فیصد نے صدر ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا۔ سفید فام امریکیوں کی اس بارے میں منقسم رائے سامنے آئی۔دوسری طرف مریکی پولیس افسر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ اچھا بول نہیں سکتے تو اپنا منہ بند رکھیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیوسٹن پولیس چیف آرٹ اسیویڈو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نوجوانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ امریکا کو آج قیادت کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ صدر ہیں، صدر بن کر رہیں، ٹی وی شو کے میزبان نہ بنیں۔ مسٹر پریزیڈنٹ، یہ ہالی ووڈ نہیں ہے، حقیقی زندگی ہے۔ مظاہرین جب تک پر امن رہیں گے پولیس ان کے ساتھ ہے۔دوسری طرف امریکا کی چالیس ریاستوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کئی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے احتجاجیوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود صحافیوں پربھی تشدد کرتے نظرآ رہے ہیں۔

امریکا احتجاج

مزید :

صفحہ اول -