محکمہ صحت کی رپورٹ مسترد، طبی ماہرین کا لاہور میں کورونا کے 23لاکھ مریضوں کی موجودگی کادعویٰ

محکمہ صحت کی رپورٹ مسترد، طبی ماہرین کا لاہور میں کورونا کے 23لاکھ مریضوں کی ...

  

لاہور (جاویداقبال)طبی ماہرین نے محکمہ صحت کی لاہور میں 6 لاکھ 70 ہزار کورونا مریضوں کی موجود گی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں 23 لاکھ سے زائد کورونا کے مریض موجود ہیں اور اگر صحیح طریقے سے لوگو ں کی سمارٹ سیمپلنگ کی جائے تو یہ تعداد 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے کورونا کا مرکز اندرون شہر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی اور عوام کی لاپرواہی سے کوروناکے مریضوں کا طوفان آگیا۔ماہرین کے مطابق شہر کے ہر گھر میں تیز بخار، کھانسی،زکام اورجسم میں درد جیسی علامات کیساتھ کورونا مریض موجود ہیں تاہم خدا کے فضل وکرم سے80 فیصد مریض گھروں میں ہی صحت یاب ہو رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق کا پنجاب حکومت کو علم ہے تاہم کورونا کا پھیلاؤ روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کوگھروں تک محدود کیا جائے جبکہ غیر سرکاری دفاتراور مارکیٹوں میں حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کرایا جائے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد بڑھنے پر ہسپتالوں میں بیڈ کم پڑ گئے۔اس صورتحال کے حوالے سے پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ، حاجی غلام حسین منہاس،رانا شہزاد اقبال اورحافظ اکمل صادق نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت سمارٹ سیمپلنگ کو گلی محلوں تک وسیع کرے تاکہ کورونا مریضوں کی اصل تعداد سامنے آسکے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کی تعداد7 لاکھ کے قریب ہے اور ایک مریض کے ٹیسٹ پر 6000 روپے تک کا خرچہ آتا ہے جو ہر کسی کے ٹیسٹ پر خرچ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ عوام نے جس طرح ڈینگی میں جینا سیکھا اسی طرح کورو نا میں بھی جینا سیکھنا ہوگا۔

دعویٰ

مزید :

صفحہ اول -