اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری دیدی

        اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو فارغ کرنے کی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملزمیں کام کرنے والے تمام ملازمین کو گھر بھیجنے کی منظوری دیدی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مشیر خزانہ عبد الحفیظ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سٹیل ملز ملازمین فارغ کرنے سمیت اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ای سی سی نے سٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری دیدی،سٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈ ہینڈ شیک دیا جائے گا، 9 ہزار 350 ملازمین کو ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کیا جائیگا،پاکستان سٹیل کے ملازمین کیلئے 18 ارب کی منظوری دے دی گئی،فارغ ہونے والے ملازمین کو فی کس کم وبیش23 لاکھ روپے فی کس دیا جائیگا جبکہ پلان پر عملدرآمد کیلئے250 ملازمین کام کرتے رہیں گے۔ای سی سی اجلاس میں مختلف محکموں کی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی،ویسٹرن بارڈر مینجمنٹ کیلئے 8 ارب 84 کروڑ روپے کی تکنیکی گرانٹ منظوری دی گئی،یہ رقم سول آرمڈ فورسز کی استعداد کار بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی جبکہ اجلاس میں ایف بی آر کیلئے 20 کروڑ روپے کی تکنیکی گرانٹ بھی منظوری دی گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکسز نہیں لگیں گے، تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی توقعات پوری کرنے کی کوشش کریں گے، ملکی دفاع اولین ترجیح ہے، دفاعی بجٹ میں اضافے سمیت مسلح افواج کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی، لاک ڈاؤن کا باعث حکومتی آمدنی میں کمی ہوئی، اخراجات آمدن سے کم رکھ کر فنڈز کی کمی پوری کریں گے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کوشش کریں گے تمام ملازمین کی توقعات کو سامنے رکھ کر بجٹ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے 300سے زائد تجاویز آچکی ہیں جن میں سے 200 سے زائد بجٹ تجاویز کو قبول کیا گیا جبکہ موجودہ صورتحال میں کوشش ہے کہ بجٹ اچھا بنا سکیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ کورونا وبا آنے سے پہلے پاکستانی معیشت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہی تھی،حکومت نے پورا سال سٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا۔ حکومت نے اپنے اخراجات آمدن سے کم رکھے جبکہ گزشتہ پانچ سال میں برآمدات صفر تھیں اور کورونا وبا آنے سے پہلے ٹیکسز کی وصولی میں 17فیصد اضافہ ہوا تھا لیکن وبا کے بعد تمام وصولیاں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیکسز صحیح طریقے سے جمع کریں اور اپنے اخراجات کم سے کم رکھیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا گردشی قرضہ 2ہزار ارب روپے سے زائد ہے ملک میں اس وقت بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں۔ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ ملک میں اس وقت بجلی کی طلب 15ہزار میگا واٹ ہے جبکہ 2500ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جارہی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پٹرول پر 17فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 30روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی ٹیکس وصول کر رہی ہے جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت پٹرولیم لیوی کم کرتی ہے تاکہ عوام پر قیمتوں کے اضافے کا براہ راست بوجھ نہ پڑے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی میں کمی آرہی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات کریں۔ دفاعی بجٹ میں اضافے کی حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملکی دفاع اولین ترجیح ہے۔ دفاعی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے فیصلہ وزیراعظم کریں گے لیکن مسلح افواج کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں اضافے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

مشیر خزانہ

مزید :

صفحہ اول -