”اور وہ خوش کہ تری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے“

”اور وہ خوش کہ تری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے“
”اور وہ خوش کہ تری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے“

  

اسے اجتماعی بدنصیبی کہا جائے یا قومی المیہ سے تعبیر کیا جائے، جو بھی نام دے دیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے یہ نعرہ مستانہ ضرورت لگاتی ہیں کہ حکومت میں آ کر ہم اپنے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے لیکن یہ کس قدر افسوس ناک ہے کہ مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی اس نعرے کی نفی اولین فرض سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں بھی معاملات کچھ اسی قسم کے ہوئے، کہا جاتا رہا کہ کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن دورِ اقتدار کے ابتدائی ایام میں ہی ہر اقدام سے سیاسی انتقام کی بو آئی اس نے سارا ماحول ہی متعفن کر ڈالا۔زیادہ تر نشانہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سیاسی مخالفین کو بنایا گیا اور نیب کا شکنجہ انہی رہنماؤں یا ان کے اقربا پر کسا جاتا رہا جو آج بھی جاری ہے۔ اس کی ایک مثال یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ نیب کی اسیری میں حمزہ شہباز کو ایک سال گزر گیا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا دعویٰ ہے، ایک روپے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا، ایک سال گزر گیا، نیب اب تک ایک بھی الزام ثابت نہیں کرپائی۔

کئی سال سے پورا شریف خاندان ہی نیب کی زد میں ہے۔ پہلے نوازشریف اور ان کی اولاد پر کیس چلے۔ اس کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کے خاندان کی باری آگئی۔شہبازشریف کے سیاسی وارث اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ایوان کے اندر اور باہر گرجنا برسنا شروع کیا تو ان کی بھی انکوائریاں لگ گئیں۔ نیب نے سب سے پہلے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی وضاحت مانگی، پھر کہا، حمزہ شہباز کو مشکوک اکاؤنٹ سے بیرون ملک سے ٹرانزیکشنز کی گئیں، رمضان شوگرملز کے لیے ایک نالہ تعمیر کرانے کا بھی الزام لگایا گیا، نیب کے بقول قومی خزانے کو اس نالے کی تعمیر سے 21 کروڑ تیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

گزشتہ برس 5 اپریل 2019 کو نیب کی ٹیم حرکت میں آئی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے شہبازشریف کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے جا پہنچی، کئی گھنٹے تک گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن حمزہ شہباز کو گرفتار کیے بغیر ہی واپس جانا پڑا۔ اگلے روز چھ اپریل کو ایک بار پھر نیب کی ٹیم نے ماڈل ٹاؤن میں رہائش گاہ 96 ایچ کا محاصرہ کرلیا۔ چار گھنٹے تک نیب ٹیم اور لیگی کارکن آمنے سامنے رہے۔ اس دوران حمزہ شہباز کی دائر درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم نے 8 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالتی حکم آنے پر نیب ٹیم کو ایک بار پھر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ 8 اپریل کو حمزہ شہباز خود لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے جس پر انہیں 17 اپریل تک ضمانت دے دی گئی اور بعد میں کئی بار اس میں توسیع کی جاتی رہی۔ 11 جون کو ایک بار پھر ضمانت میں توسیع کیلئے حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں تھے جب عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے، جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے، جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے درخواست واپس لے لی، اور اپنے وکلا کے ساتھ مشاورت کے بعد حمزہ شہباز نے احاطہ عدالت میں نیب کو گرفتاری دے دی۔

نیب کا موقف ہے کہ حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز کے لیے ایک نالہ تعمیر کروایا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ حمزہ شہباز کا کہنا ہے، 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کی سہولت کی خاطر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا۔

نیب کے مطابق، حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور پھر 2019 میں 20 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کر دیے۔ نیب نے الزام لگایا کہ حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ بھی کی اور مشکوک اکاؤنٹ بھی سامنے آیا ہے، یہ مشکوک رقوم منتقل کرنے میں پاکستان سے دو کمپنیاں ملوث ہیں جبکہ بیرون ملک بھی کمپنیاں ملوث ہیں۔

11 جون کو حمزہ شہباز کی گرفتاری کے بعد ظاہر یہ کیا جارہا تھا کہ نیب کے پاس سارے ثبوت موجود اور تحقیقات مکمل ہیں لیکن پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی گرفتاری کے بعد ساری تحقیقات اور انکشافات ریت کا ڈھیر ثابت ہونے لگے۔ ریفرنس کا انتظار طویل سے طویل تر ہونے لگا۔ آخر کار پنجاب اسمبلی کے اجلاس ہوگئے اور خاصی مزاحمت کے بعد حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے لگے۔ عدالت میں پیشیاں بھی جاری رہیں، ایک پیشی پر حمزہ شہباز نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ اگر ان کے خلاف ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہوگئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، اور پیشکش کی کہ ان کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

حمزہ شہباز کی پیش کش پر کسی نے دھیان دیا اور نہ ہی نیب ابھی تک اپنا لگایا کوئی ایک الزام بھی ثابت کرپائی ہے۔ ایک سال گزرچکا ہے نیب کی کارروائی کو۔ نیب کی گرفتاری کے لیے پھرتی اور کارروائی کے لیے سستی کو دیکھ کر یہ احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان گہرا ہوتا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کا یہ بیانیہ بھی مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -